راولپنڈی ( نمائندہ خصوصی):ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ مفاہمت یا مذاکرات سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست کی مکمل عسکری قوت اور طاقت سے جیتے گا۔انہوں نے سال 2025 کو اس جنگ میں ایک ‘تاریخی موڑ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ریاست اور عوام کے درمیان اس فتنے کے خاتمے کے حوالے سے کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ منگل کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ان
کارروائیوں میں 2 ہزار 597 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا جبکہ 1 ہزار 235 سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ترجمان پاک فوج نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات (3 ہزار 811 واقعات) کی بنیادی وجہ وہاں فراہم کیا جانے والا “سازگار سیاسی ماحول” اور سیاسی پشت پناہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب فیلڈ مارشل نے خود پشاور مسجد کے ملبے پر کھڑے ہو کر واضح موقف دیا، تو سیاسی سطح پر مزاحمت کیوں کی جا رہی ہے؟لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ 2021 میں افغانستان میں تبدیلی اور
دوحہ معاہدے کے بعد دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ افغان طالبان نے افغان سرزمین استعمال نہ ہونے اور خواتین کی تعلیم جیسے تین بڑے وعدے کیے تھے جو پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کی شوریٰ کے دوسرے بڑے کمانڈر امجد علی سمیت 16 ہائی ویلیو ٹارگٹس کو ختم کیا گیا۔انہوں نے 2025 کے 10 بڑے واقعات کا ذکر کیا جن میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی اور خضدار میں بسوں پر حملے، ڈی آئی خان پولیس اسکول اور کیڈٹ کالج وانا پر حملے شامل ہیں۔ ان تمام حملوں میں افغان شہری ملوث پائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت “آپریشن سندور” کے ذریعے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے جس کی کالک اس کے منہ پر ہے، جبکہ پاکستان نے “معرکہ حق” میں بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ترجمان نے بتایا کہ خوارج مساجد اور گھروں کو انسانی ڈھال بنا کر مسلح کواڈ کاپٹرز استعمال کر رہے ہیں، جن کی ٹیکنالوجی اور فنڈنگ بھارت فراہم کرتا ہے۔ صرف کے پی سے 405 کواڈ کاپٹر حملے رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز آبادی والے علاقوں میں کواڈ
کاپٹر استعمال نہیں کرتیں تاکہ کوئی ضمنی نقصان نہ ہو۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ نظرثانی شدہ این اے پی کے تحت غیر قانونی مقیم افغانوں کی واپسی جاری ہے؛ پنجاب اور بلوچستان کے تمام کیمپ صاف کر دیے گئے جبکہ کے پی میں 43 میں سے صرف 5 کیمپ صاف ہوئے۔ انہوں نے کے پی میں غیر قانونی کان کنی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 5 ہزار سے زائد معدنی لائسنس کس نے جاری کیے؟دوسری جانب بلوچستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ روک کر سیاسی دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو توڑا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں ضلعی کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے ذریعے 31 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام
جاری ہے، جہاں 127 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔کراچی میں ایک بڑا دہشت گرد حملہ روکا گیا اور نیشنل انٹیلی جنس فیوژن سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بے نقاب ہو چکے ہیں۔ پاک فوج آئینی طور پر ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی پابند ہے اور دہشت گردی کے سہولت کاروں کو آخری کونے تک ڈھونڈ کر جہنم واصل کیا جائے گا۔
