مظفرآباد (نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاسبانِ حریت جموں کشمیر عزیر احمد غزالی نے مقبوضہ جموں کشمیر میں اردو زبان کے خلاف اقدامات، ضلع شوپیاں میں جامعہ سراج العلوم پر پابندیوں، دینی و تعلیمی سرگرمیوں میں مداخلت اور ہندی زبان کے نفاذ کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض بھارتی حکومت کشمیری عوام کی مذہبی، تعلیمی، لسانی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کرنے کے ایک منظم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔میڈیا کے نام جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جامعہ سراج العلوم جیسے دینی و تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا اور اردو زبان کی تاریخی و سرکاری حیثیت کو کمزور کرنے کی کوششیں دراصل ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں، جن کا مقصد کشمیری عوام کو ان کی تہذیبی بنیادوں، علمی ورثے اور قومی تشخص سے محروم کرنا ہے۔عزیر احمد غزالی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیم کے خاتمے یا محدود کرنے کی کوششیں مذہبی آزادی پر براہِ راست حملہ اور بنیادی انسانی حقوق کی
سنگین خلاف ورزی ہیں ۔ جبکہ ہندی زبان کے نفاذ اور اردو کو انتظامی، تعلیمی اور سرکاری ڈھانچے سے بے دخل کرنے کی کوششیں کشمیری شناخت بدلنے کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اردو برصغیر اور بالخصوص جموں کشمیر کی علمی، عدالتی، انتظامی اور تہذیبی روایت کی زبان رہی ہے، لیکن قابض بھارتی حکومت منظم منصوبہ بندی کے تحت اردو کو کمزور کرنے، سرکاری ملازمتوں سے اردو اہلیت ختم کرنے، زمینی ریکارڈ اور سرکاری دستاویزات سے اردو کو نکالنے اور نئی نسل کو اپنی زبان سے دور کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔چیئرمین پاسبانِ حریت نے کہا کہ جامعہ سراج العلوم پر پابندیاں، دینی اداروں کو نشانہ بنانا، نصاب میں مداخلت، اردو زبان کو دیوار سے لگانا اور ہندی کے نفاذ کی کوششیں محض انتظامی فیصلے نہیں بلکہ ایک وسیع تر نوآبادیاتی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے کشمیری عوام کی مذہبی، لسانی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جو اقدامات شدت اختیار کر چکے ہیں ان کا بنیادی مقصد کشمیری عوام کو سیاسی، تہذیبی اور فکری بنیادوں پر کمزور کرنا ہے، مگر کشمیری عوام اپنی شناخت، زبان، مذہبی آزادی اور حقِ خودارادیت کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔عزیر احمد غزالی نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ کشمیری عوام کی مشترکہ تہذیبی میراث اور مزاحمتی شعور کی ترجمان ہے، جبکہ دینی مدارس کشمیری معاشرے کے فکری و اخلاقی استحکام کے مراکز ہیں، اس لیے ان دونوں پر حملے کشمیری وجود پر حملے کے مترادف ہیں۔انہوں نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عالمی انسانی حقوق تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی اداروں، مذہبی آزادی، اردو زبان اور ثقافتی شناخت پر حملوں کا فوری نوٹس لیں اور بھارتی ریاستی جبر کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔انہوں نے ریاست کے عوام سے اپیل کی ہیکہ بھارتی جبر کیخلاف آزادی ، حق خودارادیت اور انصاف کیلئے مزاحمت کو منظم کیا جائے ۔۔۔
