اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نےعالمی یومِ خواتین کے موقع پر خواتین کے لیے انصاف تک رسائی کو مزید موثر اور محفوظ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ آئین کے تحت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔اپنے خصوصی پیغام میں چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کی خواتین ملک کی ترقی اور استحکام میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔وہ معاشی، سماجی اور شہری زندگی کے ہر شعبے میں عزم اور صلاحیت کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کی قیادت اور بصیرت ملک کے حال اور مستقبل کی تشکیل میں اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دیتا ہے اور صنفی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔ یہ ضمانتیں صرف نظریاتی نہیں بلکہ ریاستی اداروں بالخصوص عدالتوں کے لیے آئینی ذمہ داری ہیں کہ وہ خواتین کے حقوق
کا تحفظ کریں اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود خواتین کو انصاف تک رسائی میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے۔ بعض سماجی رویے، قانونی عمل میں موجود خلا اور سماجی دباؤ خواتین کے لیے انصاف کے حصول کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی، پسماندہ اور معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے عدالتی نظام پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ ان مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ قانون کے تحت مساوات کو عملی شکل دی جائے تاکہ ہر خاتون اعتماد اور وقار کے ساتھ انصاف کے نظام سے رجوع کر سکے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ گزشتہ سالوں میں عدلیہ نے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس ضمن میں ججوں کی تربیت اور آگاہی کے ذریعے صنفی حساس فیصلوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ قوانین اور قانونی طریقہ کار کا جائزہ لے کر پالیسی اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے سال 2026-27 کے لیے عدالتی اصلاحات کے ایجنڈے میں صنفی حساس انصاف کو مرکزی حیثیت دی ہے تاکہ عدالتی نظام کو خواتین کے لیے زیادہ قابلِ رسائی، معاون اور موثر بنایا جا سکے۔اس اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت ملک بھر کی عدالتوں میں خواتین کے لیے خصوصی فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے جہاں انہیں ایک ہی جگہ قانونی رہنمائی اور معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بار کونسلز کے تعاون سے خواتین کے لیے مفت قانونی معاونت اور مشاورتی خدمات کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی جبکہ فوری قانونی رہنمائی کے لیے لیگل ایڈوائزری ہیلپ لائن بھی قائم کی جائے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ خاندانی تنازعات کے حل کے لیے عدالتوں میں مصالحتی اور فیملی سپورٹ سروسز کو بھی مضبوط بنایا جائے گا تاکہ طویل عدالتی کارروائی سے پیدا ہونے والے مالی اور ذہنی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔مزید برآں خواتین سے متعلق قوانین کا جائزہ لے کر انہیں جدید تقاضوں کے مطابق زیادہ منصفانہ اور صنفی حساس بنانے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ عدالتی نظام میں صنفی منصفانہ زبان کے استعمال کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جائے گا جبکہ قانونی آگاہی کے پروگرامز کے ذریعے خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں کی خواتین کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ انہیں موثر انداز میں استعمال کر سکیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایسا نظامِ انصاف تشکیل دینا ہے جو اصولی طور پر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی منصفانہ، قابلِ رسائی اور انسانی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ کسی بھی عادل معاشرے کی اصل پیمائش اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواتین کو کتنی آزادی، وقار اور مساوات فراہم کرتا ہے۔خواتین کے حقوق کا تحفظ اور ان کی ترقی دراصل انصاف کے حقیقی قیام کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کے لیے انصاف کے فروغ کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی کیونکہ خواتین کے لیے انصاف ہی پاکستان کے لیے انصاف ہے۔
