حیدرآباد (رپورٹ) حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی میزبانی میں حیدرآباد پریس کلب میں "میڈیا کے قوانین، ریگولیشنز اور اخلاقیات” کے موضوع پر ریجنل جرنلسٹس کنونشن منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی، قوم پرست، مذہبی جماعتوں، انسانی حقوق کے نمائندوں نے پیکا ایکٹ کو میڈیا پر مارشل لاء کے مترادف سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے آزادئی اظہار اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے ساتھ صحافتی آزادی کی تحریک میں ہر قدم پر ساتھ
دینے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر افضل بٹ نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں، عام شہریوں کے خلاف قانونی کارروائیاں شروع کی جا چکی ہیں، پی ایف یو جے پیکا ایکٹ میں آزادی اظہار، صحافتی اخلاقیات سے متعلق مثبت ترامیم کے لیے سندھ سمیت پورے ملک کے صحافیوں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، وکلا برادری سے مشاورت کر کے تجاویز حاصل کر رہی ہے تاکہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکا جا سکے صحافت کی آزادی و صحافیوں کے تحفظ کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ افضل بٹ نے مزید کہا جب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر
پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو اس کی جگہ ڈیجیٹل میڈیا لے لیتا ہے، جس کا بعض عناصر غلط استعمال کر کے صحافت کو بدنام کر رہے ہیں، پی ایف یو جے نے پہلے دن سے ہی پیکا ایکٹ کو مسترد کیا مگر صرف مسترد کرکے خاموش بیٹھنا حل نہیں، پی ایف یو جے کے احتجاج کے بعد حکومت کو صحافیوں سے بات چیت پر مجبور ہونا پڑا، پی ایف یو جے نے فیصلہ کیا صرف مخالفت کافی نہیں، بلکہ سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اپنا مسودہ تیار کر کے سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھا جائے۔ آج مشاورت کا آغاز ہے، اختتام نہیں ہم کسی صورت پیکا ایکٹ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ پی ایف یو جے مرکزی سیکریٹری جنرل ارشد انصاری نے کہا حیدرآباد میں آج کا کنونشن میڈیا قوانین میں اصلاحات کی شروعات ہے، سوشل میڈیا ایک بے لگام گھوڑا ہے، جس کے لیے
قواعد و ضوابط ضروری ہیں ہمیں صحافتی اخلاقیات سے آگاہ ہونا چاہیے، پی ایف یو جے پہلے بھی ایسے قوانین کو مسترد کر چکی ہے قلم پر پابندی لگانے والے قوانین کبھی قبول نہیں کیے جائیں گے اگر حکومت صحافیوں کی تجاویز تسلیم نہ کرے تو پی ایف یو جے تحریک کا لائحہ عمل طے کر کے سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کرے گی۔ پی ایف یو جے مرکزی سینئر نائب صدر خالد کوکر نے کہا پیکا قانون پورے ملک کے عوام کو متاثر کرے گا اس کے ذریعے حکومت مخالف یا طاقتور حلقوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سزا دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پی ایف یو جے سینئر رہنما ناصر زیدی نے کہا سیاہ قوانین کے خلاف ہمیشہ احتجاج ہوتا رہا ہے، مگر یہ یاد رکھنا چاہیے جو قانون بن جاتا ہے وہ ملک کا قانون بن جاتا ہے، اس کنونشن کا مقصد علاقائی سطح پر پیکا ایکٹ سے متاثر صحافیوں کا مؤقف سننا ہے۔ انہوں نے زور دیا صحافی کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر رپورٹنگ کرنی چاہیے خود
احتسابی کی ضرورت ہے، پیکا ایکٹ سمیت تمام میڈیا قوانین پر نظرثانی ضروری ہے جرنلسٹ ویلفیئر قانون صحافیوں کے لیے ایک مثبت قانون ہے جس میں پی ایف یو جے نے بڑی محنت کی ہے۔ نامور صحافی و پی ایف یو جے مرکزی رہنما مظہر عباس نے کہا وہ اس قانون کو میڈیا مخالف سمجھتے ہیں اس میں ترمیم کے بجائے اسے واپس لینا چاہیے، میڈیا پر پابندیاں ڈیجیٹل میڈیا کو فروغ دیتی ہیں پابندی دراصل آزادی کو جنم دیتی ہے، انہوں نے آرٹیکل 19 میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا۔ پی ایف یو جے مرکزی رہنما اقبال ملاح نے کہا سندھ مزاحمت کی دھرتی ہے آج پاکستان کی سیاست میں سندھ کے صحافیوں کا اہم کردار ہے۔ سندھ ترقی پسند پارٹی چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا صحافیوں کی تحریک کو انسانی آزادیوں کی تحریک بنانا ہوگا ایس ٹی پی ہر قدم پر صحافیوں کے ساتھ رہے گی۔ جیئے سندھ محاذ چیئرمین ریاض چانڈیو، سندھ یونائٹیڈ پارٹی نائب صدر روشن
علی برڑو، عوامی تحریک نور احمد کاتیار، عوامی ورکرز پارٹی بخشل تھلہو، جماعت اسلامی ضلعی امیر حافظ طاہر مجید، ایچ آر سی پی غفرانہ آرائیں، ویمن ایکشن فورم حسین مسرت شاہ، سید صدف بخاری دیگر مقررین نے بھی پیکا ایکٹ کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ کنونشن کو کمیونٹی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن صدر جان اوڈھانو، ایچ یو جے صدر وسیم خان، جنرل سیکریٹری جام فرید لاکو نے بھی خطاب کیا۔ ایچ یو جے سینئر رہنما جے پرکاش مورانی نے میڈیا قانون کے بارے میں پریزنٹیشن دی۔ تقریب میں پی ایف یو مرکزی رہنما لالا رحمان سموں، حیدرآباد پریس کلب جنرل سیکریٹری اشوک شرما، ایچ یو جے رہنماؤں منصور مری، جانی خاصخیلی،تنویر احمد آرائیں ، ولی محمد لنڈ، عرفان برفت، شفیع محمد جونیجو، خدا بخش بروہی، رجب بوزدار، شبیر بھٹی، الطاف میمن، اعجاز لغاری، عبدالرسول چانڈیو، نیاز وگھیو، وفا رضا، ونود کمار، فاضل چنا، فیصل ڈاہری، علی جان لغاری، حسیب لطیف، راشد لغاری، شاہنواز خاصخیلی، مقبول ملاح، عتیق ملاح، حسنین علی شاہ، سبطین شاہ سمیت سندھ بھر سے صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔








