تربت ( مانیٹرنگ ڈیسک) سرکاری اسکالر شپ پر پڑھنے والا دہشتگرد سلیم گزشتہ شب تربت میں مارا گیا ۔ سلیم نرگس بلوچ کے اغواہ میں ملوث تھا ۔ وہی شخص جسے 2023 میں بی وائی سی نے “مسنگ پرسن” قرار دے کر ملک گیر احتجاجی مہم چلائی تھی۔ سلیم بلوچ 24 جون 2000 کو تربت میں پیدا ہوا، 2020 میں بی اے (تاریخ) مکمل کیا، اور سرکاری اسکالرشپ پر 2021 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایم اے تاریخ میں داخلہ لیا، مگر ایک سال بعد واپس کیچ آ کر کالعدم تنظیم BLA-A میں دوبارہ
متحرک ہو گیا۔ دستاویز کے مطابق یہ “تیز اور ذہین تھا اور ضلع کیچ میں بڑا اثر و رسوخ رکھتا تھا۔اسی لئے بی ایل اے نے اس کو ٹارگٹ کیا اور یہ اس کا حصہ بن گیا اور پہاڑوں پر چلا گیا لیکن بی وائی سی نے اس کو لاپتہ قرار دے دیا اور کہاکہ اس کو ایجنسیوں نے اغواہ کیا ہے اور پھر جولائی 2023 میں تربت اور لاہور میں طلبہ و سماجی کارکنوں نے سلیم بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف ریلیاں نکالیں بی وائی سی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے اسے ریاستی جبر کی مثال بنا کر پیش کیا۔اسی کے تناظر میں دسمبر 2023 کا “لانگ مارچ” ہوا جس میں بی وائی سی نے اسلام آباد تک 1,600 کلومیٹر مارچ کیا اور سینکڑوں خاندانوں کی قیادت میں دھرنا دیا۔لیکن سلیم بازیاب نہ ہوا ۔ ہوتا بھی کیسے وہ پہاڑوں پر ٹریننگ کررہا تھا اور سلیم کی تربت میں ہلاکت بی وائی سی جیسے گروہوں کے لئے سوالیہ نشان ہے کہ وہ ہر دہشتگرد کو لاپتہ قرار دیکر بی ایل اے کی سہولتکاری کرتے ہیں ۔
