نظم
شانِ نِسواں
ہمیں کمزور تم نہیں سمجھو
ہمیں نسبت ہے بی بی حوّا سے
یہ وہ ہستی ہے جس کو اللّه نے
بنا کر ماں عطا کی جنّت ہے
ارے ہم سے ہے جٙگ کی رنگینی
یہ تو اقبال نے بھی کہہ ڈالا
سبھی غزلیں ہمارے دم سے ہیں
ارے صنفِ سُخن یہ ہم سے ہے
یہ ضروری ہے ابنِ آدم پر
کرے توقیر بنتِ حوّا کی
میں کروں شان کیا بیاں اس کی
کی ہے رب نے جسے عطا عظمت
فرحانہ اشرف فرحانہ


