لاہور(ہیلتھ رپورٹر) :فاطمہ میموریل ہسپتال نے الزائمر کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر کی کمیونٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس دن کو منایا۔ یہ دن ہر سال اس مقصد کے تحت منایا جاتا ہے کہ الزائمر اور دیگر اقسام کے ڈیمینشیا کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے اور ان بیماریوں کی وجہ سے موجود باہمی سماجی فاصلوں کو ختم کیا جا سکے۔فاطمہ میموریل ہسپتال کی سینیئر رجسٹرار نیوروسرجری، ڈاکٹر مدیحہ کنول نے کہا کہ "ہمیں ڈیمینشیا کے بارے میں کھل کر بات کرنے، متاثرہ افراد کی مدد
کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کو آگہی اور وسائل سے بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ الزائمر بڑھاپے کا معمولی حصہ نہیں بلکہ دماغ کی ایک بتدریج بگڑتی ہوئی بیماری ہے۔ ابتدائی تشخیص، بروقت طبی علاج اور کمیونٹی سپورٹ سے مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور بیماری کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے۔”عالمی ادارہِ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد الزائمر اور دیگر اقسام کے ڈیمینشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور
یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ الزائمر کا عالمی دن ایک اہم یاد دہانی ہے کہ یہ دماغی بیماریاں دنیا کے لیے کس قدر بڑا عوامی صحت کا چیلنج بنتی جا رہی ہیں اور ان کے بارے میں ہمدردی، آگاہی اور عملی اقدامات کس قدر ضروری ہیں۔اس موقع پر فاطمہ میموریل ہسپتال نے عوام پر زور دیا کہ وہ آگاہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں، دیکھ بھال کرنے والوں کی مدد کریں، اپنے پیاروں کے ساتھ یادداشت کے حوالے سے بات کریں اور بہتر علاج و نگہداشت کے نظام کے لیے آواز بلند کریں کیونکہ ڈیمینشیا کے خلاف جدوجہد میں ہر اقدام بہت اہمیت کا حامل ہے۔

