ایک تو کلاوڈ برسٹ وہ تھے جنھوں نے دشمن کو بھی آبی جنگ کی ترغیب دے جس نے پنجاب کی سر زمین، ہریالی، خوشحال زندگی کو تہس نہس ٍکر دیا اور اب ممکنہ حکومتی امداد پیکج کے منتظر لوگ یہ بھی میری نظر میں امدادی کلاؤڈبرسٹ ہوگا۔جس میں مخصوص علاقوں کے شکرے اپنے آپ کو ڈاؤن کی شکل میں استعمال کریں گے۔غریب اور مقدار زمین سے حیرت سے ہوا میں جاتے امدادی معاملات کو دیکھتے جائیں گے۔کل چیف سیکرٹری پنجاب حالات کا جائزہ لینے علی پور تشریف لائے ان کے بیان کے مطابق کہ لوگوں کی بحالی کے لیے جامع پروگرام مرتب کریں گے۔ جاتے ہی ان کی ہدایت کے مطابق ڈرون پروگرام ریسکیو کے
لیے اپر و و ہوا۔ ہم انکے اس اقدام کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 190بوٹس بھی ریسکیو کے لیے حکومتی سطح پر تحویل میں دی گئیں اداروں کو تا کہ دور دراز کے فلڈ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالا جا سکے یہ بھی ایک احسن اقدام ہے پنجاب پولیس ٹیم ریسکیو فوج اور عوامی خدمت گزار پوری محنت اورہمت سے دن رات ایک کر کے عوام کی تکلیف میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان کی عظمت اور سچے جذبوں کو سلام ہے۔ سیلاب میں بچ جانے والے شہری جس میں علی پور کی عوام کا ذکر نہ کروں تو بات ادھوری ہوگی۔جس جذبے اور اخوت کے ساتھ انھوں نے سیلاب زردگان کے لیئے کھانا پانی اور بروقت اطلاعات کا سلسلہ کیا وہ مثالی ہے۔جس میں یہاں کی نوجوان نسل نے بے مثال جزبہ پیش کیا وہ ٹک ٹاک پر بر وقت اطلاعات ہوں یا علاقوں کی صورت حال جس بے جگری سے سے انھوں نے رات دن لوگوں کو مطلع رکھا لمحہ با لمحہ صورت حال سے آگاہ رکھا میں جزبے، ہمت، اور سوچ عمل کو میری طرف سے ہزاروں دعا ئیں اور سرخ سلام پیش کرتی ہوں۔
اب صورت حال حکومت کے جامع پروگرام کی طرف ہوگی۔ہر قدم پر اب سوچ رکھنے والے لوگ تیار بیٹھے ہیں کہ جنوبی پنجاب کو مٹا کر اس کی کیا تصویر بنائی جائے گی۔ہم جنوبی پنجاب کی عوام اس بار بغور دیکھیں گے کہ امدادی کلاؤڈ برسٹ صرف ڈرون شکروں کے ہاتھوں میں غائب ہوتا ہے یاپھر اپنی عظیم کا دشوں کے حامل وزیر اعظم پاکستان اور ایک عظیم انسان نواز شریف کی شیرنی بیٹی چیف منسٹر کے روپ میں ماضی کے فرسودہ اقدامات کو ختم کر کے عوام کے حق کو ڈرون شکروں سے محفوظ کر کے مظلوم انسانوں تک بالا تفریق کے پہنچاتی ہیں۔بڑی امیدیں ہیں لوگوں کو محترمہ مریم نواز سے نا قابل بیان یقین لوگوں کا ان کے عملی اقدامات پر میں تو یہی کہ سکتی ہوں کہ ہر علاقوں کی گنتی کر کے ہر ایک گاؤں تحصیل کا ڈیٹا نکال کر نادرا سے اور پھر حکومتی سطح پرٹیمیں بنائی جائیں۔جو علاقوں کے نام نہاد اقربا پرور کو نسلرز سیاسی کردار اور نمبرداروں کو ایک طرف رکھ کر افراد کو فرداً فرداً ان کے حقوق پہنچا ئیں جو بھیک نہ لگے جو باعث دل آزاری نہ ہو جو عزت نفس کی دل شکنی نہ ہو اگر مالی تحفظ ہو تو بنک کا استعمال کریں اگر اشیاء کی ترسیل ہو تو حکومتی ابزرویشن ہو ہمارے ارباب اختیار،
ہماریبیورو کریسی ہمارے محترم وزیر اعظم ہماری چیف منسٹر اس بار بحالی کوحقیقتاً بحالی پروگرام بناڈالیں تا کہ غریب کا دکھ دل کی رنجید گی دور ہو اور تحفظ حقوق ستر سال کی تاریخ بدل کر رکھ دے ہم جنوبی پنجاب کے لوگ یہ بھی چاہیں کے کہ کوئی ایسا ڈ یم بھی پنجند پر پانچ دریاوں کے ملنے سے پہلے کوئی ایک چھوٹا ڈیم بھی بنا ئیں جو پانچ لاکھ کیوسک کو ذخیرہ کر سکے تا کہ پھر کوئی دشمن اضافی پانچ لاکھ کیوسک چھوڑے تو ہمارے پاس اسکو برداشت کرنے کی گنجائش باقی ہو اور باقی سال علاقوں کی شہروں کو باقائدگی سے فصلوں کی آبیاری کے لیے میسر رہے۔ہم اب سمجھدار اور ہوش مند ہو چکے ہیں ہماری فلاح و بہبود کو اپر پنجاب کی سہولتوں کے برابر کردیں اور اس کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں رکھیں کیونکہ ہم جنوبی پنجاب کے معصوم لوگ ڈاون شکروں سے بے حد تنگ ہیں اور انصاف کے تر از وکواب بیلنس دیکھنا چاہتے ہیں ترقی سب کے لیے مساوات اور احساس کے ساتھ بحالی کے جامع پروگرام مکمل جامعیت کے ساتھ عوام منتظر ہے۔

