لاہور ( انٹرویو:عالیہ خان)لاہور شہر اس وقت شدید ماحولیاتی آلودگی کے دباؤ میں ہے۔ بدلتے موسم کے ساتھ ساتھ فضا میں دھوئیں اور گردوغبار کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث سموگ نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ دن کے اوقات میں دھند جیسی فضا اور شام کے وقت مدھم دھواں شہریوں کے لیے سانس لینا مشکل بنا دیتا ہے۔ جیسے جیسے سردی میں اضافہ ہو گا، فوگ یعنی کہر کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے گا، جو بظاہر قدرتی عمل ہے مگر سموگ کے ساتھ مل کر انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیتا ہے۔ لاہور کے باسی نہ صرف سانس کی بیماریوں بلکہ آنکھوں میں جلن، گلے
کی خراش اور تھکاوٹ جیسی علامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس بدلتے موسم میں ضروری ہے کہ عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ بڑھتی آلودگی، سموگ اور بدلتے موسم کے اثرات سانس اور دمے کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں اور جو لوگ پہلے ان بیماریوں کا شکار ہیں ان کے لئے مزید مسائل کو جنم دیتے ہیں اس حوالے سے ہم نے ماہر امراضِ سِینہ وتپدق، سینئر جنرل فزیشن ڈاکٹر محمد صادق سے ایک انٹرویو کیا ہے۔ڈاکٹرمحمد صادق ایک سینئر چیسٹ اسپیشلسٹ اور پلمونولوجسٹ ہیں۔ آپ سابق چیف کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ سوشل سیکیورٹی اسپتال لاہور کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹرمحمد صادق نے ایم بی بی ایس علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور سے کیا، جب کہ (Specialization) پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوشن لاہور سے حاصل کیا۔
آپ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) لاہور کے سینئر وائس پریزیڈنٹ ہیں اور اس سے قبل سوشل سیکیورٹی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ڈاکٹر محمد صادق نہایت تجربہ کار اور ماہر معالج ہیں جنہیں امراضِ سینہ اور پھیپھڑوں کے امراض کے علاج میں وسیع تجربہ حاصل ہےڈاکٹر محمد صادق کی گفتگو نذر قارئین ہے ۔
سوال: ڈاکٹر صاحب! بدلتے موسم میں سب سے زیادہ کون سی بیماریاں لوگوں کو متاثر کرتی ہیں؟
جواب:بدلتا موسم انسانی صحت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب درجہ حرارت میں اچانک کمی یا اضافہ ہوتا ہے تو جسم کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایسے میں گلا خراب ہونا، نزلہ، زکام، بخار، کھانسی، سانس کی تنگی، اور الرجی جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔وہ لوگ جو پہلے سے سانس کی بیماریوں جیسے دمے یا الرجی کا شکار ہیں، ان کے لیے موسم کی تبدیلی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ان کے پھیپھڑے حساس ہوتے ہیں۔
سوال: سانس کی الرجی کیا ہے اور یہ کن لوگوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے؟
جواب:سانس کی الرجی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کا مدافعتی نظام ماحول میں موجود گردوغبار، پولن، دھوئیں،
خوشبوؤں یا پالتو جانوروں کے بالوں پر ضرورت سے زیادہ ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ایسے افراد جن کے خاندان میں الرجی یا دمے کی ہسٹری ہو، یا جو آلودہ ماحول میں زیادہ وقت گزارتے ہیں، ان میں اس بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔الرجی کی عام علامات میں ناک بہنا، چھینکیں آنا، آنکھوں میں خارش، گلے میں خراش، اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔
سوال : سانس کی الرجی اور دمے میں کیا فرق ہے؟
جواب:الرجی اور دمہ دونوں آپس میں جڑے ہوئے ہیں مگر ایک جیسے نہیں۔الرجی وقتی طور پر کسی خاص عنصر کے ردِعمل سے ہوتی ہے، جب کہ دمہ ایک مستقل بیماری ہے جس میں سانس کی نالیاں باریک اور حساس ہو جاتی ہیں۔اگر الرجی پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو وہ بعد میں دمے میں بدل سکتی ہے۔ دمے میں سانس کی نالیوں میں سوزش بڑھ جاتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑاؤ اور سیٹی جیسی آواز پیدا ہوتی ہے۔
سوال: بدلتے موسم میں دمے کے مریض کن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں؟
جواب:بدلتے موسم کے دوران فضا میں موجود نمی، پولن، گردوغبار، اور درجہ حرارت کی اچانک تبدیلی دمے کے مریضوں کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتی ہے۔سرد موسم میں جب ہوا خشک ہو جاتی ہے تو سانس کی نالیاں سکڑتی ہیں، جس سے سانس لینے
میں دشواری بڑھ جاتی ہے۔گرمی کے موسم میں آلودگی اور دھواں دمے کے حملوں کو بڑھا دیتا ہے۔اس لیے مریضوں کو اپنی دوائیں، انہیلر، اور ڈاکٹر کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔
سوال: دمے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
جواب:دمے کی وجوہات میں وراثتی عوامل، ماحولیاتی آلودگی، گردوغبار، سگریٹ نوشی، صنعتی دھواں، اور الرجی شامل ہیں۔بچپن میں بار بار ہونے والا زکام یا نزلہ بھی بعد میں دمے کا سبب بن سکتا ہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جسے صحیح علاج اور احتیاط سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
سوال: بدلتے موسم میں الرجی اور دمے سے بچاؤ کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟
جواب:سب سے اہم چیز صفائی اور پرہیز ہے۔ صبح سویرے یا شام کے وقت جب فضا میں پولن یا دھند زیادہ ہو تو باہر نکلنے سے گریز کریں۔گھر کے پردے، بستر اور کمبل صاف رکھیں، سگریٹ نوشی سے اجتناب کریں اور کمرے میں خوشبو دار اسپرے کم استعمال کریں۔سانس کے مریضوں کو ہمیشہ انہیلر یا دوائی ساتھ رکھنی چاہیے اور پانی زیادہ پینا چاہیے تاکہ جسم میں نمی برقرار رہے۔
سوال: کیا دمے یا الرجی کے مریض ورزش کر سکتے ہیں؟
جواب:جی ہاں، دمے کے مریضوں کے لیے ہلکی پھلکی ورزش جیسے واک یا یوگا مفید ہے کیونکہ اس سے پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔تاہم سردی یا گردوغبار والے ماحول میں ورزش سے گریز کریں۔ورزش سے پہلے انہیلر کا استعمال بعض مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، مگر یہ صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔
سوال: بچوں میں سانس کی الرجی کیوں بڑھ رہی ہے؟
جواب:آج کے دور میں بچوں کا زیادہ وقت بند کمروں میں گزرنا، آلودہ ہوا، فاسٹ فوڈ کا استعمال، اور باہر کھیل کود کی کمی
الرجی بڑھنے کی بڑی وجوہات ہیں۔گھروں میں خوشبو دار اسپرے، مچھر مار کوائل، یا والدین کی سگریٹ نوشی بھی بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔بچوں کو تازہ ہوا، متوازن غذا، اور صاف ماحول فراہم کر کے ان بیماریوں سے کافی حد تک بچایا جا سکتا ہے۔
سوال : نومولود بچوں کی موسم کے لحاظ سے دیکھ بھال کے لیے آپ کیا مشورہ دیں گے؟
جواب:نومولود بچے موسمی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے بہت حساس ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا۔سرد موسم میں انہیں اچھی طرح ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے، لیکن اس حد تک نہیں کہ انہیں پسینہ آنے لگے۔ کمرے کا درجہ حرارت معتدل ہونا چاہیے نہ بہت ٹھنڈا اور نہ بہت گرم۔گرمیوں میں بچے کو ہلکے اور نرم کپڑے پہنائیں تاکہ پسینہ نہ آئے اور جلد پر خارش یا الرجی پیدا نہ ہو۔گھر کے اندر ہوا کی آمدورفت برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ بچے کو خالص آکسیجن ملتی رہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ نومولود کو کسی ایسے فرد کے قریب نہ آنے دیا جائے جو نزلہ یا کھانسی میں مبتلا ہو، کیونکہ انفیکشن فوراً منتقل ہو سکتا ہے۔
سوال: اگر کسی کو اچانک سانس کی تنگی یا الرجی کا حملہ ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
جواب:اگر مریض کو پہلے سے دمہ یا الرجی ہے تو فوراً انہیلر یا نیبولائزر استعمال کرے۔اگر پہلی بار ایسا ہوا ہے تو مریض کو بیٹھنے کی پوزیشن میں رکھیں، گہری سانس لینے میں مدد کریں اور فوراً اسپتال پہنچائیں۔خود علاج یا گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سوال: سانس کے مریض اپنی خوراک میں کیا تبدیلیاں لائیں؟
جواب:ایسے مریضوں کے لیے وٹامن C، D اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز والی غذائیں جیسے مچھلی، اخروٹ، لیموں، سنگترہ اور
سبزیاں مفید ہیں۔مصنوعی فلیورز، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور زیادہ مرچ مصالحے والی اشیاء نقصان دہ ہیں۔کچھ مریضوں میں دودھ بلغم بڑھاتا ہے، اس لیے اگر ایسا محسوس ہو تو دودھ کم مقدار میں لیں۔
سوال: کیا سانس کی الرجی یا دمے کا مکمل علاج ممکن ہے؟
جواب:الرجی کا مکمل علاج ممکن نہیں مگر اسے مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔اگر مریض اپنی الرجی کی وجوہات پہچان لے، ان سے پرہیز کرے اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کرے تو وہ صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔
سوال: ڈاکٹر صاحب، جس طرح سے آپ جانتے ہیں کہ اب سموگ شروع ہو گئی ہے اور پھر اس کے بعد فوگ کا موسم بھی آ جائے گا۔ پہلے تو آپ ان دونوں میں فرق بتائیں اور پھر یہ بھی بتائیں کہ سانس کے مریضوں پر اس کے اثرات ہوتے ہیں، کیا صحت مند لوگوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے؟ اس سے محفوظ رہنے کے لئے کس طرح سے اپنا خیال رکھنا چاہئے؟
جی، سموگ اور فوگ کے حوالے سے آپ کا سوال بہت اہم ہے۔ فوگ یا کہر دراصل ایک قدرتی عمل ہے جو سردیوں کے موسم میں پیدا ہوتا ہے، جب فضا میں نمی زیادہ اور درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے تو پانی کے ننھے ذرات فضا میں معلق ہو کر کہر بنا دیتے ہیں۔ یہ عام طور پر انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس سموگ دو لفظوں، دھواں (Smoke) اور کہر (Fog) سے مل کر بنتی ہے۔ یہ دراصل آلودہ کہر ہوتی ہے جو گاڑیوں کے دھوئیں، کارخانوں کے اخراج، کوڑا کرکٹ اور فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والے ذرات کے باعث بنتی ہے۔ سموگ میں موجود آلودہ ذرات اور کیمیکل انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہوتے ہیں۔سموگ کے دوران فضا میں آلودگی بڑھنے کی وجہ سے سانس کے مریضوں کو خاص طور پر دشواری کا
سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دمہ، الرجی، نزلہ، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ صرف سانس کے مریضوں تک محدود نہیں بلکہ صحت مند افراد پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، ناک بند ہونا، تھکاوٹ اور سر درد جیسی علامات عام طور پر سامنے آتی ہیں۔ بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کے لیے یہ موسم خاص طور پر خطرناک ہو سکتا ہے۔ایسے موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو ماسک، خاص طور پر N95 ماسک کا استعمال کریں۔ آنکھوں کو بچانے کے لیے چشمہ پہنیں اور کوشش کریں کہ صبح و شام کے اوقات میں کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔ گھر کے اندر کی ہوا صاف رکھنے کے لیے ایئر پیوریفائر یا قدرتی پودوں کا استعمال مفید رہتا ہے۔ پانی زیادہ پینا بھی جسم کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ یہ زہریلے ذرات کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر کسی کو سانس لینے میں دشواری یا سینے میں جلن محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
سوال: آخر میں آپ عوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب:میرا پیغام ہے کہ بدلتے موسم کو ہلکا نہ لیں۔ اگر نزلہ، کھانسی یا سانس کی ہلکی سی شکایت بھی ہو تو بروقت معالج سے رجوع کریں۔گھروں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں، متوازن خوراک استعمال کریں، اور ورزش کو معمول بنائیں۔دمے یا الرجی کے مریض اپنی دوائیں ہمیشہ ساتھ رکھیں، اور سب سے بڑھ کر مثبت سوچ کے ساتھ زندگی گزاریں، کیونکہ حوصلہ بیماری سے لڑنے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔




