• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home انٹرویوز

معاشی استحکام کیلئے پاکستان تجارت کو فروغ دے:خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی اور صنعتی اداروں کوسستی بجلی و گیس کی تسلسل کیساتھ فراہمی یقینی بنائی جائے:ندیم ارشد بھٹی

پاکستانی حکومت نوجوان نسل کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ،ای کامرس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس،ڈیجیٹل مارکٹنگ کے ہنر سمیت ٹیکنکل ایجوکیشن سے لیس کرکے ترقی وخوشحالی کی منزل پا سکتی ہے پاکستان میں غیر ملکی سر مایہ کاروں کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں اگر دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت کارمحنت اور ایماندار ی سے اپنا کام کریں تو پاکستان معاشی میدان ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے محب وطن نوجوان اوور سیز پاکستانی بزنس مین اور انٹرنیشنل یوتھ بزنس فورم کے بانی صدر ندیم ارشد بھٹی سے خصوصی انٹرویو

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 27, 2026
in انٹرویوز
0
معاشی استحکام کیلئے پاکستان تجارت کو فروغ دے:خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی اور صنعتی اداروں کوسستی بجلی و گیس کی تسلسل کیساتھ فراہمی یقینی بنائی جائے:ندیم ارشد بھٹی
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

انٹرویو :محمد قیصر چوہان

اللہ تعالیٰ نے جس طرح پاکستان کو بے پناہ نعمتوں سے نواز رکھا ہے وہیں اس پاک ذات نے پاک سر زمےن پر جنم لےنے والوں کو بھی کمال ذہانت دے رکھی ہے۔ پاکستانی قوم کے ہونہار سپوت دُنیا میں جہاں بھی گئے انہوں نے اپنی انتھک محنت اور جفاکشی کی بدولت اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر پاکستان کا نام روشن کیا انہی میں سے ایک نام ندیم ارشد بھٹی کا بھی ہے جو اصول پسند نوجوان بزنس مین اور باکردار انسان ہیں۔ جو ذریعہ معاش کے سلسلے میں انگلےنڈ کے شہر مانچسٹر میں مقیم ہیں۔ انتھک محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ انہوں نے اپنے آپ کو اس قابل بنایا ہے کہ آج ان کا شمار برطانےہ کے کامیاب نوجوان بزنس مینوں میں ہوتا ہے۔ بزنس میں انتھک محنت اور ایمانداری کو شعار بنا کر انہوں نے ترقی کی منازل طے کیں۔ندیم ارشد بھٹی نے دیار غیر میں بزنس سے وابستہ نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کیلئے انٹرنیشنل یوتھ بزنس فورم کی بناد رکھی ہے وہ اس کے بانی صدر ہیں ۔ پاکستا ن کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے معروف علاقے منڈی بہاﺅالدین سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مےن ندیم ارشد بھٹی نے گزشتہ دنوں اپنے آبائی وطن پاکستان آئے تو کھاریاں پریس کلب کے سابق نائب صدر میاں محمد طاہر رشید کی وساطت سے کھاریاں میں ان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس دوران ہونے والی گفتگو انٹرویو کی صورت میں قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال:انٹرنیشنل یوتھ بزنس فورم بنانے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
ندیم ارشد بھٹی :انٹرنیشنل یوتھ بزنس فورم کے قیام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو عالمی معیشت کا فعال حصہ بنانا ہے۔اس فورم کا سب سے بڑا مقصد دنیا بھر کے نوجوان کاروباری افراد کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف تجربات کا تبادلہ ہوتا ہے بلکہ مختلف ممالک کے درمیان تجارت اور شراکت داری کے نئے راستے بھی کھلتے ہیں۔نئے بزنس مین اکثر تجربے کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ فورم منجھے ہوئے ماہرین اور کامیاب بزنس لیڈرز کے ذریعے نوجوانوں کو جدید کاروباری تکنیکوں، مارکیٹ کے رجحانات اور مینجمنٹ کے بارے میں رہنمائی فراہم کرے گا۔بہت سے باصلاحیت نوجوانوں کے پاس آئیڈیاز تو ہوتے ہیں لیکن سرمایہ نہیں۔ انٹرنیشنل یوتھ بزنس فورم ایسے مواقع پیدا کرتا ہے جہاں نوجوان اپنے بزنس ماڈلز بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کر سکیں اور اپنے نیا کاروبار شروع کرنے کیلئے فنڈز حاصل کر سکیں ۔معاشی اور تجارتی پالیسیاں اکثر بڑے کاروباری گروپس کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔ یہ فورم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ حکومتیں اور عالمی ادارے پالیسی بناتے وقت نوجوان کاروباری طبقے کی ضروریات اور ان کے مسائل کو بھی پیش نظر رکھیں۔آج کا دور ٹیکنالوجی کا ہے اور نوجوان اس میدان میں سب سے آگے ہیں۔ فورم کا مقصد نئے آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ روایتی طریقوں کے بجائے جدید اور ڈیجیٹل بزنس ماڈلز کو عالمی سطح پر رواج دیا جا سکے۔اس فورم کا مقصد نوجوانوں کو محض نوکری ڈھونڈنے والوں کے بجائے نوکریاں پیدا کرنے والا بنانا ہے تاکہ وہ اپنے ملک کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔
سوال:انگلینڈ میں مقیم پاکستانی بزنس کمیونٹی زیادہ تر کونسے بزنس کے ساتھ وابستہ ہے؟
ندیم ارشد بھٹی :انگلینڈ میں مقیم پاکستانی بزنس کمیونٹی وہاں کی معیشت اور سماجی ڈھانچے میں ایک انتہائی اہم اور بااثر مقام رکھتی ہے۔ان کے کاروبارمختلف شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔پاکستانی کمیونٹی کا ایک بڑا حصہ کارنر شاپس، سپر مارکیٹس اور ہول سیل گروسری بزنس سے وابستہ ہے۔ بہت سے نامور برانڈز اور بڑے سٹورز اب مقامی کے بجائے قومی سطح پر کام کر رہے ہیں۔فوڈ اور ہاسپیٹلٹی کا شعبہ پاکستانی کمیونٹی کی پہچان بن چکا ہے ،ریسٹورنٹس اور ٹیک اوے میں بڑی سرمایہ کاری پاکستانیوں کی ہے۔فوڈ مینوفیکچرنگ،مصالحہ جات، منجمد کھانے اور حلال گوشت کی سپلائی کے بڑے یونٹس پاکستانی نژاد برٹش بزنس مین چلا رہے ہیں۔ پاکستانی بزنس مین ٹیکسٹائل، ریڈی میڈ گارمنٹس اور فیشن ہاو ¿سز کے بڑے کاروبار سنبھال رہے ہیں۔ وہ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی امپورٹ ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے میں بھی اوور سیز پاکستانی بزنس مین کام کر رہے ہیں ۔پراپرٹی ڈویلپمنٹ، کرائے پر مکانات دینا اور کمرشل رئیل اسٹیٹ میں پاکستانیوں نے حالیہ دہائیوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔نئی نسل کے آنے کے بعد اب پاکستانی کمیونٹی بڑے پیمانے پرآئی ٹی اور سافٹ ویئرہاو ¿سز،اکاو ¿نٹینسی اور لا فرمز، فارمیسی اور ہیلتھ کیئر سروسز کے شعبوں میں بھی بزنس کر رہی ہے۔انگلینڈ میں پاکستانی بزنس کمیونٹی روایتی سروس سیکٹر سے نکل کر اب جدید ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں اپنا نام بنا رہی ہے۔اوورسیز پاکستانی بزنس مین سالانہ اربوں پاو ¿نڈز کا ٹرن اوور پیدا کرتے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو روزگاربھی فراہم کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف برطانیہ بلکہ پاکستان میں بھی ترسیلاتِ زر اور براہِ راست سرمایہ کاری کے ذریعے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سوال:کیاانگلینڈ میں مقیم نوجوان پاکستانی بزنس مین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں ؟
ندیم ارشد بھٹی:انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی ) کا شعبہ اس وقت انگلینڈ میں مقیم پاکستانی بزنس کمیونٹی کیلئے سب سے زیادہ ترقی پذیر اور منافع بخش شعبہ بن چکا ہے۔ نئی نسل کے برطانوی پاکستانی اب روایتی کاروبار کے بجائے ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی پہچان بنا رہے ہیں،پاکستانی نژاد کاروباری افراد جن مخصوص شعبوں میں تیزی سے کام کر رہے ہیںان میں سافٹ ویئرڈویلپمنٹ،سائبر سیکیورٹی،آرٹیفیشل انٹیلی جنس،ای کامر س شامل ہیں ۔برطانیہ چونکہ عالمی مالیاتی مرکز ہے، اس لیے پاکستانی پروفیشنلز ڈیجیٹل بینکنگ اور پیمنٹ سلوشنز میں اہم کردار ادا کر رہے ہیںبرطانوی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر سائبر سیکیورٹی کنسلٹنسی ایک بڑا بزنس بن چکا ہے۔
ڈیٹا اینالیٹکس اور اے آئی پر مبنی آٹومیشن کے شعبے میں نئے مواقع اُبھر رہے ہیں۔برطانیہ میں مقیم پاکستانی بزنس مینوں کیلئے ایک بڑی سہولت یہ ہے کہ وہ پاکستان کے ٹیلنٹ کو برطانیہ کی مارکیٹ سے جوڑتے ہیںوہ برطانیہ میں کلائنٹ ہینڈلنگ اور بزنس ڈویلپمنٹ کرتے ہیں جبکہ ٹیکنیکل کام پاکستا ن میں موجود اپنی ٹیموں سے کرواتے ہیںاس سے نہ صرف برطانیہ میں آپریٹنگ اخراجات کم ہوتے ہیںبلکہ پاکستان میں فارن ایکسچینج اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں،انگلینڈ حکومت کی جانب سے آئی ٹی کمپنیوں کیلئے ٹیکس میں چھوٹ جیسے اقدامات نے پاکستانی آئی ٹی ماہرین کیلئے وہاں اپنا بزنس قائم کرنا مزید آسان بنا دیا ہے۔
سوال :آپ انفارمیشن ٹیکنالوجی اورای کامرس بارے میں کچھ بتائیں؟
ندیم ارشد بھٹی:
انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ دورِ حاضر کے ایسے ستون ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں کاروبار کرنے اور معلومات کے تبادلے کے طریقے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مراد کمپیوٹر، سافٹ ویئر، نیٹ ورکس اور ڈیٹا کا استعمال ہے تاکہ معلومات کو محفوظ، پروسیس اور منتقل کیا جا سکے۔ اس میں ہارڈ ویئر،سرورز، لیپ ٹاپ، سافٹ ویئر ایپس، آپریٹنگ سسٹم اور ٹیلی کمیونیکیشن شامل ہیں۔یہ جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کلاو ¿ڈ کمپیوٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور سائبر سیکیورٹی اس کے ابھرتے ہوئے اہم شعبے ہیں۔آئی ٹی کی وجہ سے پیچیدہ کام سیکنڈوں میں حل ہو جاتے ہیں اور دنیا بھر کا ڈیٹا ایک جگہ محفوظ کرنا ممکن ہو گیا ہے۔جبکہ ای کامرس یا الیکٹرانک کامرس سے مراد انٹرنیٹ کے ذریعے اشیاءیا خدمات کی خرید و فروخت ہے۔ جب کوئی کمپنی براہِ راست صارف کو چیز بیچتی ہے جب صارفین آپس میں چیزیں خریدتے اور بیچتے ہیں۔ای کامرس مکمل طور پر آئی ٹی کی مرہونِ منت ہے۔ آئی ٹی کے بغیر ای کامرس کا تصور ممکن نہیں کیونکہ آن لائن پیمنٹ، محفوظ ادائیگی کے نظام آئی ٹی کی وجہ سے کام کرتے ہیں ۔ ای کامرس پلیٹ فارمز کو چلانے کیلئے جدید ویب ڈویلپمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔صارفین کی پسند و ناپسند کو سمجھنے کیلئے آئی ٹی ٹولز کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سیلز بڑھائی جا سکیں۔آرڈر کی ٹریکنگ اور سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے آئی ٹی سافٹ ویئر استعمال ہوتے ہیں۔جہاں آئی ٹی ایک ٹیکنالوجی ہے، وہیں ای کامرس اس ٹیکنالوجی کا ایک تجارتی استعمال ہے۔ آج کے دور میں کسی بھی کاروبار کی کامیابی کیلئے ان دونوں کا امتزاج لازمی ہو چکا ہے۔
سوال : بیرون ملک مقیم نوجوان پاکستانی بزنس مین کو اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
ندیم ارشد بھٹی :بیرون ملک مقیم نوجوان پاکستانیوں کیلئے کاروبار کا آغاز کرنا ایک پرجوش مرحلہ ہوتا ہے، لیکن اس دوران انہیں کچھ چیلنجز کا سامنابھی کرنا پڑتا ہے۔ہر ملک کے اپنے پیچیدہ قوانین ہوتے ہیں۔ نئے کاروباری افراد کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ بزنس ویزہ یا انویسٹر ویزہ کی سخت شرائط اور اس سے وابستہ محدودات۔کمپنی کی رجسٹریشن، ٹیکس آئی ڈی، اور مقامی بلدیاتی اجازت ناموںکا حصول۔نوجوان بزنس مینوں کو اکثر کریڈٹ ہسٹری نہ ہونے یا سخت شرائط کی وجہ سے غیر ملکی بینکوں سے بڑے قرضے لینے میں مشکل پیش آتی ہے۔ پاکستان سے رقم منگوانے میں بینکنگ پابندیاں یا ایکسچینج ریٹ کا فرق مشکلات پیدا کرتا ہے۔جس ملک میں آپ کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں اگر آپ اس ملک کی مقامی زبان سے ناواقف ہیں تو معاہدوں کو سمجھنے اور مقامی سپلائرز سے بات چیت میں دشواری ہوتی ہے۔ پاکستانی مارکیٹ اور بیرونی مارکیٹ میں گاہک کی ترجیحات، خریدنے کے انداز اور نفسیات میں واضح فرق ہوتا ہے۔پاکستان میں آپ کے پاس خاندان یا دوستوں کا ایک حلقہ ہوتا ہے، لیکن بیرون ملک آپ کو کوئی جانتا نہیں ہے، جس کی وجہ سے اچھے سپلائرز، پارٹنرز یا مینٹرز تلاش کرنا ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں مارکیٹ بہت زیادہ منظم اور مسابقتی ہوتی ہے۔قائم شدہ مقامی برانڈز کے سامنے اپنی جگہ بنانا اور گاہک کا اعتماد جیتنا وقت طلب کام ہے۔وہاں کے کوالٹی سٹینڈرڈز،معیارِ صحت اور حفاظت کے قوانین بہت سخت ہوتے ہیں جن پر پورا اترنا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
سوال: انگلینڈ سمیت کسی بھی ملک میں نیا کاروبار شروع کرنے والے نوجوان بزنس مین کو کامیابی کیلئے آپ کیا مشورہ تجویز کریں گے؟
ندیم ارشد بھٹی : انگلینڈ یا دنیا کے کسی بھی کونے میں نیا کاروبار شروع کرنا ایک ہمت طلب کام ہے، لیکن صحیح حکمت عملی کے ساتھ اسے ایک کامیاب سفر میں بدلا جا سکتا ہے۔ مشکلات پر قابو پانے کیلئے لوکلائزیشن کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ یعنی اپنے آئیڈیا کو اس ملک کے کلچر اور ضرورت کے مطابق ڈھالنا اور شروع میں کسی مقامی بزنس گروپ یا چیمبر آف کامرس کے ساتھ نیٹ ورکنگ کرنا آپ کیلئے راستے آسان بنا سکتا ہے۔ایک نوجوان بزنس مین کیلئے مارکیٹ کی گہری تحقیق بہت ہی ضروری ہے۔ صرف ایک اچھا آئیڈیا کافی نہیں ہوتا۔ آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ جس معاشرے میں آپ کام کر رہے ہیں، وہاں کے لوگوں کی حقیقی ضرورت کیا ہے؟آپ کے مقابلے میں کون سے برانڈز موجود ہیں؟آپ کی پراڈکٹ یا سروس دوسروں سے مختلف اور بہتر کیسے ہے؟۔قانونی پیچیدگیوں کو سمجھیں،یور پی ممالک میں بزنس قوانین اور ٹیکس کا نظام بہت واضح اور سخت ہوتا ہے۔اپنے بزنس کو صحیح کیٹیگری میں رجسٹر کروائیں۔نیشنل انشورنس اور کارپوریٹ ٹیکس کے بارے میں معلومات حاصل کریں تاکہ مستقبل میں قانونی مسائل سے بچ سکیں۔آج کے جدید دور میں اگر آپ کا بزنس انٹرنیٹ پر نہیں ہے، تو وہ وجود ہی نہیں رکھتا ۔ایک پیشہ ورانہ ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیجز بنائیں، مقامی کسٹمرز تک پہنچنے کیلئے ایس ای او اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا سہارا لیں،انگلینڈ سمیت یورپی ممالک میں نیٹ ورکنگ کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔کم از کم چھے ماہ کے اخراجات کا بیک اپ اپنے پاس رکھیں تاکہ مشکل وقت میں کام رک نہ جائے۔مقامی چیمبر آف کامرس کے ممبر بنیں۔بزنس ایونٹس میں شرکت کریں اور دوسرے کامیاب بزنس مینوں سے تعلقات بنائیں۔ بعض اوقات ایک اچھا مشورہ لاکھوں روپے کے فائدے سے بہتر ہوتا ہے۔کامیاب بزنس وہ نہیں جو صرف ایک بار چیز بیچ دے، بلکہ وہ ہے جو گاہک کو دوبارہ آنے پر مجبور کر دے۔ برطانوی مارکیٹ میں کسٹمر فیڈ بیک اور ریویوز کی بہت اہمیت ہے۔ اپنے کسٹمرز کے ساتھ ایمانداری اور بہترین رویہ رکھیں۔کامیابی راتوں رات نہیں ملتی۔ مستقل مزاجی، مسلسل سیکھنے کا عمل اور حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا ہی ایک نوجوان کارو باری شخصیت کی اصل جیت ہے۔
سوال :نوجوان اوور سیز پاکستانی بزنس مینوں کو اپنے آبائی وطن پاکستان میںسرمایہ کاری میں کونسی مشکلات در پیش ہیں؟
ندیم ارشد بھٹی :بیرون ملک مقیم نوجوان پاکستانی بزنس مینوں کو دوہرے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک وہ جو انہیں اس ملک میں درپیش ہوتے ہیں جہاں وہ مقیم ہیں اور دوسرے وہ جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے دوران سامنے آتے ہیں۔نوجوان اوور سیز پاکستانی بزنس مینوں کوپاکستان میں سرمایہ کاری کے دوران کافی مشکلات پیش آتی ہیں ۔نئے کاروبار کے لیے رجسٹریشن، این او سی اور دیگر قانونی دستاویزات کا حصول ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے، جس سے نوجوان بزنس مین بددل ہو جاتے ہیں۔ کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی (روپے کی گراوٹ) اور پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا طویل مدتی منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیتا ہے۔بیرون ملک ہونے کی وجہ سے انہیں پاکستان میں ایسے مخلص پارٹنرز یا مینیجرز تلاش کرنے میں دشواری ہوتی ہے جو ان کی غیر موجودگی میں کاروبار کو شفافیت سے چلا سکیں۔ اوور سیز پاکستانیوں کا سب سے بڑا خوف پاکستان میں ان کی جائیدادوں یا زمینوں پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ قانونی نظام میں تاخیر کی وجہ سے ان مسائل کا حل برسوں نہیں نکلتا۔اگران مشکلات کا کوئی آسان حل نکل آئے توبے پناہ اوورسیز پاکستانی اپنے آبائی وطن پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے جس سے پاکستانی معیشت کو استحکام ملے گا۔
سوال:پاکستان کو معاشی استحکام حاصل کرنے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
ندیم ارشد بھٹی : پاکستان کو طویل مدتی اقتصادی استحکام کیلئے قرض کی بجائے تجارت اور سرمایہ کاری پر مبنی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے جس کا مقصد خود انحصاری ، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور برآمدات کو فروغ دینا ہو،ٹریڈ کی پالیسی کو کامیاب بنانے کیلئے صنعتی اداروں کوسستی بجلی و گیس کی تسلسل کیساتھ فراہمی ، ٹیکس کے نظام میں بہتری اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے، ملکی پیداوارکو بڑھا نے اور خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کم کر کے مقامی مصنوعات کو سستا بناکر ہی عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا صحیح استعمال، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور صنعت کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے پیداواری صلاحیت کو بڑھانے پر توجہ دی جائے ،ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں موجود رقم کو صرف پاکستانی برآمدات میں اضافے،متعلقہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، برآمدی سیکٹر کی افرادی قوت کی ہنر مندی، ٹریننگ اور عالمی معیار کی جدید سہولتوں کیلئے استعمال کیا جائے، ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی)کے کردار کا اصلاحاتی جائزہ لیکر اس کی تشکیل نو کی جائے،صرف ٹیکسٹائل تک محدود رہنے کے بجائے نان ٹریڈیشنل اشیا ءانفار میشن ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات کو برآمدی فہرست میں شامل کیا جائے ،تجارت کے ذریعے پاکستان اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچا سکتا ہے، جس سے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور صنعتی ترقی کوبھی فروغ ملے گا۔
سوال:آپ کے خیال میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی جانب راغب کرنے کیلئے پاکستانی حکومت کو کس قسم کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟
ندیم ارشد بھٹی :اگر دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت کارمحنت اور ایماندار ی اپنا کام کریں تو پاکستان معاشی لحاظ سے ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے۔بد قسمتی سے ہمارے سفارت کار کی سلیکشن کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔اگر ان کی سلیکشن میرٹ پر ہو تو بہت ہی رزلٹ اچھے آسکتے ہیں۔کمرشل اتاشی اپنا اصل کام نہیں کرتے ،اب ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے انہیں اپنا کام محنت اور ایمانداری سے کرنا ہوگا۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستانی ویزہ لینے میں اور پھر پاکستان میں کام شروع کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سسٹم کو آسان بنانا ہوں گا۔تب ہی پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
سوال:پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے آپ حکومت کو کیا تجاویز دیں گے؟
ندیم ارشد بھٹی :غیرملکی سر مایہ کاروں کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے پاکستان ایک بڑی مارکیٹ ہے ،پاکستانی حکمرانوں کو اس مارکیٹ کی مارکیٹنگ کرنے کی ضرورت ہے،ویسے بھی اب دُنیا بھر میںسفارتکاری کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی آگئی ہے اور اس کی جگہ معاشی سفارتکاری نے لے لی ہے لہٰذا اب مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفارت کار وں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی معیشت کو فروغ دینے اور ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے ان ممالک کے سرمایہ کاروں، بزنس مین اور چیمبرز آف کامرس کے عہدیداروں سے ملاقات کرکے اپنے روابط بڑھائیں اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیں، کیونکہ معاشی طور پر مضبوطی حاصل کرنے کیلئے پاکستان کی حکومت کو اب ایڈ کے بجائے ٹریڈ کی پالیسی اپنانی ہو گی، دُنیا بھر کے ممالک میں موجود پاکستانی سفارتکاروں کو چاہیے کی وہ اُن ملکوں کے تاجروں اور سرمایہ کاروں تک پاکستان کے بارے میں درست اور مستند معلومات پہنچائیں تاکہ پاکستان کیان ممالک کے ساتھ تجارت وسرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ مل سکے۔سی پیک میں چین ، روس ، کوریا، ترکی ،جاپان ،جرمنی، ایران ، افغانستان سمیت دُنیا بھر کے سرمایہ کاروں کیلئے جوائنٹ وینچرز و سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں،حکومت پاکستان ان ممالک کے ساتھ واٹر مینجمنٹ، ویسٹ مینجمنٹ، ہیلتھ کیئر، صنعت، چمڑے کی مصنوعات، آلات جراہی، ٹیکسٹائل کی مصنوعات، زراعت اور فوڈ سیکیورٹی سمیت دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کرے۔ آٹوموبائل پاکستان میں ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا سیکٹر ہے لہٰذا ،جاپان چین، جرمنی ،ملائیشیا کی آٹو موبائل کمپنیاں ٹیکنالوجی کی منتقلی کر کے پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کے پلانٹ لگائیں۔ پاکستان میں لیبر کاسٹ سمیت کاروبار کرنے کی لاگت یورپ کی نسبت کافی کم ہے لہٰذا غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی کے شعبوں میں جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کر کے فائدہ اٹھاسکتے ہیںپاکستان کے چمڑے کی مصنوعات،آلات جراہی، ٹیکسٹائل کی مصنوعات اور مچھلی سمیت دیگر بہت سی پاکستانی مصنوعات کی دُنیا بھر میں مانگ موجود ہے لہٰذاپاکستان کی تجارت کو فروغ دینے کیلئے بیرون ممالک میں قائم پاکستان کے سفارتخانوں کو اپنا کردا رادا کرتے ہوئے چائیے کہ وہ پاکستانی مصنوعات کی مارکیٹ میں مانگ کی نشاندہی کر کے مقامی چیمبروں کو بتائیں،پاکستانی سفارتکار مختلف ممالک میں ڈسپلے سنٹرز قائم کریں جہاں پاکستانی تاجر برادری وہ اپنی مصنوعات کی نمائش کر کے ان مصنوعات کو آسانی کے ساتھ فروخت کرسکیں۔ پاکستان کی معیشت میں بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری قائم کرنے عمدہ مواقع موجود ہیں لہٰذا غیر ملکی تاجروں کو پاکستان میں موجود کاروباری مواقعوں سے آگاہ کرنے کیلئے پاکستانی سفارتکاروں کو کردار ادا کرنا چائیے تاکہ وہ ان مواقعوں سے استفادہ حاصل کر کے باہمی تجارت کو فرو غ دے سکیں۔اس کے علاوہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کےلئے جامع اور طویل مدتی معاشی پالیسی بنائی جائے اورپالیسی بناتے وقت متعلقہ شعبہ کے اسٹیک ہولڈرز سے ضرور مشاورت کی جائے، ملکی برآمدات بڑھانے کیلئے ٹیکسٹائل سیکٹرکوگیس وبجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستنشٰی قراردےکرگیس وبجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ مینوفیکچرزاورتاجرمقامی وعالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات مقابلے کی سطح پربرقراررکھ سکیں ، توانائی بحران ختم کیے بغیر ملک کی اقتصادی ،صنعتی اورمعاشی ترقی ممکن نہیں ہے لہٰذا حکومت توانائی کے شعبے میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کرے اورحکومت ملک بھرمیں گیس کے یکساں نرخ مقررکرے کیونکہ مہنگی انرجی کی وجہ پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے جس کے باعث مقامی انڈسٹری اورصنعتیں مہنگی اشیا تیارکرکے انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایکسپورٹ کرنے کی حامل نہیں رہیں ۔
سوال: آپ کے خیال میںپاکستان کوترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے کیلئے کس ملک کو رول ماڈل بنانا چاہیے؟
ندیم ارشد بھٹی :پاکستان کو ترقی اور عوام کو خوشحال بنانے کیلئے جاپان ، کوریا،چین ، انگلینڈ ، کینیڈا ، سنگاپور، جرمنی ، فرانس کو رول ماڈل بنایا جاسکتا ہے۔کیونکہ ان ممالک کی عوام نے اجتماعی سوچ اپنا کرپوری یکسوئی،سچائی اور ایمانداری کے ساتھ انتھک محنت کو اپنا وطیرہ بنا کرٹیکنالوجی سمیت دیگرمیں شعبوں میں ناقابل تسخیر ترقی کی منازل طے کیںہیں۔پاکستانی حکومت کو چاہےے کہ وہ فوری طور پر پاکستان کے نوجوانوں کو ان ملکوں میں بھجوائے جہاں پر انہیںٹیکسٹائل مشینری ، مشین ٹولز، فوڈانڈسٹری
، دودھ، فیبرکس، شپ انڈسٹری،فش فارمنگ، ریلوے، واٹر سینی ٹیشن، موسم، فلڈ کنٹرول،نیچرل ڈیزاسسٹر، ماڈرن فرنیچر، بلڈنگ آرکیٹیکٹ، کمپیوٹر، کاغذ انڈسٹری، رنگ سازی، موٹر سائیکل، کار، ٹی وی کیبل، سرجیکل سامان ، آپریشن تھیٹروں کی تیاری ، پٹرولیم، منرلز، پولٹری،فارماسوٹیکل انٹرنیشنل سیلزمین شپ، ڈھور ڈنگر، اضافی پیداوار، بیجوں کی امپرومنٹ، پودوں اور فصلوں کی بیماریاں، کھیتی باڑی کے جدید طریقے، پھولوں کی صنعت،کارپٹ، شوگر،سازی، تمباکو انڈسٹری، میک اپ، انڈسٹری، گارمنٹس، ایڈورٹائزنگ،زیورات، پلاسٹک انڈسٹری سمیت دیگرشعبہ جات کی تکنیکی تربیت دلائی جائے،تاکہ پاکستان بھی ان شعبوں سے فائدہ اُٹھا کر اپنی معیشت مضبوط بناسکے۔
سوال: آپ سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے حوالے سے حکومت کو کیا تجاویز دیں گے؟
ندیم ارشد بھٹی :پاکستان میں سیاحت کے بے انتہا مواقع موجود ہے۔ملک میں سیاحت کے فروغ سے معاشی عمل میں تیزی آئے گی اور مقامی افراد کیلئے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ،ملک کے طول و عرض میں پھیلے سیاحتی مقامات کو ایسی شکل دی جائے کہ وہ ہماری تہذیب اور ہماری سماجی اقدار کی عکاسی کریں اور سیاحوں کیلئے معیاری سہولیات میسر ہوں۔ سیاحتی مقامات کے فروغ اور روڈز کی تعمیرو ترقی کیلئے حکمت عملی و منصوبہ بندی کا فوری طور پرآغاز کیا جائے۔سیاحتی مقامات پر تجاوزات کے خاتمے کیلئے فوری طور پر مہم شروع کرنے اور سیاحتی مقامات کے حوالے سے جامع اور مفصل ویسٹ مینجمنٹ پلان تشکیل دیا جائے۔اس کے علاوہ نجی شعبے کے تعاون سے سیاحتی مقامات پر معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے جامع منصوبہ بندی اور اقدامات کئے جائیں۔
سوال: کاروبار تو سب ہی لوگ کرتے ہیں، آپ کی کامیابی کا کیا راز ہے؟
ندیم ارشد بھٹی :میں سمجھتا ہوں کہ اگر آدمی ایمان داری سے کام کرے، کسی کو دھوکا نہ دے، تو اللہ تعالیٰ برکت عطا فرما دیتا ہے۔ تمام ہی کاروبار منافع بخش ہوتے ہیں اور تمام ہی کاروبار اچھے ہوتے ہیں بشرطیکہ آپ ایمان داری اور دیانت داری اپنائیں۔
سوال:آپ پاکستانی عوام کو کیا پیغام دیں گے؟
ندیم ارشد بھٹی :دین اسلام امن رواداری اور انسانیت کا مذہب ہے ہمارے دین کے روشن خیال اقدار کی اساس قرآن کے احکامات اور ہمارے بزرگوں کی شاندار روایات ہیں جوامن و آشتی اور اعتدال پسندی کو فروغ دیتی ہیں لہٰذا عوام یہ عزم کریں کہ وہ روشن خیال اور میانہ روی کا راستہ اختیار کریں گے اور اقوام عالم اور مختلف تہذیبوں اور تقافتوں کے درمیان باہمی مفاہمت اور احترام کو فروغ دیں گے کیونکہ پاکستانی امن پسند لوگ ہیں ہماری خواہش ہے کہ ہم عزت وقار، خوشحالی اور ترقی کی بنیادوں پر اپنی زندگی بسر کریں اور ان مقاصد کے حصول کیلئے کوشاں رہیں تاکہ پاکستان میں امن و استحکام کی فضا پیدا ہو جس سے عوام کی سماجی اور معاشرتی ترقی ہو۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے قومی مفادات کو پہچانیں اور پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کو اولیت دیں۔ عوام پاکستان کوترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

پچھلی پوسٹ

انوشہ رحمان کی ویمن چیمبر آف کامرس لاہور آمد،خواتین سرمایہ کاروں سے ملاقات

اگلی پوسٹ

وزیر اعظم شہباز شریف کا سپیکر پنجاب اسمبلی سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
وزیر اعظم شہباز شریف کا سپیکر پنجاب اسمبلی سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

وزیر اعظم شہباز شریف کا سپیکر پنجاب اسمبلی سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper