کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ)ہائیڈرنٹس، بلوں کی پرنٹنگ کی نیلامی میں تاخیر کے باعث واٹر کارپوریشن انٹظامیہ فیصلے کرنے میں ناکام رہے،ہائینڈرنٹس سیل کے انچارج صدیق تنیو چیئرمین واٹر بورڈ مرتضی وہاب کے منظور نظر ہیں تو دوسری جانب عثمان بردارز طرز کے کئی افسران حصہ دار ہے ان کے خلاف کاروائی کرنے میں CEOکارپوریشن قاصر ہیں،ماہ اکتوبر کے بعدماہ نومبر کے بلوں کی پرنٹنگ بھی غیر قانونی جاری ہے،اور ہائینڈرنٹس کی نیلامی اور این ایل سی ہائینڈرنٹ کا معاہدہ بھی نہ ہوسکا،صدیق تنیو ہائیڈرنٹ سیل کے انچارج ہیں، ٹھیکداروں کا کہنا تھا کہ ہائیڈرنٹ سیل کے غیر اعلانیہ فیصلے الہی بخش بھٹو کررہے ہیں تمام اجلاس چیف ایگزیکٹو آفیسر کے اسٹاف آفیسر الہی بخش بھٹو کے کمروں میں ہورہے ہیں صدیق تنیو فیصلہ کرنے سے قاصر ہے، ہائیڈرنٹس انچارج کی نااہلی،غفلت، عدم توجہ کے باعث نیلامی کے منصوبے نا کام رہے ہیں 29مئی کے بعد چھ ماہ گزر چکے ہے، کراچی میں 7ہائنڈرنٹس کی نیلامی میں مذید تاخیر کا امکان ہے جبکہ این ایل سی ہائینڈرنٹ کا معاہدہ ہائینڈرنٹس سیل میں ضم کرنے کا معاملہ بھی سرد خانے کی نذ ر ہوچکا ہے،ٹھیکداروں کا کہنا تھا کہ ہائینڈرنٹس سیل کے انچارج صدیق تنیو کو تبدیل کئے بغیر نیلامی کا عمل نہیں ہوسکتا ، مدت بڑھانے پر تیار نہیں سیاسی انتظامی دباؤ پر ایک ایک ماہ کی مدت بڑھائی جارہی
ہے، چیف ایگز یکٹو آفیسر احمد علی صدیق اور ہائنڈرنٹس کے درمیان پہلی مرتبہ آمنا سامنا ہوا ہے،ٹھیکیداروں اور واٹر کارپوریشن کے مابین سب سے متنازعہ کراچی میں مفت واٹر ٹینکرز (ڈی سی کوٹہ)کی فراہمی اور اس کے واجبات کا مسئلہ درپیش ؎؎؎کے ساتھ ہائنڈرنٹس کی اوقات کار کا معاملہ اور فنڈز کی ادائیگی کو حل کرنے پر ذور دیا گیا،نیلام عام جلد از جلد کرنے کا مطالبہ بھی پیش ہوا تھا،،7ٹھیکداروں کے ساڑھے پانچ ارب روپے واجبات پھنس جانے کی توقع ہیں،جبکہ پانی کے منافع بخش کاروبار میں بڑے بڑے سیاسی مذہبی،ااننظامی کے ساتھ کاروباری شخصیات متحرک و سرگرم عمل ہیں، کراچی میں زمین کے بعد سب سے کم وقت میں پیسے کمانے کا شعبہ ہاینڈرنٹس اور ٹینکرز کا کاروبار ہیں،،ہاینڈرنٹس کی نیلامی پانچویں مرتبہ دو سال کے سے سلسلہ شروع کیا گیا تھامیئر کراچی و چیئرمین واٹر کارپوریشن مرتضی وہاب ہائنڈرنٹس کی نیلامی سے قبل اپنا سسٹم لانے کی خواہش مند ہے اورمبینہ طور پر ٹنیڈرڈاکومنٹ کی تیارمیں متعدد مرتبہ تبدیلی کے باعث تیارنہ ہوسکے،زرائع کا کہنا تھا کہ چیئرمین واٹر کارپشن مرتضی وہاب کی ہدایت پر ٹنیڈر ڈاکومنٹ میں بار بار تبدیلی کرنے کے باعث مکمل نہ ہوسکے ہائنڈرنٹ سیل کے انچارج صدیقی تنیو چیئرمین بورڈمرتضی وہاب کے منظور نظر اور جوئینر گریڈ17 کےافسر ہے، جس کی نااہلی کے باعث نیلامی کے پہلاٹنیڈر ڈاکومنٹ مکمل نہ ہوسکامیئر کراچی مرتضی وہاب شاہراہ بھٹو،حب کینال کے ٹوٹ پھوٹ پر برہم ہیں اور میڈیا میں منفی پروپگنڈا پر کراچی کے شہریوں سے ناراض ہے ہائنڈرنٹس کی نیلامی پر مذید منفی پروپگنڈے سے بچنے کے لئے ہائنڈرنٹس کی نیلامی میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، ذرائع کے مطابق ہاینڈرنٹس کے ساتھ ٹینکروسروس میں رشوت، کمیشن،کک بیک اربوں روپے سسٹم بند ہونے کا دعوی سامنے آگیا اربوں روپے کراچی میں WHITE GOLDکے طور پر کمایا جارہا ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود کراچی میں سرکاری 7 ہارئنڈٹنس کے علاوہ نیشنل لاجسٹک سیل،، کارپوریشن ذرائع کاکہنا تھا کہ چکرا گوٹھ پر چلنے والا غیر قانونی ہائنڈڑنٹ افضل، نورا سمیت دیگر افراد چلارہے ہیں جن کو سیاسی و انتظامی شخصیات کی سپورٹ حاصل ہے،علاوہ ازیں غیر قانونی ہائنڈرنٹس، سب سوئل واٹر،غیر قانونی کنکشن میں انٹی تھیف سیل، چیف سیکورٹی افسر انجم توقیر ملک، سمیت دیگرافسران ملوث ہیں تابش رضا ایگزیکٹو انجینئراانٹی ٹھیف سیل جہانگیرروڈپر غیر قانونی ہائنڈرنٹ کے سرپرست بن گئے اور رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، اس سے قبل غیر قانونی چکرا گوٹھ کورنگی ہائنڈرنٹ چلاکر انتظامیہ کو چیلنچ کیاگیا تھاجو جاری ہے اور20ہائنڈرنٹس غیر قانونی ضلع غربی، کیماڑی میں چلنے کی تصدیق ہونے کے باوجود تاحال کاروائی نہ ہوسکی، نہ تحقیقات، نہ ادارے کے ملوث افران و عملے کے خلاف کاروائی ہو
سکی، نہ انتظامیہ پولیس اور رینجر ز کی مدد سے 20ہائنڈرنٹس کو گرایا گیا،یہ20کنکشن غیر قانونی منگھوپیر، اورنگی ٹاون، پیرآباد اور موچکوتھانے کی حدود میں ہائنڈرنٹس کا گھناونا کاروبار عروج پر ہے، ان میں ضلع کیماڑی کے علاقہ موچکو میں رئیس گوٹھ، کٹو گوٹھ،ضلع غربی کے علاقہ پیر آباد میں قصبہ کالونی، اورنگی ٹاون میں کٹی پہاڑی، ایم پی آر کالونی اور منگھوپیر کے علاقہ میں مائی گاڑی، الطاف نگر، خیبرآباد گوٹھ، زیبو گوٹھ، عمر گوٹھ، مہران سٹی، غازی گوٹھ، رمضان گوٹھ، ماربل فیکٹرایریا، ریتی پاڑہ،پختون آباد، گرم چشمہ، یار محمد گوٹھ، ہمدرد یونیورسٹی مبینہ طور پر شاہراہ فیصل، ڈالمیا روڈپر بھی ہائنڈرنٹس چل رہا ہے،تین ہٹی مزار کے عقب میں،پٹیل پاڑہ کے قریب، جنجال گوٹھ،بنگالی موڑ سہراب گوٹھ، گرم چشمہ منگوپیر، حب پمپنگ اسٹشن کے نذدیک سمیت دیگرمقامات پر غیر قانوی ہائنڈرنٹس چل رہے ہیں،کراچی کے درجنوں سب سوئل لائنس یافتہ بھی کراچی کے لائنوں میں کھلے عام پانی چوری کے گھناونے کاروبار میں ملوث ہیں اور حب کینال اور کڈہ حب کینا ل کے مقام پر ہائنڈرنٹس چل رہا ہے،گوٹھ وادی حیسن قبرستان کے قریب غیر قانونی ہائنڈرنٹ کے نام پر جعلی کاروائی کے ذریعہ غیر قانونی ہائنڈرنٹس کے خلاف کاروائی کاپردہ فاش ہوگیا انٹی ٹھیف سیل کی کاروائی میں نہ کوئی ایف آئی آر، نہ کسی کی گرفتاری، نہ ٹینکرپکڑے نہ کسی لائن سے کنکشن نکلے دلچسپ امر یہ کہ یہ ہائنڈرنٹس پانی کے لائنوں میں فراہم ہونے والے نظام 24،33،48اور66انچ قطر سے پائپ لائن پر موجود واٹر بورڈ کے سسٹم سے غیر قانونی ہائنڈرنٹس چلایا جارہا ہے
