حالیہ دنوں شاعرہ یُسریٰ وصال کا ایک شعر زیرِ بحث آیا
سینے سے ناف تک میرے
دیکھ ذرا سب نشان تیرے ہیں
یہ شعر صرف ایک تخلیق نہیں بلکہ ایک تہلکہ ہے ایک ایسا ارتعاش جس نے ادب کے ایوانوں میں سوالات کی گرد اڑا دی ہے کسی نے اسے جرات کہا، کسی نے بے باکی، مگر درحقیقت یہ وہ مقام ہے جہاں شاعری اور عریانی کے درمیان کی لکیر دھندلا جاتی ہےشاعری اظہارِ احساسات کا نام ہے مگر احساس جب برہنگی کے قریب جا پہنچے تو وہ جمال نہیں رہتا وہ جلال بن جاتا ہے عورت جب اپنی نسائیت کو شعر میں یوں ننگا کرے کہ سینہ اور ناف کے درمیان کے منظر بیان کرے، تو وہ فن کے نہیں، تماش بینوں کے حوالے ہو جاتی ہےعورت کو شاعرہ ہونا زیب دیتا ہے، مگر نسوانی وقار کے ساتھ۔ وہ اگر اپنے احساس کو لفظوں کے پیرہن میں لپیٹ کر پیش کرے تو فکر کے افق پر چاند بن کر اُبھرتی ہے
اور اگر پردۂ الفاظ اتار دے تو بازار کے چراغوں میں تحلیل ہو جاتی ہے
یُسریٰ وصال کا یہ شعر شاعری سے زیادہ معاشرتی اضطراب کی علامت ہے ایک طرف وہ عورت کی آواز بننا چاہتی ہیں دوسری طرف خود اپنی ذات کو تشہیر کی چادر میں لپیٹ رہی ہیں ادب میں جرات اچھی چیز ہے، مگر جب جرات، عریانی میں
بدل جائے تو فن، فحش میں ڈوب جاتا ہےافسوس اس بات کا بھی ہے کہ جن اہلِ ادب نے ان کے اس شعر پر تبصرے کیے، انہوں نے بھی عورت کے وقار کو کچلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، کچھ نے اس شعر کو بہانہ بنا کر عورت کے بدن پر الفاظ کی غلاظت پھینکی کچھ نے ادب کے نام پر بازاری گفتگو کو رائے کا جامہ پہنا دیایہ وہی لوگ ہیں جو عورت کے لفظ کو پڑھنے نہیں، نچانے کے عادی ہیں بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جس طرح کمنٹس میں گھٹیا ، اور برہنہ الفاظ استعمال کیے گئے بقول انہی لوگوں کے یہ وہی ذہن ہیں جو ناف کے نیچے نشان تلاش کرتے ہیں، مگر شعور کے اوپر کا خلا نہیں دیکھتے
ادب کا کام جسم دکھانا نہیں، روح جگانا ہےشاعرہ اگر سچ کہنا چاہے تو وہ چشمِ تر کی چمک میں، ہجر کی خاموشی میں، یا لمس کے اقرار میں بھی وہ سب کہہ سکتی ہے جو سینے اور ناف کے بیچ نہیں کہنا پڑتاعورت کا قلم جب وقار کے ساتھ چلتا ہے تو وہ تہذیب بن جاتی ہے اور جب وہ برہنگی کے راستے پر اترتا ہے تو لوگ اس کے لفظ نہیں، اس کا بدن پڑھنے لگتے ہیں
یُسریٰ وصال کا شعر شاید ان کے احساسِ شکستگی کا اظہار ہو، مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ شکستگی بھی شرم کا پردہ اوڑھ کر زیادہ خوبصورت لگتی ہے شاعری اگر نازک احساسات کا بوسہ ہے تو اسے ادب کے آداب میں ہی دیا جانا چاہیے یہ وقت ہے کہ ہم ادب میں حدودِ اظہار پر گفتگو کریں عورت کے لفظوں کو محبت کا استعارہ بننے دیں، بازار کا نعرہ نہ بنائیں اور مردِ شاعر و قاری کو بھی سیکھنا ہوگا کہ ہر لفظ کے اندر عورت کا جسم نہیں، ایک روح چھپی ہوتی ہے
ورنہ بات ناف سے آگے بڑھتی جائے گی
اور ادب، ادب نہیں رہے گا تماشا بن جائے گا

