پاکستان میں ہر سال ایسے مواقع آتے ہیں جب مذہبی جذبات اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ محرم الحرام میں کروڑوں مسلمان حضرت امام حسینؑ کی یاد میں مجالس، جلوس اور عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں۔ ربیع الاول میں عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کے لیے میلاد کے جلوس، نعت خوانی، درود و سلام اور چراغاں کی محفلیں سجتی ہیں۔ اسی طرح تبلیغی اجتماعات میں لاکھوں افراد اپنی اصلاح اور دین کی دعوت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ دینی وابستگی اور محبت کے مظاہر ہیں، لیکن ایک بنیادی سوال ہم سب کے سامنے کھڑا ہے:
کیا ہم نے کبھی ان عظیم ہستیوں کے اصل مشن پر بھی اسی سنجیدگی سے غور کیا ہے؟
حضرت امام حسینؑ نے کربلا میں اپنی جان اس لیے قربان نہیں کی کہ آنے والی نسلیں صرف ان کے غم میں آنسو بہائیں، بلکہ اس لیے کہ ظلم، جبر اور باطل کے سامنے حق کا پرچم سربلند رہے۔ آپؑ نے یہ پیغام دیا کہ جب دین، عدل اور انسانیت خطرے میں ہوں تو خاموش رہنا ایمان کا تقاضا نہیں۔
آج ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم نے ظلم، ناانصافی، کرپشن اور استحصالی نظام کے خلاف بھی کبھی اسی جذبے سے آواز بلند کی ہے جس جذبے سے ہم مجالس اور جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں؟
اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد صرف جشن منانا نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں عدل، مساوات، دیانت، رحم، اخوت اور انسانیت کو عملی شکل دی گئی۔ آپ ﷺ نے ظلم کا خاتمہ کیا، کمزور کو طاقت دی اور ایک عادلانہ نظام قائم کیا۔
آج اگر ہم واقعی عاشقانِ رسول ﷺ ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے معاشرے میں عدل، دیانت، امانت، معاشی انصاف اور اخلاقی اصلاح کے لیے بھی اتنے ہی متحرک ہیں جتنے میلاد کے جلوسوں میں ہوتے ہیں؟
تبلیغی جماعت نے لاکھوں افراد کی انفرادی اصلاح میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو ایک عظیم خدمت ہے۔ لیکن اسلام صرف انفرادی عبادات کا نام نہیں بلکہ اجتماعی زندگی، معیشت، سیاست، عدلیہ، تعلیم اور معاشرت میں بھی اللہ کے احکامات کے نفاذ کا دین ہے۔
اگر دین دار افراد صرف مسجد تک محدود رہیں اور معاشرہ ظلم، کرپشن، بے انصافی اور استحصال کے حوالے کر دیا جائے تو اسلام کے اجتماعی پیغام کا ایک اہم پہلو نظر انداز ہو جاتا ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم مذہبی جذبات کے ساتھ ساتھ مذہبی مقاصد کو بھی سمجھیں۔ ماتم ہو، میلاد ہو یا تبلیغ، اگر ان کا اثر ہمارے کردار، معاشرے اور نظامِ زندگی میں عدل، دیانت، خدمتِ خلق اور ظلم کے خلاف اجتماعی شعور کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔
کربلا کا سبق صرف غم منانا نہیں بلکہ حق پر ثابت قدم رہنا ہے۔
میلاد کا پیغام صرف خوشی کا اظہار نہیں بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کے مشنِ رحمت، عدل اور اصلاح کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔
اور تبلیغ صرف ذکر و نصیحت نہیں بلکہ ایسا شعور پیدا کرنا ہے جو انسان کو حق پہچاننے، اس پر عمل کرنے اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رسموں سے آگے بڑھ کر مقصد کو اپنائیں، جذبات کے ساتھ کردار بھی بدلیں، اور محبتِ رسول ﷺ و محبتِ اہلِ بیتؑ کو معاشرے کی اصلاح، عدل کے قیام اور انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنائیں۔
جب مقصد زندہ ہوگا تو رسمیں بھی معنی خیز ہو جائیں گی، اور تبھی دین کا حقیقی پیغام معاشرے میں اپنی پوری روشنی کے ساتھ جلوہ گر ہوگا۔

