لندن ( نمائندہ خصوصی بی بی سی اردو ڈاٹ کام)اسرائیلی فوج کی ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کی تصدیق، تہران پر متعدد فضائی حملوں اور درجنوں اہداف کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰاسرائیلی فوج ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کی خبروں کی تصدیق کی ہے تاہم حملے کے مقام کی تفصیل نہیں بتائی، دوسری جانب اسرائیل نے تہران پر متعدد فضائی حملوں اور درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیل ایرانی اہداف پر اپنے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اسرائیلی بنیامن نیتن یاہو اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کر رہے ہیں۔امریکہ کی مسلسل سیاسی اور عسکری حمایت برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی وزیرِاعظم محتاط رہنے کے علاوہ کسی اور قدم کے اُٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس بات کی مثال اُس وقت سے لی جا سکتی ہے کہ جب انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح درخواست پر ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی۔جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے عبرانی میں کہا کہ جنگ ’جتنی دیر ضروری ہوئی جاری رہے گی‘، اس سے پہلے کہ انھوں نے انگریزی میں دعویٰ کیا کہ وہ اس جنگ کو ’لوگوں کی سوچ سے بھی کہیں پہلے ختم ہوتا دیکھ رہے
ہیںبی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق۔‘اگر واقعی وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کو ’کم‘ کرتا ہے تو اسرائیل تقریباً بلکہ یقینی طور پر وہی کرے گا کہ اُسے امریکہ کی جانب سے کہا جائے گا۔لیکن اگر رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کو آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مزید وسائل اس جنگ میں جھونکنے پڑتے ہیں تو اس سے اسرائیل کو ایرانی فوجی اہداف پر حملے جاری رکھنے کا مزید وقت ملے گا۔درحقیقت، وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے سنیچر کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ فضائی حملوں میں مزید شدت آئے گی۔‘بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق ہمیں تہران میں اسرائیل فوج کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد نقصان
کی نئی تصاویر موصول ہو رہی ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے ایران پر جاری ہیں۔ان تصاویر میں دارالحکومت تہران کی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان اور سڑکوں پر بکھرا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے۔فوجی ذرائع نے ایرانی میڈیا کو بتایا ہے کہ اگر امریکا خارگ جزیرے کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی پر عمل کرتا ہے تو اسے ’ناقابلِ یقین‘ نقصان اٹھانا پڑے گا۔پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کے پاس ایک آپشن یہ ہے کہ وہ بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کو ’غیر مستحکم‘ کر دے۔آبنائے باب المندب، جسے ’گیٹ آف ٹئیرز‘ بھی کہا جاتا ہے، تقریباً 20 میل چوڑا سمندری راستہ
ہے جو جزیرہ نما عرب میں یمن اور افریقی ساحل پر جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ یہ راستہ نہرِ سویز تک جاتا ہے۔فوجی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز اور ایران کی تیل کی تنصیبات کے حوالے سے امریکہ ایک بڑے مخمصے کا شکار ہے۔‘ان کے مطابق اگر امریکی خارگ جزیرے پر حملہ کرتے ہیں تو تیل کی پیداوار عارضی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ ’ایران خطے کی تمام تنصیبات کو آگ لگا دے گا اور امریکا کو ایسے نقصانات اٹھانے پڑیں گے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد نہیں دیکھے گئے۔بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق‘اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کے مطابق جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں
میزائل گرنے کے نتیجے میں تقریباً 20 افراد زخمی ہ گئے ہیں۔میگن ڈیوڈ آدوم نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ اُن کا طبی نے ایک 10 سالہ لڑکے اور 40 سالہ خاتون کی طبی امداد فراہم کی جو کہ میزائل کے ٹکڑے لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے۔ادارے کے مطابق دیگر زخمی افراد کو بھی موقع پر ہی طبی امداد دی جا رہی ہے۔برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈز کو بھیجے جانے والے ایک پیغام میں کہا ہے کہ قبرص میں برطانیہ کا فوجی اڈہ آر اے ایف اکروتیری امریکا کی ایران کے خلاف کارروائیوں میں ’شامل نہیں ہوگا۔‘جنگ کے آغاز پر سٹارمر نے امریکی افواج کو کچھ برطانوی اڈے یعنی آر اے ایف فیئر فورڈ اور ڈیگو گارشیا دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی تاکہ ایران کی جانب سے ایسے میزائل
حملوں کو روکا جا سکے جو برطانوی مفادات یا جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔بعد ازاں انھوں نے امریکا کو برطانوی اڈوں سے آبنائے ہرمز کو ہدف بنانے والی ایرانی تنصیبات پر حملے کرنے کی بھی اجازت دے دی۔اس سے قبل کرسٹوڈولائڈز کے ساتھ گفتگو کے دوران برطانوی وزیرِاعظم نے ’دوبارہ واضح کیا کہ آر اے ایف اکروتیری، خطے کے اجتماعی دفاع کے لیے امریکا کے ساتھ برطانیہ کے معاہدے کے تسلسل میں، بشمول ایرانی میزائل صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے اقدامات میں، شامل نہیں ہوگا۔‘’جاری تنازع کے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے، رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔‘’رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔‘



