اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور قازقستان سیاسی اور معاشی شعبوں سمیت علاقائی ڈومین میں تعاون کے فروغ کےلئے مضبوط عزم رکھتے ہیں، پاکستان امن، کنیکٹوٹی اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کےلئے قازقستان کے ساتھ قریبی اشتراکِ عمل کے لئے تیار ہے۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بدھ کی شام یہاں ایوانِ صدر میں ان سے ملاقات کی۔ ایوان صدر میں ایک خصوصی پروقار تقریب میں صدرِ مملکت نے پاکستان اور قازقستان کے مابین تعلقات کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں قازقستان کے صدر کو نشانِ پاکستان کے اعزاز سے نوازا۔دونوں صدور کے مابین پہلے بالمشافہ ملاقات ہوئی جس کے دوران اہم دو طرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر تفصیلی ملاقات ہوئی۔ قازقستان کے ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور علاقائی خوشحالی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر قاسم جومارت توکایووف کا یہ دورہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد قازقستان کے کسی صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہے، دو طرفہ تعلقات کو نئی روح بخشنے اور سیاسی خیرسگالی کو عملی نتائج میں ڈھالنے کا بروقت موقع فراہم کرتا ہے جس کےلئے تعاون کے فروغ اور مضبوط ادارہ جاتی روابط ناگزیر ہیں۔
اقتصادی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے کہا کہ اگرچہ حالیہ برسوں میں دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوا ہے تاہم یہ اب بھی اپنی اصل صلاحیت سے کہیں کم ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ روڈمیپ برائے تجارتی و اقتصادی تعاون 2025–2027، ٹرانزٹ ٹریڈ ، کسٹمز تعاون اور بینکاری سے متعلق معاہدے عملی رکاوٹوں کے خاتمے اور تجارت، سرمایہ کاری اور بزنس ٹو بزنس روابط کےلئے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے توانائی، زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار جیسے شعبوں میں پاکستان کی سہولیات اور فریم ورکس سے استفادہ کرنے کی اہمیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان۔قازقستان تعلقات کے فروغ میں علاقائی رابطہ سازی کی مرکزی حیثیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے ریلوے اور سڑکوں کے روابط میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کاسا ریلوے الائنمنٹ پر تعاون اور چار فریقی ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت راستوں کے موئثر استعمال کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ بہتر فضائی روابط اور پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی کے ساتھ مضبوط کنیکٹوٹی نہ صرف دو طرفہ تجارت میں اضافہ کرے گی بلکہ وسیع تر علاقائی انضمام اور معاشی استحکام میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ دونوں رہنمائوں نے کثیر تعداد میں دو طرفہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اور باہمی روابط کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ پیش رفت دو طرفہ تعلقات کو نئی رفتار دے گی اور اقتصادی تعاون کی غیر استعمال شدہ وسیع صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد کرے گی۔ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے امن، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کےلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے میں استحکام کے فروغ کےلئے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی چیلنجز کا حل محاذ آرائی کے بجائے تعاون کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ قازقستان پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور اس شراکت داری کو علاقائی تعاون کا ایک اہم ستون سمجھتا ہے۔ انہوں نے دو طرفہ تعلقات کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کنیکٹوٹی کے فروغ، اقتصادی تعاون میں وسعت اور خطے میں امن و استحکام کےلئے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وفد میں قازقستان کے ممتاز کاروباری رہنما، جن میں تین ارب پتی شخصیات بھی شامل ہیں، شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف قابلِ حصول ہے۔ انہوں نے قازقستان میں پاکستانی طلبہ اور سیاحوں کی تعداد میں اضافے کا بھی خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنمائوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ دورہ پاکستان۔قازقستان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔انہوں نے کنیکٹوٹی، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے مشترکہ اہداف کے فروغ کےلئے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔تفصیلی ملاقات میں قازقستان کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل بیرک اسائیلوف، سامروک۔قازینہ جے ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نورلان زاکوپوف ، نائب وزیرِ اعظم اوروزیرِ قومی معیشت سیرک ڑومانگارین، صدر کے مشیر برائے بین الاقوامی امور ارنار لازر، پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن، وزیرِ دفاع داورین کوسانوف، وزیرِ سائنس و اعلیٰ تعلیم سیاسات نوربیک، وزیرِ تجارت ارمان شقالیئیف، وزیرِ ٹرانسپورٹ نورلان سوران بایوف اور صدر کے مشیر ماگزم مرزاغایف شریک تھے۔پاکستان کی جانب سے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی، سینیٹر شیری رحمان، رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے شرکت کی۔ ملاقات میں سیکرٹری خارجہ اور قازقستان میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے۔بعد ازاں ایک خصوصی پروقار تقریب میں صدرِ مملکت نے پاکستان۔قازقستان تعلقات کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کو نشانِ پاکستان کے اعزاز سے نوازا۔ تقریب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، وفاقی کابینہ کے اراکین، سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، سفارتی کور کے اراکین اور پارلیمنٹرینز نے شرکت کی جس کے بعد ایوانِ صدر میں مہمانِ خصوصی کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔


