اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی دنیا کے لئے ایک سنگین خطرہ برقرار ہے اور اس کے خاتمے کے لئے نہ صرف سکیورٹی اقدامات بلکہ پارلیمانی تعاون، مالی نگرانی اور اجتماعی سیاسی عزم کی بھی ضرورت ہے۔ بدھ کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق 2روزہ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی جبکہ اسلام آباد اعلامیہ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا،چیئرمین سینیٹ و بانی چیئرمین آئی ایس سی سید یوسف رضا گیلانی نے دہشت گردی کو بڑا چیلنج قرار دیا۔ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دہشت گردی دنیا کے لئے ایک سنگین خطرہ برقرار ہے اور اس کے خاتمے کے لئے نہ صرف سکیورٹی اقدامات بلکہ پارلیمانی تعاون، مالی نگرانی اور اجتماعی سیاسی عزم کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسلام آباد اور وانامیں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی۔ چیئرمین سینیٹ نے ’’مشترکہ حکمت عملی، باہمی تعاون اور ہم آہنگ عالمی تعاون‘‘ کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی عظیم قربانی کو نمایاں ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور’’دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ انسانیت کے دشمن ہیں ‘‘۔سید یوسف رضا گیلانی نے ’’عالمی امن، استحکام اور مکالمے‘‘ کے لئے پاکستان کے عزم کی تجدید کی ،جس میں پارلیمانوں کے کردار کو باہمی تفہیم اور تعاون کو فروغ دینے میں مرکزی قرار دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے موسمیاتی
تبدیلی کے عالمی چیلنج کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کی تیز رفتار انسانی بقا ء کے لئے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ انہوں نے دہشت گردی، شدت پسندی، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی بحرانوں جیسے موجودہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اجتماعی عالمی حکمت عملی کی اپیل کی۔ انہوں نے پارلیمانوں کے کردار کو اہم اور کلید ی قرار دیا۔ کانفرنس کے اختتامی سیشن کے دوران، چیئرمین سینیٹ نے اسلام آباد اعلامیہ بھی پیش کیا جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔اس اعلامیہ کے چید ہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد اعلامیہ متفقہ طور پر منظور کیا گیا جس میں دنیا بھر کے پارلیمانوں کے سپیکرز نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مسلمہ اصولوں کے تحت امن، سلامتی اور جامع ترقی کے تصورات سے اپنے غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔ شرکا ء نے اس بات کا ادارک کیا کہ آج کی دنیا پیچیدہ اور تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے دوچار ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پارلیمانیں مکالمے قانون سازی میں جدت، بین الاقوامی رابطہ کاری اور پارلیمانی سفارتی کاری کے ذریعے ان مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ عالمی سطح پر باہمی جڑے ہوئے مسائل کے حل مشترکہ موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے اجتماعی پارلیمانی عمل ناگزیز ہے تاکہ عوام کی ترقی ممکن ہو سکے۔اسلام آباد اعلامیے میں بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے مینڈیٹ اور پارلیمانی سفارتکاری کی توثیق کی گئی جس میں شرکا نے آئی ایس سی کو بامعنی پارلیمانی مکالمے، تبادلہ خیال اور اراکین پارلیمنٹ کی استعداد کار بڑھانے کا اہم پلیٹ فارم تسلیم کیا اور یہ عزم کیا کہ مفاہمتی یاداشتوں، مشترکہ کمیٹیوں، پارلیمانی کاکسز،نوجوان پارلیمنٹرین کے خصوصی فورمز، ادارہ جاتی شراکت داری اور باہمی اعتمادکے فروغ کے ذریعے بین الپارلیمانی تعاون کو مضبوط کیا جائے گا۔انہوں نے آئی ایس سی کوایک ایسے موثر فورم کے طورپر مستحکم کرنے کا اظہار کیا جہاں پارلیمانین پائیدارترقی،تنازعات کے حل، موسمیاتی تبدیلیوں کامقابلہ کرنے،پانی،خوراک اور صحت کاتحفظ جیسے مسائل پر تجربات کاتبادلہ اور پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کا حل اور منصفانہ و پائیدار عالمی نظام کی بنیاد مضبوط کرنے میں پارلیمانی سفارتکاری کے کردار پر زور دیا۔ اعلامیے میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ پائیدار ترقی دیر پا امن کے بغیر ممکن نہیں اور امن انصاف، مساوات اور جامع سماجی و اقتصادی ترقی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اعلامیے میں پارلیمانوں کے کلیدی کردار کی توثیق کی گئی تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسدار ی، انسانی حقوق کے فروغ اور اقوام کے جائز حق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اعلامیہ میں ان پارلیمانی اقدامات کی بھی حمایت کی گئی جو دیرینہ تنازعات کے پر امن حل، قانون کی حکمرانی اورمکالمے مفاہمت اورشراکت کو یکطرفہ اقدامات اور تنازعات پر ترجیح دیتے ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں مصالحت، ثالتی اور فعال پارلیمانی سفارتکای کے فروغ پر زوردیا تاکہ اعتمادسازی،سیاسی و ثقافتی خلیجوں کو کم کرنے اور تنازعات میں کمی کے لئے موثر بنیادیں قائم کی جا سکیں۔ اس بات کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی کہ غربت، موسمیاتی دباؤ اور علاقائی تنازعات جیسے عدم استحکام کے عوامل کے تدارک کے لئے پارلیمانیں اتفاق رائے اور پائیدار ترقی پر مبنی تعاون کو فروغ دیں تاکہ ایک مستحکم اورباہمی احترام پر مبنی ایک عالمی معاشرہ تشکیل پا سکے۔اعلامیے میں یہ عہد کیا گیا کہ قومی و علاقائی ایجنڈوں کو پائیدار ترقی کے اہداف 2030 کے مطابق تشکیل اور ان پر عملدرآمد کی پارلیمانی نگرانی کو یقین بنایا جائے گا۔ شرکا نے کمزور اور محروم طبقات کے ساتھ خصوصاً خواتین، نوجوانوں، معذور افراد اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں کو سماجی ومعاشی طور پر با اختیار بنانے کیلئے قانون سازی کے عمل کو مضبوط کرنے کے عزم کے ساتھ ساتھ ایسے ترقیاتی ایجنڈوں کی حمایت کی جو مستقبل پر مبنی ایک جامع مضبوط اور ماحول دوست ہوں اور ان کی مساوی رسائی کو فروغ دیا جائے۔اعلامیے میں ڈیجیٹل خلیج کے خاتمے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں جدت لانے کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا جبکہ ای پارلیمنٹ پلیٹ فارمز کی بھی حمایت کی گئی تاکہ شہریوں کے ساتھ براہ راست اور شفاف رابطہ کاری کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے استعمال اور ایک بہتر طرز حکمرانی کے فریم ورک کو تشکیل دیا جا سکے اور بنیاد ی انسانی حقوق کا احترام بھی یقینی بنا یا جائے۔شرکا نے پارلیمانوں کے اندر ادارہ جاتی، صلاحیتوں میں اضافے کو بھی ترجیح دی تاکہ قانون سازی کی نگرانی اور کمیٹیوں کے علاوہ کاکسز کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اعلامیہ میں دہشت گردی، انتہا پسندی، موسمیاتی تبدیلی، خوراک و پانی کی قلت، غربت، وبائی امراض، سائبر سکیورٹی، نفرت انگزی تقاریر، زینو فوبیا اور اسلام و فوبیا جیسے عالمی چیلنجز کا مقابلہ اجتماعی تعاون، کثیر الجہتی تعاون اور مکالمے کے ذریعے کرنے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور منصفانہ بروقت اور قابل رسائی کلائمیٹ فنانسنگ پر بھی زور دیاگیا تاکہ کوئی ملک پائیدار ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ سکے۔اعلامیے میں سائنس تحقیق اور جدت میں مسلسل سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا تاکہ ایسا معاشرہ تشکیل پائے جو موجودہ اور مستقبل کے بحرانوں کا مقابلہ کر سکے۔ شرکا نے اعلامیے میں جامع شفاف اور باہمی علاقائی ڈھانچے اور رابطے کے منصوبوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا جو علاقائی اتحاد، عوامی تبادلوں اور مشترکہ خوشحالی کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے قومی پارلیمانوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اعتماد پر مبنی اقدامات اور تعاون کو فروغ دینے میں کردار ادا کریں تاکہ تنازعات میں کمی دیر پا استحکام کو فروغ دیا جاسکے۔اعلامیے کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیاگیا کہ پارلیمانیں قائدانہ کردارادا کرتی رہیں گی اور ہم اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں بیان کردہ اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ شرکا نے اس اجتماعی ذمہ داری کا اعادہ کیا کہ امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے ذریعے ایک ایسا نظام تشکیل دیں گے جو منصفانہ،جامع اور سب کے لئے خوشحالی کا باعث ہو۔
