تحریر:عالیہ خان
alyiakhan875@gmail.com
سروائیکل کینسر کو دنیا بھر میں ایک "خاموش قاتل” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ بیماری رحم کے نچلے حصے گریوا میں خلیوں کی غیر معمولی تبدیلیوں سے پیدا ہوتی ہے اور زیادہ تر اس کی بنیادی وجہ ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً پانچ لاکھ خواتین اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں جن میں سے تقریباً تین لاکھ اپنی جان گنوا دیتی ہیں۔ اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی علامات اکثر دیر سے ظاہر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ترقی پذیر ممالک میں اس مرض کا بوجھ کہیں زیادہ ہے کیونکہ وہاں بروقت تشخیص اور
اسکریننگ کی سہولتیں محدود ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ہر سال پانچ ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں جبکہ تین ہزار کے قریب خواتین اس مرض کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔اس مر ض سے شرح اموات جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ 64 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کی وجوہات میں بروقت ٹیسٹ نہ کروانا، آگاہی کی کمی، شادی اور ماں بننے کی کم عمری، سگریٹ نوشی، اور صحت کی سہولیات تک محدود رسائی شامل ہیں۔یہی وہ صورتحال ہے جس نے عالمی ادارۂ صحت کو 2030 تک اس مرض پر قابو پانے کے لیے ایک عالمی حکمتِ عملی ترتیب دینے پر مجبور کیا۔ اس حکمتِ عملی کے تین اہم مقاصد ہیں: 90 فیصد لڑکیوں کو 15 سال کی عمر تک HPV ویکسین فراہم کرنا، 70 فیصد خواتین کو زندگی میں کم از کم دو بار اسکریننگ کی سہولت دینا، اور 90 فیصد متاثرہ خواتین کو بروقت اور مؤثر علاج مہیا کرنا۔پاکستان میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران سروائیکل کینسر کے خلاف اقدامات بڑھائے گئے ہیں۔ خاص طور پر حکومتِ پنجاب نے اس حوالے سے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ صوبے کی جانب سے HPV ویکسین کو قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) میں شامل کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ وزیرِ صحت پنجاب نے 2023 میں اعلان کیا تھا کہ HPV ویکسین کو 2025 تک معمول کی ویکسینیشن میں شامل کر کے لاکھوں لڑکیوں کو یہ تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ضلعی سطح پر ای پی آئی
مینیجرز کی تربیت، ویکسین کی سپلائی چین، اور عوامی آگاہی مہم کے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ یہ پروگرام کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔حال ہی میں پاکستان نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے 15 سے 27 ستمبر 2025 تک پہلی قومی HPV ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کا ہدف 9 سے 14 سال کی عمر کی تقریباً 13 ملین لڑکیوں کو ویکسین فراہم کرنا ہے۔ پنجاب میں اس مہم کو اسکولوں، پرائیویٹ اداروں اور مدارس تک پھیلایا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچیوں کو اس مرض سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ یہ قدم نہ صرف عوامی صحت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ یہ عالمی ادارۂ صحت کے اہداف سے ہم آہنگ بھی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال پانچ لاکھ خواتین متاثر اور تین لاکھ جان کی بازی ہارتی ہیں، پاکستان
میں سالانہ پانچ ہزار کیسز سامنے آتے ہیں اور تین ہزار خواتین اس مرض سے جاں بحق ہو جاتی ہیں۔ اس پس منظر میں عالمی ادارۂ صحت نے 2030 تک 90 فیصد لڑکیوں کو ویکسین لگانے، 70 فیصد خواتین کو زندگی میں کم از کم دو بار اسکریننگ کی سہولت دینے اور 90 فیصد مریضہ خواتین کو بروقت علاج فراہم کرنے کے اہداف مقرر کیے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کا یہ فیصلہ کہ HPV ویکسین کو حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں شامل کر کے اسے اسکولوں اور اداروں کے ذریعے لاکھوں بچیوں تک پہنچایا جائے، انہی اہداف کے حصول کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔سروائیکل کینسر کے خلاف یہ جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آگاہی، بروقت تشخیص اور بچاؤ ہی اس مرض پر قابو پانے کے سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔ حکومت پنجاب اور پاکستان بھر میں شروع ہونے والی ویکسینیشن مہم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ”بچاؤ علاج سے بہتر ہے” محض ایک قول نہیں بلکہ ایک عملی حکمتِ عملی ہے جس پر عملدرآمد کے ذریعے ہزاروں خواتین کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔
یاد رکھیں، بچاؤ علاج سے ہمیشہ آسان اور مؤثر ہوتا ہے۔ہمارے سماجی و مذہبی تناظر میں معاشرے میں بعض لوگ ویکسین کو غلط زاویے سے دیکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک "کینسر سے بچاؤ” کی ویکسین ہے۔ اسلام بھی علاج اور احتیاط پر زور دیتا ہے، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اس حوالے سے جھجک ختم کریں۔آپ دیکھیں آج سے کچھ عرصہ قبل چیچک کے بہت سے کیسز ہوتے تھے مگر اس کی ویکسین لگنے سے یہ دنیا بھر سے ہی ختم ہوگئے۔اس لیے میں یہی کہوں گی کہ سروائیکل کینسر ایک ایسا مرض ہے جس سے بروقت اقدامات کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے۔ HPV ویکسین اور اسکریننگ کے ذریعے ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔وقت کی ضرورت ہے کہ ہم آگاہی کو عام کریں، خواتین کو چیک اپ اور ویکسین کی سہولیات دیں اور صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھیں۔
