• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ہم سب لیڈر ہیں بس ذمہ داری کوئی نہیں لیتا

تحریر: عذرا ملک

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 17, 2026
in کالمز
0
پاکستان کی اسٹیل ملز کی بحالی میں خاموشی کیوں؟
0
SHARES
12
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ہمارے معاشرے کا ایک عجیب مگر دلچسپ المیہ ہے یہاں ہر شخص خود کو لیڈر سمجھتا ہے مگر ذمہ داری لینے کے لیے مرحلے پر سب کو اچانک کوئی ضروری کام یاد آ جاتا ہے ہمشورہ دینے میں ہم دنیا کی صف اول کی قوم ہیں، مگر عمل کے میدان میں اکثر پیچھے رہ جاتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قیادت ایک اعزاز ہے اور ذمہ داری ایک بوجھ اور ہم نے اعزاز کو سینے سے لگا لیا ہے، بوجھ کو زمین پر رکھ چھوڑا، یہ کالم کسی ایک طبقے پر نہیں بلکہ ہم سب پر ہے، کیونکہ ہم سب میں تھوڑا سالیڈر
اور تھوڑا سا ذمہ داری سے بچنے والا شہری موجود ہے، چائے کی میز ہو دفتر کا کمرہ ہو یا سوشل میڈیا کی دیوار ہر جگہ قومی مسائل کا حل چند منٹوں ، میں پیش کر دیا جاتا ہے، معشیت کیسے سنبھلے گی؟ خارجہ پالیسی کیا ہونی چاہیے ؟ تعلیم کا نظام کیسے بدلے گا ؟ سب کے پاس نسخہ موجود ہے، ایسا لگتا ہے جیسے ملک کی باگ دوڑ اگر ہمیں ملک جائے تو چھ ماہ میں سب ٹھیک ہو جائے گا مگر سوال یہ ہے کہ جو شخص اپنے محلے کی گلی کی صفائی کے لیے قدم نہیں اٹھا تاوہ ملک کی اصلاح کے خواب کس بنیاد پر دیکھتا ہے؟ جو دفتر میں وقت پر نہیں پہنچتا وہ قومی نظم وضبط کی بات کیسے کرتا ہے، جو ٹیکس چوری کو ذہانت سمجھتا ہووہ شفاف معیشیت کی خواہش کیسے رکھتا ہے؟ ہم سب لیڈر ہیں مگر لیڈر ہونے کی پہلی شرط یعنی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادگی کم دکھائی دیتی ہے، ہمارے ہاں ایک اور قومی کھیل بھی مقبول ہے التزام تراشی کسی بھی مسئلے کی جڑ تک جانے کی بجائے ہم فوری طور پر کسی نہ کسی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں پھیلی گئی تو حکومت قصوروار ہسڑک ٹوٹی تو ادارے ناکام، مہنگائی بڑھی تو عالمی سازش ، اپنے حصے کی کوتاہی پر نظر ڈلنے کی عادت کم ہی نظر آتی ہے، یقینا حکمرانوں کی ذمہ داری اپنی جگہ مگر معاشرہ صرف حکمرانوں سے نہیں بنتا ایک شہری کی حیثیت سے بھی ہم پر کچھ فرئض عائد ہوتے ہیں، قانون کی پابندی، صفائی، ایمانداری اور نظم و ضبط یہ سب اجتماعی کردار کی تشکیل کرتے ہیں ، اگر ہر فرد خود کو بری الزمہ سمجھے گاتو اجتماعی بہتری کیسے ممکن ہوگی ؟ یجیٹل دور نے ایک نئی قسم کی قیادت کو جنم دیا ہے،Keyboard leader یہحضرات ہر معاملے پر فوری رد عمل دیتے ہیں، ہر پالیسی پر تنقید کرتے ہیں اور ہر مسئلے کا تجزیہ چند جملوں میں سمیٹ دیتے ہیں، ان کی تحریریں تیز ہوتی ہیں الفاظ کاٹ دار اور لہجہ پر جوش لیکن جب عملی میدان میں اترنے کا وقت آتا ہے مثلا کسی فلاحی مہم میں حصہ لینا، کسی تعلیمی سرگرمی کوسپورٹ کرنا یا اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا تو یہ جوش اکثر ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ، لیڈر بنے کا شوق برقرار رہتا ہے مگر ذمہ داری کے تقاضے مشکل محسوس ہوتے ہیں، اگر طنز یہ کہیں تو ہم تبدیلی چاہتے ہیں مگر تبدیلی کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں لینا چاہتے ، قیادت کا مطلب تقریر کرنا نہیں ،بلکہ مثال قائم کرنا ہے ، ایک سچالیڈ روہ ہوتا ہے جو سب سے پہلے خود وہ کام کرتے ہیں جس کی توقع دوسروں سے رکھتا ہے، اگر دیانت کی بات کرے تو خود بھی دیانت دار ہو، اگر نظم و ضبط کی بات کرے تو خود بھی وقت کا پابند ہو، اگر وہ سادگی کی تبلیغ کرے تو اپنی زندگی میں بھی سادگی لائے اور اپنائے لیکن بد قسمتی سے ہم نے قیادت کو صرف عہدے ، خطاب اور اسٹیج سے جوڑ دیا ہے، ہمیں لگتا ہے کہ جب تک ہمارے پاس مائیک نہیں ہوگا ہم لیڈر نہیں بن سکتے ، حالانکہ گھر کا سر براہ، کلاس کا مانیٹر ، دفتر کی ٹیم کا لیڈر یا محلے کی کمیٹی کارکن سب کسی نہ کسی سطح پر قیادت کی ذمہ داری رکھتے ہیں لیکن کیا ہم اسذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، ہم اکثر ملک کی حالت پر افسوس کرتے ہیں مگر اپنے گھر کے ماحول میں نظم وضبط احترام اور برداشت موجود نہیں رکھتے تو معاشرے میں یہ اقدار کیسے آئیں گی ؟ اگر والدین خود قانون کی خلاف ورزی کو معمول سمجھتے ہوں تو اولاد سے قانون پسندی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ قیادت گھر سے شروع ہوتی ہے، ایک والد یا والدہ اگر بچوں کو بچ بولنے وعدہ نبھانے اور وقت کی پابندی سکھاتے ہیں تو وہ دراصل ایک بہتر معاشرے کی بنیادرکھ رہے ہوتے ہیں، مگر ہم صرف نصیحت کریں اور خود عمل نہ کریں تو پیغام کمزور پڑ جاتے ہیں، دفتروں میں اکثر یہ جملہ سننے کوملتا ہے کہ یہ میرا کام نہیں، فائل ایک میز سے دوسری میز تک سفر کرتی رہتی ہے مگر فیصلہ کرنے کی ہمت کم نظر آتی ہے، سب اپنی حدود کاحوالہ دیتے ہیں، مگر مسئلے کے حل کی ذمہ داری لینے سے کتراتے ہیں بازار میں قیمتوں پر شکوہ ہوتا ہے مگر رسید لینے کا اصرار کم ہی کیا جاتا ہے، ہم شفافیت چاہتے ہیں ،مگر شفافیت طر ز عمل اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں، گویا ہم چاہتے ہیں کہ نظام ٹھیک ہو جائے، ہنگر اپنے کردار کو بدلنے کی قیمت ادا نہ کرنی پڑے، ایک قوم تب بنتی ہے جب افراد مشتر کہ ذمہ داری کا احساس رکھتے ہوں، اگر ہر شخص صرف اپنے فائدے تک محدود ہے اور اجتمائی مفاد کو نظر انداز کرے تو معاشرہ مجمع تو بن سکتا ہے قوم نہیں، ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمیں اچھے لیڈر نہیں ملتے ، شاید یہ سوال بھی پوچھنا
چائیے کیا ہم اچھے پیروکار بنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم قانون کی پابندی کرنے ،ٹیکس ادا کرنے اور نظم وضبط اپنانے پر آمادہ ہیں؟ کیونکہ جس معاشرے کے شہری ذمہ دار ہوں وہاں قیادت بھی زیادہ جواب دہ ہوتی ہے، اگر میں ہلکے انداز میں کہ دوں تو یوں لگتا ہے کہ ہم سب کے اندر ایک چھوٹا ساوزیر اعظم ، ایک ماہر معاشیات اور ایک علامتی تجزیہ کار جیٹھا
ہوا ہے، ہم ہر مسئلے پر رائے دینے کے عادی ہیں لیکن، جب محلے کی میٹنگ میں کرسی لگانے کا وقت آتا ہے تو ہماری مصروفیات بڑھ جاتی ہیں ، یہ طنز در اصل آئینہ ہے، اس میں ہمیں اپنا چہرہ دیکھنا چاہیئے ،اگر ہر شخص صرف بات کرے اور کوئی عمل نہ کرے تو نظام کیسے چلے گا ، اگر سب حکم دینا چائیں اور کوئی کام نہ کرے تو پیش رفت کیسے ہوگی ؟ یہ چھوٹے قد م معمولی لگتے ہیں، مگر اجتماعی طور پر بڑی تبدیلی کی بنیاد بنتے ہیں ، ہم سب لیڈر بنے کی خواہش رکھتے ہیں، یہ اچھی بات ہے قوم کو خود اعتماد اور باشعور افراد کی ضرورت پڑتی ہے اگر لیڈر بنے سے پہلے ذمہ دار شہری بنا ضروری ہے ، قیادت کا تاج سر پر رکھنے سے پہلے ذمہ داری کا بوجھ کندھوں پر اٹھانا ہوگا، شاید وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے جملے بلدیں یہ میرا کام نہیں کہ جگہ ” یہ بھی میری ذمہ داری ہے ” کہنا شروع کریں الترام دینے کی بجائے اپنا حصہ ادا کریں کیونکہ اگر ہم واقعی قیادت کا خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا کہ قیادت عزت کے ساتھ ساتھ جواب دہی کا بھی نام ہے ور نہ ہم یوں نہی لیڈر بننے کے دعوے کرتے رہیں گیا اور زمہ داری کسی اور کے سپرد کرتے رہیں گے۔

پچھلی پوسٹ

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان نے نئے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

اگلی پوسٹ

نائب وزیرِاعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا منعقدہ پاکستان۔آسٹریا اعلیٰ سطح کے بزنس راؤنڈ ٹیبل سے خطاب، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
نائب وزیرِاعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا منعقدہ پاکستان۔آسٹریا اعلیٰ سطح کے بزنس راؤنڈ ٹیبل سے خطاب، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور

نائب وزیرِاعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا منعقدہ پاکستان۔آسٹریا اعلیٰ سطح کے بزنس راؤنڈ ٹیبل سے خطاب، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper