کراچی (نمائندہ خصوصی)سندھ میں گورنر کی ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے سیاسی سطح پر مشاورت کا عمل جاری ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ناموں پر اختلاف سامنے آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا نام زیر غور ہے مگر اس پر دونوں جماعتوں کے درمیان حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔اس صورتحال پر پنجابی آرگنائزیشن نے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1972ء کے معاہدے میں جس کی قیادت نواب مظفر خان کر رہے تھے، "غیر سندھی” کی اصطلاح پنجابی، پٹھان اور مہاجر برادری کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ اس معاہدے کے مطابق وزیراعلیٰ ہمیشہ سندھی
جبکہ گورنر غیر سندھی ہوگا۔ تاہم گزشتہ کئی دہائیوں میں اس روایت کو صرف اردو بولنے والی برادری تک محدود کر دیا گیا اور پنجابی برادری سمیت دیگر اقوام کو اس حق سے محروم رکھا گیا۔پنجابی آرگنائزیشن نے کہا کہ سندھ میں بسنے والے پنجابی نہ صرف صوبے کی دوسری بڑی آبادی ہیں بلکہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ لازم ہے کہ سندھ کے گورنر کے عہدے پر پنجابی شخصیت کو تعینات کیا جائے تاکہ صوبے میں بسنے والے لاکھوں پنجابیوں میں پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ ممکن ہو۔تنظیم نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے علی اکبر گجر اور پیپلز پارٹی کی جانب سے عبدالرزاق باجوا کو گورنر سندھ کے لیے موزوں امیدوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں شخصیات پنجابی نیشنلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اس منصب کی ذمہ داریاں بہتر طور پر نبھانے کی اہلیت رکھتی ہیں۔مرکزی صدر پنجابی آرگنائزیشن مرزا سلیم الیاس نے کہا کہ پنجابی قوم کے سیاسی و سماجی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور ہر سطح پر اپنے حق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

