کراچی( ادبی رپورٹر) نسائی ادب پر کتاب تریمت کتھا ڈاکٹر سعدیہ کمال کا قابل ستائش اقدام ہے جس میں نہ صرف وسیب، مٹی بلکہ سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا جیسے سماج کے فرسودہ نظام میں جکڑی خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے. ان خیالات کا اظہار مقررین نے کراچی پریس کلب کے اشتراک سے اسلام آباد کی سینئر صحافی ݙاکٹر سعدیہ کمال کی کتاب تریمت کتھا کی تقریب رونمائی میں کیا. کراچی پریس کلب میں ڈاکٹر توصیف احمد کی زیر صدارت منعقدہ تقریب میں ادیب وشاعر عثمان جامعی، ڈاکٹر محبوب تابش، قاضی آصف، تسلیم، اکرام، ڈاکٹر جے پال چھابڑیا اور نسرین گل نے خطاب کیا جبکہ
نظامت کے فرائض فہمیدہ یوسفی نے ادا کئے.اس موقع پر سینئر صحافی طاہر نور، عبدالرحمٰن، حمیداللہ عابد ارشد بیگ، نصیر احمد، شبیر سومرو، سعید انور بونیری، کامران لاشاری، اختر شاہین رند، نعیم اختر، حمید اشرفی، زاہد عباس خان، کرم اختر، شہر بانو، شائستہ بخاری، خورشید انجم، کامریڈ رؤف خان لونڈ، رمضان قادر، راشد عزیز بھٹہ، خورشید پہوڑ، خلیل فریدی، رضوان قلندری، حاتم خان ایڈووکیٹ، عابد بزدار ، شکیل کانگا ، انیس حیدر، عبداللہ سروہی ، راشد خان اور دیگر موجود تھے. ڈاکٹر توصیف احمد نے کہا کہ جہاں سماج میں عورت کو تسلیم نہیں کیا جاتا وہاں عورت نے زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی
صلاحیتوں کا لوہا منوایا، تریمت کتھا واحد کتاب ہے، جس میں پانچ زبانوں ( سرائیکی، پنجابی ، سندھی ، بلوچی اور پشتو )کی خواتین افسانہ نگاروں کے افسانے اردو میں لکھے گئے. ڈاکٹر توصیف احمد نے کہا کہ معاشرے میں عورت کے بغیر ترقی ممکن نہیں، ڈاکٹر سعدیہ کمال کا یہ تخلیقی کام نسائی ادب میں خوشگوار اضافہ ہے. معروف ادیب وشاعر عثمان جامعی نے کہا کہ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے تریمت کتھا میں اس خطے کی پانچ زبانوں کے نسائی ادب سے متعلق سماجی رجحانات اور حقائق کے اعتبار سے مضوعات میں اشتراک و یک رنگی کا اختصار کے ساتھ تجزیہ کرتے ہوئے قارئین کو باور کروایا ہے کہ ہماری دھرتی پر عورتوں کے دکھ لگ بھگ سانجھے ہیں، یہ کتاب نسائی ادب کی جہتوں، مضوعات اور معیار سے سرسری واقفیت فراہم کرتی ہے جس
سے مزید جاننے کا جذبہ تحریک پاتا ہے. ڈاکٹر محبوب تابش نے کہا کہ پانچ زبانوں کے نسائی ادب کی پر مشتمل ڈاکٹرنسعدیہ کمال کی کتاب تریمت کتھا ادبی میدان میں شاندار اضافہ ہے. آخر میں مصنفہ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کراچی ہریس کلب، مہمانان گرامی اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تریمت کتھا طلباء کے لئے تحقیق کرنے میں بنیادی حوالہ ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یر مرد ظالم ، حاکم اور جابر نہیں ہوتا اور اسی طرح ہر عورت مظلوم ، محکوم اور کمزور نہیں ہوتی ۔ اس حقیقیت سے انکار ممکن نہیں کہ خواتین آج ادبی میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور انشااللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا.













