بظاہر امریکا ایران جنگ کا اختتام ہوچکا ہے ۔ دونوں فریق باکسنگ رنگ کے اپنے اپنے کونوں میں بیٹھے سستا رہے ہیں ۔ دونوں ہی فریق تھکاوٹ کا بھی شکار ہیں اور فوری طور پر ایک بریک چاہتے تھے اور اس بریک کے لیے مذاکرات کا سہارا لیا گیا ہے ۔ یہ جنگ بندی کب تک چلے گی ۔ اس سوال کا جواب اس میں پنہاں ہے کہ کیا جنگ کے اہداف حاصل ہوگئے ہیں ۔ ان اہداف کو جاننے کے لیے دیکھنا ہوگا کہ یہ جنگ شروع ہی کیوں کی گئی تھی ۔
جنگ بندی کے اس بریک کی ایک وجہ اسرائیل اور امریکا میں ہونے والے انتخابات بھی ہیں ۔ جنگ کی موجودہ صورتحال سے اسرائیل اور امریکا دونوں میں ان کے سربراہوں کے خلاف منفی ردعمل بڑھتا جارہا ہے ۔ اسرائیل میں اکتوبر میں عام انتخابات ہیں جبکہ امریکا میں نومبر میں مڈٹرم انتخابات ہوں گے ۔ نیتن یاہو المعروف بی بی کا اسرائیلی سیاست میں سورج تقریبا غروب ہوچکا ہے ۔ ویسے بھی وہ اقلیتی وزیر اعظم تھے جو دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹیوں کی حمایت سے برسراقتدار تھے ۔ ایک سروے کے مطابق بی بی کی مقبولیت کا گراف 20 فیصد سے بھی کم پر آ گیا ہے ۔ بی بی کے ساتھ ایک مشکل اور بھی ہے کہ وہ کرپشن کے مقدمے میں ماخوذ ہیں ۔ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کی بناء پر انہیں عدالتی کارروائی سے استثنیٰ ہے جو اقتدار سے رخصت ہوتے ہی ختم ہوجائے گا اور امید ہے کہ وہ فوری طور پر گرفتار بھی ہوجائیں گے۔ ٹرمپ کے بار بار اصرار اور دباؤ کے باوجود اسرائیلی صدر ہرزوگ بی بی کو مستقل استثنیٰ دینے یا معافی دینے سے انکار کرچکے ہیں ۔ بی بی کے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی ان کے خلاف ہوچکی ہے ۔ موساد میں باہر سے سربراہ لانے پر موساد میں ان کے خلاف غصہ ہے ۔ اٹارنی جنرل سے لے کر عدلیہ تک ان کے خلاف ہے ۔ ان کے خلاف ہونے والے مظاہرے روز بہ روز پرہجوم اور پرتشدد بھی ہوتے جارہے ہیں ۔
ٹرمپ کے لیے بھی امریکا میں حالات سازگار نہیں ہیں ۔ ٹرمپ تو وہ باکمال شخصیت ہیں جسے کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ وہ اپنے لیے گڑھا کھودنے کے لیے آپے ہی کافی ہیں ۔ دوستوں کو دشمنوں کی صف میں شامل کرنے کی صفت میں انہیں ملکہ حاصل ہے ۔ ایران پر حملے میں امریکا کےساتھ صرف اور صرف اسرائیل تھا ۔ امریکا کے سارے روایتی اتحادی یورپ ، آسٹریلیا اور کینیڈا وغیرہ اس لیے دور کھڑے نظر آئے کہ ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے اپنے ان روایتی اتحادیوں کو کنارے کیا تھا۔ کینیڈا کو امریکا کی ریاست بنانے ، تیل سے مالا مال البرٹا کو کینیڈا سے الگ کرنے کی سازشیں ، کینیڈا کو معاشی طور پر بدحال کرنے ، سوئیڈن کے زیر انتظام گرین لینڈ پر قبضہ کرنے ، سارے ہی اتحادیوں پر بھاری ٹیرف لگانے کے ساتھ ساتھ ذاتی حملوں نے بھی ٹرمپ کو اکیلا کردیا ہے ۔ کچھ نہیں تو فرانسیسی صدر پر ان کی اہلیہ کے حوالے سے طنز کرنے یا جملے کسنے، سوئیڈن و اٹلی کی خواتین وزرائے اعظم پر رکیک جملے کسنے کی عادت نے بھی انہیں تنہائی کا شکار کردیا ہے ۔
سینیٹ میں گزشتہ دو مرتبہ کی ووٹنگ میں ٹرمپ کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس کی وجہ وہ چار ریپبلکن سینیٹرز ہیں جنہیں ٹرمپ نے ریپلک پارٹی کی پرائمری میں نہ صرف ذاتی طور پر تضحیک کا نشانہ بنایا تھا بلکہ اپنا اثر استعمال کرکے انہیں ہروایا بھی تھا ۔ اب اگرٹرمپ مڈٹرم انتخابات بھی ہار جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سینیٹ ان کے ہاتھ سے گئی ۔ اگر ٹرمپ بدستور بدسلوکی اور تضحیک کا یہی رویہ اختیار رکھتے ہیں جو ان کا وتیرہ ہے تو کانگریس میں بھی ریپلکن ارکان پارلیمنٹ ڈیموکریٹس کا ساتھ دے کر ان کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں ۔
اس کا مطلب یہ ہے کوئی ایسا سرپرائز بی بی کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل میں انتخابات یا تو ملتوی ہوجائیں یا بی بی ایک ہیرو بن کر سامنے آئیں تاکہ وہ انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرسکیں ۔ اسی طرح ٹرمپ کو بھی اکتوبر سرپرائز کی شدید ترین ضرورت ہے تاکہ وہ انتخابات میں امریکی رائے عامہ کو تبدیل کرسکیں ۔ یعنی اکتوبر سے قبل کوئی ایسا بھرپور حملہ یا کوئی ایسا اقدام جس سے امریکا اور اسرائیل کے فاتح ہونے کا تصور سامنے آسکے اور ٹرمپ و بی بی اپنے ووٹرز کو نئے خواب دکھا کر اس صورتحال سے باہر نکل سکیں جو انہیں سیاست کے میدان سے باہر کرنے کا باعث بن رہی ہے ۔
جنگ میں بریک کی ایک اور وجہ بارود کی کمی بھی ہے ۔ امریکا- اسرائیل اور ایران دونوں فریقوں کے پاس اس وقت اسلحہ و بارود کی شدید کمی ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ چند ماہ کا وقفہ لیا جائے تاکہ رسد کی کمی کو پورا کیا جاسکے ۔
یہ تو اس بات کا جائزہ ہے کہ جنگ بندی کیوں ہوئی اور کیا یہ مستقل ہے ۔ پاک بھارت ، بنگلا دیش و بھارت یا تھائی لینڈ و کمبوڈیا جیسی جھڑپوں سے قطع نظر عالمی طاقتیں جب بھی جنگ شروع کرتی ہیں تو جنگ کبھی بھی مطلق ہدف یا مقصد نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمیشہ کسی بڑے پروجیکٹ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوتی ہے ۔ ملین ڈالر کا سوال ہی یہی ہے کہ امریکا نے ایران پر حملہ کیوں کیا ؟ یہ احمقانہ جواب ہے کہ اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے ایران پر حملہ کردیا یا نیتن یاہو کی دوستی میں آ کر ٹرمپ نے یہ کام کیا یا یہودی لابی امریکا کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ پرانے زمانے میں تو بادشاہ یا راجا ذاتی دوستی میں جنگ میں کود جایا کرتے تھے مگر آج کے دور میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ جب دو لوگوں کے مفادات ایک ہو جائیں تو کسی ایک پروجیکٹ میں وہ حلیف ہوتے ہیں اور جب مفادات برعکس ہوں تو وہی دونوں حریف بھی ہوتے ہیں ۔ حلیف و حریف کی یہ صورتحال بیک وقت بھی ہوتی ہے ۔ القاعدہ کے خلاف امریکا اور یورپ پوری دنیا میں مہم چلا رہے تھے مگر یہی القاعدہ شام میں ان ہی ممالک
کی حلیف تھی ۔ کچھ یہی صورتحال داعش کی تھی ۔ ترکی افغانستان میں نیٹو کی کمانڈ کررہا تھا مگر کردوں کے معاملے میں وہ ان ہی یورپی ممالک اور امریکا کے خلاف جنگ کررہا تھا ۔ ایک طرف ترکی روس سے فضائی دفاعی نظام خرید رہا تھا تو دوسری طرف شام میں روس کے خلاف لڑ رہا تھا ۔تو سب سے پہلے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟ جب اس سوال کا جواب جان جائیں گے تو اس سوال پر بات کرنا آسان ہوجائے گی کہ آخر اس جنگ کا منصوبہ کار کون ہے ۔ جب منصوبہ کاروں کے بارے میں جانکاری ہوجائے گی تو اس جنگ کا اصل مقصد بوجھنا آسان ہوجائے گا ۔ان سوالات پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔
