کراچی ( نمائندہ خصوصی) سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے ڈائریکٹر جنرل سیپا وقار حسین پھلپوٹو کی ہدایات کے تحت اسپتالوں کے فضلے کے درست انتظام کے لیے تربیتی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کی پہلی تربیت لیاری جنرل اسپتال میں منعقد ہوئی، جس کا مقصد اسپتالوں میں فضلہ سنبھالنے کے طریقے بہتر بنانا اور صحت و ماحول کو ممکنہ نقصان سے بچانا ہے۔اس تربیت میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو آسان الفاظ میں بتایا گیا کہ اسپتال کا فضلہ کہاں سے پیدا ہوتا ہے اور آخر میں اسے محفوظ طریقے سے کیسے ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ عملے کو یہ بھی سکھایا گیا کہ فضلے کو الگ الگ کیسے جمع کرنا ہے، کہاں رکھنا ہے اور کس طرح تلف کرنا ہے، جیسا کہ وارڈز، لیبارٹریوں اور آپریشن تھیٹرز میں روزمرہ کی
بنیاد پر ہوتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل سیپا وقار حسین پھلپوٹو کے مطابق سیپا ماحولیاتی قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آگاہی اور تعلیم کو بھی یکساں اہمیت دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتالوں کے فضلے کے انتظام جیسے تربیتی اقدامات آلودگی پر قابو پانے اور پائیدار ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔تربیت میں خاص زور اس بات پر دیا گیا کہ فضلہ وہیں الگ کیا جائے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے۔ عملے کو مختلف رنگوں کے ڈبوں کے استعمال کے بارے میں بتایا گیا، جن میں عام کچرا، آلودہ پلاسٹک، انفیکشن اور مرض پھیلانے والا فضلہ، شیشے کی اشیاء اور سوئیاں شامل ہیں، اور یہ وضاحت کی گئی کہ ہر قسم کا فضلہ کس مخصوص ڈبے میں ڈالنا لازم ہے۔شرکاء کو سادہ انداز میں یہ بھی سمجھایا گیا کہ ہر قسم کے فضلے کو مختلف طریقوں سے کیوں ٹھکانے لگایا جاتا ہے، جیسے کچھ فضلہ بھاپ کے ذریعے جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے، کچھ کو شدید
درجہ حرارت میں جلا کر ختم کیا جاتا ہے، شیشے کی اشیاء کو صاف کرنے کے بعد ری سائیکلنگ کے لیے بھیجا جاتا ہے، جبکہ ناقابلِ استعمال فضلہ محفوظ طریقے سے زمین میں دفن کیا جاتا ہے۔ سوئیوں اور نوکیلی اشیاء کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ چوٹ اور بیماری کے خطرات سے بچا جا سکے۔اس کے علاوہ طبی عملے کو اپنی ذاتی حفاظت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں دستانوں اور دیگر حفاظتی سامان کا استعمال شامل ہے، اور یہ بھی بتایا گیا کہ فضلے کے غلط انتظام سے بیماریوں کے پھیلاؤ اور ماحولیاتی آلودگی کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔یہ تربیت سیپا کے افسران نے فراہم کی، جنہوں نے ماحولیاتی قوانین کے ساتھ ساتھ عملی طریقۂ کار بھی تفصیل سے بیان کیا تاکہ اسپتالوں میں ان پر مؤثر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔سیپا کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ اسپتالوں کا فضلہ محض صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین صحتِ عامہ اور ماحولیاتی مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے طبی عملے کی مناسب تربیت ناگزیر ہے۔ ادارے نے محکمہ صحت، حکومتِ سندھ کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت صوبے کے دیگر سرکاری و نجی اسپتالوں میں بھی ایسی تربیتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

