واشنگٹن (نیوز ڈیسک)
واشنگٹن میں ہونے والی ایک باضابطہ سماعت، جو بظاہر “سام دشمنی” (Anti-Semitism) کے موضوع پر منعقد کی گئی تھی، غیر معمولی سیاسی تنازع کا سبب بن گئی۔ اس سماعت میں امریکی مذہبی آزادی کمیشن (Religious Liberty Commission) کی کمشنر اور سابقہ مس کیلی فورنیا محترمہ Carrie Prejean Boller نے بے مثال جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے یہودیوں کو ساری انسانیت کا دشمن قرار دے دیا۔ جس کے بعد واشنگٹن کی سیاست میں زلزلہ بپا ہوگیا اور خاتون کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
سماعت کے دوران کمشنر نے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کو “نسل کشی” (Genocide) قرار دیا اور یہ سوال اٹھایا کہ آیا امریکہ میں اسرائیل پر تنقید یا صہیونیت کی مخالفت کو خودکار طور پر “سام دشمنی” سمجھا جانا چاہیے؟ ان کا مؤقف تھا کہ کسی ریاست کی پالیسیوں پر تنقید کو مذہبی عداوت کے مترادف قرار دینا آزادیٔ اظہار کے اصولوں سے متصادم ہے۔ انہوں نے
مطالبہ کیا کہ “سام دشمنی” کے الزام کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے تاکہ تنقیدی آوازوں کو خاموش کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونیت کی مخالفت لازماً مذہبی عداوت نہیں ہوتی۔معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب انہوں نے نئے عہدنامے (New Testament) کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر مذہبی متن میں موجود بعض عبارات کو بنیاد بنا کر گفتگو کی جائے تو کیا انہیں بھی سنسر یا ختم کیا جائے گا؟ عہدنامے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ یہودیوں نے سیدنا مسیحؑ کو قتل کیا اور تمام انبیاء کو بھی۔ اس سوال نے سماعت کا رخ بدل دیا اور بحث آزادیٔ اظہار، مذہبی حساسیت اور سیاسی اصطلاحات کی تعریف تک جا پہنچی۔انہوں نے Seth Dillon، جو طنزیہ ویب سائٹ The Babylon Bee کے سی ای او ہیں، سے سوال کیا کہ کیا وہ “رسالۂ تسالونیکیوں اول” (1 Thessalonians 2:15) پر بھی پابندی لگانا چاہیں گے؟ وہ حوالہ جس میں کہا گیا ہے:“وہ یہودی جنہوں نے خداوند یسوع کو قتل کیا اور انبیاء کو بھی اور ہمیں ستایا، وہ خدا کو پسند نہیں اور سب لوگوں کے دشمن ہیں۔”سماعت کے بعد اسرائیل کے حامی حلقوں اور متعدد سیاسی شخصیات کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ میڈیا میں ان کے بیان کو “سرخ لکیر کی خلاف ورزی” قرار دیا گیا اور فوری طور پر ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔چند ہی گھنٹوں میں کمیشن کے چیئرمین، ٹیکساس کے لیفٹیننٹ گورنر Dan Patrick نے اعلان کیا کہ کمشنر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے سماعت کے دوران کمیشن کے دائرۂ کار سے ہٹ کر ذاتی و سیاسی مؤقف اختیار کیا، جو ادارہ جاتی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔تاہم، خود کمشنر نے اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں صرف صدر ہی برطرف کر سکتے ہیں اور یہ اقدام قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں ہے۔ یوں معاملہ محض ایک بیان تک محدود نہیں رہا بلکہ آئینی اختیار اور انتظامی حدود کی بحث میں بھی داخل ہو گیا۔اس پیش رفت نے واشنگٹن میں ایک وسیع تر بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا غزہ کی جنگ امریکی سیاسی بیانیے میں دراڑ ڈال رہی ہے؟ کیا اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید اور مذہبی تعصب کے درمیان لکیر کو ازسرنو متعین کیا جا رہا ہے؟ اور کیا آزادیٔ اظہار کے اصول اب ایک نئے امتحان سے گزر رہے ہیں؟تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ محض ایک انفرادی بیان نہیں بلکہ امریکی داخلی سیاست میں جاری نظریاتی کشمکش کی علامت ہے۔ ایک جانب اسرائیل کی روایتی حمایت کا مضبوط ڈھانچہ ہے اور دوسری جانب ایسے حلقے ہیں جو پالیسی اور مذہب کے درمیان فرق واضح کرنے پر زور دے رہے ہیں اور ان کی برداشت اب جواب دینے لگی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ تنازع وقتی طوفان ثابت ہوتا ہے یا امریکی سیاسی منظرنامے میں کسی گہرے اور دیرپا تغیر کی تمہید۔

