اقوام متحدہ۔,( نمائندہ خصوصی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے قیام کے 80سال مکمل ہونے کے موقع پر ادارے کی جانب سے کثیرالجہتی تعاون اور بنی نوع انسان کی ترقی کے لیےادارے کی ناقابلِ فراموش خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسے منصفانہ عالمی نظام کے جاری و ساری رکھنے کے لئے کوششیں جاری رکھے گا جہاں امن اور انسانی وقار کا تحفظ ہو اور سب کو یکساں طور پر آزادی اور خوشحالی کے فوائد حاصل ہوں۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کے قیام کے دن کےموقع پر اپنے پیغام میں کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مقصد کے لئے اقوام متحدہ میں تمام رکن ممالک کے ساتھ تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام امن، انسانی ہمدردی کی
سرگرمیوں اور عالمی نظم و نسق میں تعاون کا پاکستان کا طویل ریکارڈ اس کے پختہ عزم کا ثبوت ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہم ان تمام لوگوں کے ساتھ اصولی یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں جنہیں اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے خصوصاً فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ، جن کی جدوجہد اقوامِ متحدہ کے منشور کے نامکمل وعدے کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں میں اگرچہ اقوامِ متحدہ کے تمام مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے لیکن اس ادارے نے امید پیدا کی، امن، انسانی حقوق کو کو فروغ دیا اور سماجی و اقتصادی ترقی کی راہیں دکھائیں۔ پاکستانی مندوب نے موجودہ عالمی منظرنامے کو ایک نازک موڑ قرار دیتے ہوئے کہاکہ بڑھتے ہوئے تنازعات، یکطرفہ رویّوں کے فروغ ،بین الاقوامی قانون کے کمزور ہوتے ڈھانچے، ناقابلِ برداشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشتوں، ماحولیاتی ہنگامی صورتحال اور مصنوعی ذہانت کے بے قابو پھیلاؤ نے نئی غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیلنجز کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر ممالک اٹھا رہے ہیں جو ماحولیاتی انحطاط، معاشی کمزوری اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور غیر حکومتی ٹیکنالوجیز کے عروج کے ساتھ مساوات اور مشترکہ ذمہ داری پر مبنی کثیر جہتی اتفاق رائے کی تجدید کا مطالبہ کرتے ہیں۔
