کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، معاشی مرکز اور کروڑوں لوگوں کا گھر۔ لیکن جب بات حکومتی پالیسیوں کی آتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ شہر کوئی دشمن ملک کا حصہ ہو۔ سندھ حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا "سیف سٹی پروجیکٹ” جو اصل میں جرائم کی روک تھام اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تھا، اب کراچی والوں کے لیے ایک لوٹ مار کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ای چالان سسٹم کے ذریعے ہزاروں روپے کے جرمانے لگائے جا رہے ہیں، جو لاہور کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ کیا یہ سارا
سسٹم جرائم کو روکنے کے لیے ہے یا صرف غریب موٹر سائیکل سواروں اور کار ڈرائیوروں کو نشانہ بنانے کے لیے؟
سب سے پہلے بات کرتے ہیں چالان کی شرحوں کی۔ کراچی میں سیگنل توڑنے پر 10 ہزار روپے جرمانہ ہے، جبکہ لاہور میں یہ صرف 500 روپے ہے۔ غلط سمت میں گاڑی چلانے پر کراچی میں 30 ہزار روپے کا چالان کاٹا جاتا ہے، جبکہ لاہور میں صرف 2 ہزار روپے۔ بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے پر کراچی میں 25 ہزار روپے کا جرمانہ، جبکہ لاہور میں صرف 500 روپے۔ یہ فرق 5 سے لے کر 100 گنا تک ہے! کیا کراچی کے لوگ لاہور والوں سے زیادہ مجرم ہیں کہ انہیں اتنی سخت سزا دی جائے؟ یہ دوہرا معیار کیوں، جبکہ دونوں شہر ایک ہی ملک کے ہیں؟
سیف سٹی پروجیکٹ کو کراچی والے خوش آمدید کہنے کو تیار تھے، کیونکہ شہر میں سٹریٹ کرائمز کا مسئلہ سنگین ہے۔ 2024کے پہلے 10 ہفتوں میں ہی 15 ہزار سے زیادہ سٹریٹ کرائمز، 274 قتل، 84 اغوا برائے تاوان اور 30 بھتہ خوری کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ لیکن یہ پروجیکٹ جرائم روکنے کی بجائے ٹریفک چالانوں پر فوکس کر رہا ہے۔ صرف 24 گھنٹوں میں 12 ملین روپے کے چالان جاری ہوئے، جن میں زیادہ تر موٹر سائیکل سواروں اور کار ڈرائیوروں کو نشانہ بنایا گیا۔ کیا یہ حفاظت ہے یا لوٹ مار؟
اب بات کرتے ہیں استثنیٰ کی۔ ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک کو یہ سسٹم کیوں چھوڑ رہا ہے؟ کیا وہ شہر کی حفاظت کا حصہ نہیں؟
کراچی کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، کوئی لائننگ نہیں، کوئی کیٹ آئیز نہیں، شور اور لائٹس کا کوئی کنٹرول نہیں۔ لیکن کیمرے کاروں میں سیٹ بیلٹ چیک کر رہے ہیں، جبکہ رکشہ اور چنگچیوں کو فٹنس چیک کے بغیر چلنے کی اجازت ہے۔ کیا رکشہ میں سیٹ بیلٹ کی ضرورت نہیں؟ یہ پالیسیاں لوگوں کو سہولت دینے کی بجائے انہیں ٹارگٹ کر رہی ہیں۔ سندھ حکومت کو لگتا ہے کہ کراچی والے ان کے ووٹر نہیں تو انہیں سزا دی جائے
کراچی پاکستان کی معیشت کا 75 بلین ڈالر کا انجن ہے، لیکن سندھ حکومت اس پر صرف 271 ملین ڈالر خرچ کرتی ہے۔ لاہور
کا ڈویلپمنٹ بجٹ 88 بلین روپے ہے، جبکہ کراچی کا صرف 12.5 بلین۔ پنجاب کے ہر شہر میں ٹرانسپورٹ اور سیف سٹی سسٹم ہے، لیکن کراچی کو کچھ نہیں۔ یہ امتیازی سلوک کیوں؟ کراچی والے ٹیکس دیتے ہیں، لیکن بدلے میں ٹوٹی سڑکیں، جرائم اور اب یہ مہنگے چالان ملتے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ چالان کی شرحیں لاہور کے برابر کی جائیں، استثنیٰ ختم کیا جائے، اور پروجیکٹ کو اصل مقصد یعنی جرائم کی روک تھام پر استعمال کیا جائے۔ لوگوں کو آگاہی دی جائے، وارننگ چالان جاری کیے جائیں، اور
انفراسٹرکچر بہتر بنایا جائے۔ کراچی والے غریب موٹر سائیکل سوار اور کار ڈرائیور پہلے ہی مہنگائی اور جرائم سے پریشان ہیں، انہیں مزید سزا نہ دی جائے۔ اگر یہ سلوک جاری رہا تو لوگوں کا غصہ بڑھے گا، اور حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ کراچی والوں کی آواز سنی جائے، انصاف کیا جائے۔
