اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے زیر اہتمام انڈس اے آئی سمٹ 2026 پیر کو جناح کنونشن سینٹرمیں کامیابی سے اختتام پذیر ہو گیا۔ انڈس اے آئی سمٹ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال بھی موجود تھے جنہوں نے عالمی ماہرین اور صنعتی رہنمائوں کے خصوصی اجتماع کے سامنے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے قومی سٹریٹجک سمت کے تعین کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔اس سمٹ نے،جو انڈس اے آئی ویک (9 تا 15 فروری) کا سٹریٹجک مرکز ہے، پاکستان کے اے آئی عزائم کو پالیسی سے عملی نفاذ کی جانب منتقل کیا۔ مندوبین نے شواہد پر مبنی فریم ورکس، بین الاقوامی تعاون اور قومی اے آئی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر مرکوز اعلیٰ سطحی مکالموں میں حصہ لیا۔سمٹ کا ایک نمایاں لمحہ اسلام آباد ڈیکلریشن کا باضابطہ اعلان تھا۔ یہ تاریخی دستاویز
قومی ارادے کا ایک جامع بیان ہے جو خودمختار اے آئی اور مصنوعی عمومی ذہانت (اے جی آئی)کے لیے پاکستان کے بنیادی اصولوں اور عملی ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔یہ اعلامیہ آٹھ سٹریٹجک ستونوں پر مبنی ہے جن میں خودمختار مقصد اور قابل پیمائش عوامی قدر، آئینی اختیار کے تحت انسانی جوابدہی، عملی استعمال پر مبنی ترجیحی فراہمی، خودمختار ڈیٹا پرائیویسی اور اعتماد، قابل وضاحت، قابل جانچ اور محفوظ اے آئی، اے آئی حکمرانی کے لیے پورے حکومتی نظام کا نقطہ نظر، جامع اور ذمہ دارانہ جدت اور نجی شعبے کی قیادت میں خودمختار اور اوپن اے آئی ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔ اسلام آباد ڈیکلریشن کو حکومت کی تمام سطحوں اور وسیع تر معیشت میں عملی نفاذ کی رہنمائی کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی اے آئی ترقی اخلاقی، محفوظ اور خودمختار مفادات سے ہم آہنگ رہے۔انڈس اے آئی سمٹ 2026 کا اختتام ’’نیکسٹ سٹیپس: امپیکٹ آف دی ویک‘‘ کے عنوان سے ایک حتمی پینل پر ہوا جس کی نظامت زرار خان نے کی اور اس میں ڈاکٹر سہیل منیر اور سجاد سید (چیئرمین پاشا) شامل تھے۔سمٹ کے اختتام کے ساتھ ہی وسیع تر انڈس اے آئی ویک کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔اب توجہ اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس میں قائم انوویشن، لرننگ اور انگیجمنٹ ایرینا کی جانب منتقل ہو گئی ہے جہاں عوام، طلبہ اور سٹارٹ اپس عملی اے آئی مظاہروں میں حصہ لیں گے۔ انڈس اے آئی ویک 2026 ملک بھر میں 15 فروری تک جاری رہے گا جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان قومی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے ایک اہم محرک کے طور پر مصنوعی ذہانت کو اپنانے کے لیے تیار ہے۔
