• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

(1)بلوچستان ۔نوابوں اور سرداروں کی عیاشیاں جاری اور عوام بدحال

تحریر ۔میاں طارق جاوید

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مارچ 8, 2026
in کالمز
0
(1)بلوچستان ۔نوابوں اور سرداروں کی عیاشیاں جاری اور عوام بدحال
0
SHARES
17
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بلوچستان ارض پاکستان کا وہ حصہ کہ جسکے بغیر پاکستان نامکمل ہے جس طرح حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کے بارے میں کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی” شہ رگ”ہے کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے اسی طرح بلوچستان بھی باکستان ترقی خوشحالی اور دفاع کا ضامن ہے ۔بلوچستان کی تاریخ جو ہمیں پڑھائی گئی ہے مختلف ہے جبکہ زمینی حقائق مختلف ہیں میرے خیال کے مطابق۔بلوچستان کے بنیادی مسائل میں اہم مسلہ "بلوچستان کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اختیارات کا غلط استعمال ہیں جس میں بلوچستان کے مسائل میں بلوچستان سرداروں اور نوابوں کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے اپنی خود غرضی اور مفادات کے لیے صوبے کو لوٹا ہے اور عوام کو مشکلات میں ڈالا ہے۔
جس سے بلوچستان میں میں نوابوں اور سرداروں کا "لوٹ مار” مشترکہ ایجنڈا ہے جو مسلسل نافذ کیا ہے ۔موجودہ دور میں
بلوچستان میں سرداروں اور نوابوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ انہوں نے اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے زور پر صوبے کے وسائل کو لوچا ہے۔ برطانوی دور میں انہیں زیادہ اختیارات دیے گئے تھے، جس کا انہوں نے اپنی خود غرضی کے لیے استعمال کیا۔واضح رہے کہ سرداروں اور نوابوں کے مفادات بہت واضح ہیں۔ انہوں نے اپنی خود غرضی کے لیے صوبے کے وسائل کو لوچا ہے۔ انہیں عوام کی مشکلات سے کوئی غرض نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے زور پر عوام کو دبایا ہے۔سرداروں اور نوابوں نے عوام کو دبانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے عوام کو تعلیم سے محروم رکھا ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آگاہ نہ ہو سکیں۔ جبکہ  عوام کو صحت کی سہولیات سے محروم رکھاہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑ نہ سکیں۔ بلوچستان کے عوام کو نوابوں اور سرداروں نے عوام کو اقتصادی طور پر کمزور کیا ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آگاہ نہ ہو سکیں دوسری جانب نوابوں اور سرداروں کی 99 فیصد کراچی لاہور اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں درجنوں محلات میں رہتے ہیں زیادہ تر بیرون ممالک میں کھربوں کی جائیدادیں ہیں ۔جبکہ بلوچستان کے عوام ایک وقت کی غذا اور پپینےکے صاف پی سے بھی محروم ہے موجود سال میں مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاق کی جانب سے صوبوں کو مالی سال کی پہلی ششماہی میں وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق بلوچستان کو 3 کھرب 32 ارب 37 کروڑ 50 لاکھ روپے کے فنڈز منتقل کئے گئے۔ جبکہ پنجاب کی جانب سے بلوچستان میں عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے الگ فنڈ دیا جاتا ہے یہ اگر دیکھا جائے تو بلوچستان میں سیاستدانوں نوابوں اور سرداروں کا ایک "کلب” جو ملکر بلوچستان کے عوام کے وسائل "ہڑپ” کر رہے ہیں ۔”سوئی گیس ” رائیلٹی کون لیتا تھا ۔معدنیات ۔ماربل ۔ائل ۔کوئلہ۔سمیت بلوچستان میں کان کنی پر بھتہ ۔اور کمشن کون کون لیتا ہے عوام بانی بجلی ۔گیس تعلیم ۔امن وامان سے محروم ہیں ۔بلوچستان کی محرومیوں کی آڑ میں سردار ۔نواب ۔ اور وڈیرے امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں اور عوام کا زلیل ہونا مقدر ٹھہرا ان حالات میں سرداروں اور نوابوں کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ عوام کو اپنے حقوق کے لیے آگاہ ہونا ہوگا اور اپنے مسائل کے حل کے لیے منظم ہونا ہوگا۔۔اس کے علاؤہ بلوچستان پاکستان کا پُرامن حصہ تھا جنرل مشرف کے دور میں چند غلط پالیسیوں کی وجہ سے نام نہاد علیحدگی پسند سر اٹھانے لگے اوریوں بی ایل اے ۔ بی ایل ایف کو ہندوستان کی فنڈنگ سے پاکستان اور خصوصاً بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلی جس سے بلوچستان میں ببنچابیوں کا زندہ رہنا مشکل ہوگیا ۔پنجاب کے شناختی کو دیکھ کر ایک ایک دن میں درجنوں مزدروں کا قتل عام کیا گیا
موجودہ مسائل آج کے نہیں ہیں بلکہ تاریخ میں کافی پیچیدہ تھےتاریخی حوالہ جات کے مطابق 1876ء کے اوائل میں بلوچستان میں انگریزوں کے خلاف شدید نفرت اور حقارت کے باعث شورش کا آغاز ہوا تو رابرٹ گروس سنڈیمن کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان بھیجا گیا۔ بلوچ اگرچہ انگریزوں کے ظلم و ستم سے تنگ تھے مگر آپس میں بھی متحد نہیں تھے۔ رابرٹ سنڈیمن نے بلوچی قبائل کی لڑائیوں، سماجی کمزوریوں اور اقتصادی بدحالی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچ قبائل میں معاہدہ کروایا جسے ‘معاہدۂ مستونگ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت تمام سردارانِ قبائل نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ خان بلوچ (چیف) اور سرداران ِ قبائل کے درمیان تنازعے یا جھگڑے کی صورت میں ثالث یا منصف حکومتِ برطانیہ ہو گی۔ یوں بلوچ عملاﹰ انگریزوں کے زیر تسلط آ گئے اور قبائلی سردار علیحدہ انتظامی اکائی بن گئے۔1887ء میں یہاں ایک حصے میں برٹش بلوچستان قائم کیا گیا، جس کا مرکز کوئٹہ تھا جبکہ دوسرے حصے کا مرکز قلات تھا مگراس کے اصل حاکم بھی خان آف قلات نہ تھے بلکہ رابرٹ سنڈیمن کا ہی حکم چلتا تھا۔ سنڈیمن نے اس دور میں بلوچستان کے سماجی اور انتظامی معاملات میں کچھ ایسی تبدیلیاں کیں، جن کے اثرات ہم 2021ء تک محسوس کرتے ہیں۔رابرٹ سنڈیمن نے جہاں انتہائی ہوشیاری کے ساتھ سرداروں کو مراعات اور اختیارات دے کر اپنے قبیلے کے سیاہ سفید کا مالک بنایا، وہیں ایک اچھا کام یہ بھی کیا کہ تمام سرداروں اور نوابوں کے بیٹوں کے لیے تعلیم مفت اور لازمی قرار دے دی۔ لاہور میں ایچی سن کالج کے قیام کے بعد بلوچ سرداروں کے بچوں کو بھی اس درسگاہ میں جگہ دی گئی۔ نواب اکبر بگٹی، فاروق احمد خان لغاری سمیت کئی دیگر اہم بلوچ سردار ایچی سن کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ یہاں انہیں آداب ِحکمرانی سکھائے جاتے اور منتخب امیدواروں کو ڈیرہ دھون ملٹری اکیڈمی بھی بھیجا جاتا تھا۔یوں بلوچستان کے سرداروں اور نوابوں کو الگ سے حکمرانی اور عیاشیوں کے تیار کیا جاتا تھے ۔انگریر زمانے سے ہی بلوچستان کے وسائل عوام تک نہیں پہنچ پاتے تھے آج بھی مسائل ہنوز موجود ہیں اور وسائل 2فیصد نوابوں اور سرداروں کی جیبوں اوران کی عیاشیوں پر خرچ ہو رہے ہیںبلوچستان کے مسائل میں بلوچستان سرداروں اور نوابوں کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے اپنی خود غرضی اور مفادات کے لیے صوبے کو لوٹا ہے اور عوام کو مشکلات میں ڈالا ہے۔ عوام کو اپنے حقوق کے لیے آگاہ ہونا ہوگا
بلوچستان کے مسائل میں بلوچستان سرداروں اور نوابوں کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے اپنی خود غرضی اور مفادات کے لیے صوبے کو لوٹا ہے اور عوام کو مشکلات میں ڈالا ہے۔ عوام کو اپنے حقوق کے لیے آگاہ ہونا ہوگا اور اپنے مسائل کے حل کے لیے منظم ہونا ہوگا۔

پچھلی پوسٹ

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کادورہ سعودی عرب ، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات

اگلی پوسٹ

شانِ نِسواں

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
شانِ نِسواں

شانِ نِسواں

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper