نئی دہلی ( نیوز ڈیسک):روس سے تیل کی خریداری کی عارضی امریکی اجازت نے بھارت کی نام نہاد خودمختار پالیسی کا پردہ چاک کردیاہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق امریکہ بھارت تجارتی معاہدے کے بعد نریندرمودی کو ملک کی معاشی خودمختاری دائو پر لگانے کا ذمہ دارٹھہرایا جارہا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ نے خلیجی جنگ کے پیش نظر بھارت کو 30 روز کیلئے روس سے تیل کی خریداری کی اجازت دی ہے۔کانگریس رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ کیا اب امریکہ فیصلہ کرے گا کہ ہم نے کس سے تیل
خریدنا ہے؟ کانگریسی ایم ایل اے پریانک کھڑگے نے ایکس پر جای ایک بیان میں مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکی سیکرٹری خزانہ بھارت کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دینے والے کون ہوتے ہیں؟بھارتی حکومت ہر امریکی حکم پر کیوں جھک رہی ہے؟ پریانک کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو مذاق بنا دیا، مودی حکومت کو کچھ حوصلہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ماہرین کے مطابق معرکہ حق میں شکست کے اسٹریٹیجک اثرات عام بھارتی شہری تو محسوس کررہا ہے لیکن بھارتی حکومتی حلقے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دبائو سے بچنے کیلئے بھارت کو اپنی توانائی پالیسی اور خودمختاری پر مسلسل سمجھوتہ کرنا پڑرہا ہے۔اگر بنیادی معاشی فیصلے بھی امریکہ کی منظوری سے مشروط ہیں تو اس سے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور خودمختاری پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
