آجکل جدید ٹیکنالوجی اور پولیس کی طرف سے اس ٹیکنالوجی کو موثر طریقے سے استعمال کرنے کی وجہ سے کرمنلرز کا بچنا مُشکل ہوتا جارہا ہے !!
ہوا اس طرح کہ تھانہ فریئر کے علائقے ایک نجی بینک کے باہر ڈاکٹر آکاش سے 20 لاکھ روپے کی ڈکیتی ہوئی بدقسمتی یہ ہوئی کہ ڈاکٹر آکاش کے والد کے سامنے ڈاکوؤں نے ڈاکٹر آکاش کو زخمی کرلیا اور 20 لاکھ روپے لیکر دو موٹر سائیکلوں پر فرار ہوگئے بعد میں ڈاکٹر آکاش زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے فوت ہو گئے !!!!
واضع رہے کہ 2026 کی یہ پہلی Bank Cash Snatching کی واردات ہے !!!! ایسے موقعوں پر ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا صاحب سارے کام چھوڑ کے خود کیس کو ورک آوٹ کرنے کی ذمیداری سنبھال لیتے ہیں !!!
ڈی آئی جی ساوتھ نے (KPO) کے (DIMU)( FRB) (S4) اور Safe City کے Data Base سے صرف تین گھنٹے کی محنت سے ایک ملزم رام چند جس کی عمر 27 سال ہے اور گھوٹکی کا رہنے والا اُس کو اوپر بیان کیئے گئے Data Base نے پہچان لیا اور اُس کا نادرا کا شناختی کارڈ تفتش کاروں کو AI کی مدد سے مل گیا !! واضع رہے کہ جس طرح موبائل فون ہمارے چھرہ کو پہچان کر فون کو Unlock کردیتا ہے اسی طرح Police کا CCTV ہر آنے جانے والے کا صرف آنکھوں کی مدد سے Data محفوظ کررہا ہے بھلے کسی نے کیسا بھی چشمہ کیون نہ پہن رکھا ہو !!!! مگر اُس کا Data نادرا کے رکارڈ سے Pick کرلیا جاتا ہے اور وہ LOG میں شامل ہوجاتا ہے !!!!
ملزم رام چندر کو CCTV کیمراز نے پہچان لیا تھا اُس کے بعد مزید کوشش کے بعد چاروں ملزمان کے کوائف بھی پولیس کو مل گئے اور واردات کے 12 گھنٹوں کے اندر ملزمان کراچی سے فرار ہوتے گرفتار ہوگئے !!! دوسرا ملزم انیل کمار کراچی کا رہائشی ہے انیل کی عمر صرف 19 سال ہے تیسرا ملزم سریش کمار ہے جس کی عمر 23 سال ہے اور وہ سکھر کا رہنے والا ہے
ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا صاحب، ایس ایس پی ساوتھ مھروز صاحب اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن توحید میمن صاحب اور ان کی ٹیم خصوصی طور پر ایس ایچ او بوٹ بیسن محمد ریاض کی محنت قابل ستائش ہے کہ ایک Blind Murder کیس کے ملزمان کو کراچی کی دو کروڑ سے زائد آبادی سے اپنی محنت سے نام پتے اور فون نمبر نکال لینا اور بعد میں کراچی سے فرار ہوتے ہوئے ڈکیتی شدہ رقم کے ساتھ گرفتار کر لینا ساوتھ پولیس کے بہت بڑی کامیابی ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے آگر اس ٹیم میں ایس ایچ او بوٹ بیسن محمد ریاض نہ ہوتے تو یہ کیس اتنی آسانی سے Work Out نہ ہوتا !!!!
پہلے میرا خیال تھا کہ جیساکہ ڈاکٹر آکاش اور ملزمان کا تعلق ہندو فیملی سے ہے ممکن ہو ملزمان کو ٹپ کسی اندر کے آدمی نے دی ہو مگر تفتیش کاروں سے جب بات ہوئی تو انھوں نے واضع کیا کہ ڈاکٹر آکاش کا ملزمان سے دور دور کا تعلق نہیں ! ملزمان نے HBL بینک کے اندر سے 50 لاکھ روپیہ لے نکلنے کی وجہ سے ڈاکٹر آکاش کو Point Out کیا اور دوسری بینک تک پیچھا کیا !!!
جب رقم ایک بینک سے دوسری بینک کے کسی اکاؤنٹ میں منتقل کرنی ہے تو یہ کام آن لائین یا چیک کی معرفت کیا جاسکتا تھا!!! آگر کوئی کلائنٹ دوسرے بینک کیش بھجوانا چاہتا ہے تو بینک کو یہ سہولیات دینی چاہیئے کہ بینک خود اپنی کیش وین کے تھرو کیش منتقل کروانے کی سہولیات دینی چاہیئے
اس کیس میں ساوتھ پولیس نے ایک اچھا Transparant کام یہ بھی کیا ہے کہ ڈاکٹر آکاش کے والد اور دیگر گھواہاں کو ملزمان کے آمنے سامنے کروادیا ہے !!! اور انھوں نے ملزمان کو اچھی طرح پہچھان لیا ہے !!
اسلام آباد پولیس نے دیگر ایجنسیز کے ساتھ ملکر لڑکی کی ٹپ پر گروپ کپیٹن عاصم قتل کیس کے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا مگر ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا صاحب نے ایک عام بینک ڈکیتی کے کیس کو Importance دیتے ہوئے ملزمان کو 12 گھنٹوں میں گرفتار کروایا ہے جو ایک قابل تحسین کام ہے !!!!!

