اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):جموں و کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ آج کا دن (11 فروری)محض ایک تاریخ نہیں بلکہ للکار ہے،یہ وہ دن ہے جب ایک جسم کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا مگر نظریے کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا گیا،شہادتیں تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں،کشمیر کی آزادی کا سورج ضرور طلوع ہو گا۔یہ بات انہوں نے شہید کشمیر مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی۔انہوں نے کہا کہ شہیدِ کشمیر مقبول بٹ وہ نام ہے جسے مٹانے کی ہر
سازش خود مٹ گئی مگر ان کا پیغام آج بھی کشمیریوں کے لہو میں دوڑ رہا ہے۔انہوں نے سکھایا کہ آزادی مانگی نہیں جاتی بلکہ چھینی جاتی ہے، سر جھکانے سے بہتر ہے سر کٹا دینا،کیا حق کی صدا کو پھانسی کے پھندے سے دبایا جا سکتا ہے،کیا زنجیریں کسی قوم کے خوابوں کو قید کر سکتی ہیں،مقبول بٹ کی شہادت نے ثابت کیا کہ وقتی طور پر ظلم کا شور بلند ہو سکتا ہے مگر انجام ہمیشہ حق کی فتح ہوتا ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ مقبول بٹ ایک فرد نہیں بلکہ فکر ہیں اور فکر کو کبھی دفن نہیں کیا جا سکتا،مقبول بٹ کو تختۂ دار ملا مگر کشمیر کو حوصلہ ملا،ظلم نے جسم کو مٹایا لیکن نظریہ آج بھی زندہ و تابندہ ہے ، سر کٹ سکتا ہے مگر آزادی کا خواب نہیں مر سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ مقبول بٹ کی شہادت کشمیریوں کے عزم کو مزید مضبوط کر گئی،حق کی آواز کو نہ گولی روک سکتی نہ پھانسی روک سکتی ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ ہر کشمیری کے دل میں آج بھی مقبول بٹ زندہ ہیں،شہادتیں تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں،کشمیر کی آزادی کا سورج ضرور طلوع ہو گا۔
