• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ایپسٹین فائلز حصہ دوم

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 13, 2026
in کالمز
0
ایپسٹین فائلز حصہ دوم
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایپسٹین کی ابتدائی زندگی پر نگاہ ڈالیں تو شروع میں وہ کوئی کامیاب انسان نہیں تھا ۔ اس نے Courant Institute of Mathematical Sciencesکو جوائن تو ضرور کیا تھا مگر ڈگری حاصل کیے بغیر ہی چھوڑ دیا تھا ۔تدریسکےلیے درکار ضروری قابلیت کے بغیر ہی اس نے 21 برس کی عمر میں Manhattan کے ڈالٹن اسکول میں بطور استاد کام شروع کردیا تھا ۔ یہ نوکری دلانے میں اس کے یہودی گھرانے کا پس منظر کام آیا تھا ۔ استاد کی اس نوکری کے دوران ہی اس پر کمسن بچیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کے الزامات لگنا شروع ہوگئے تھے ۔ اپنے تین سالہ تدریسی کیریئر کے بعد اس نے مشہور مالیاتی ادارے Bear Stearns کا رخ کیا ۔ یہاں بھی نوکری دلانے میں یہودی اثر و رسوخ کام آیا ۔ یہاں سے ایپسٹین کی اس ترقی کا سفر شروع ہوا ، جو بہت سارے لوگوں کے لیے قابل رشک تھا ۔ اس کے بعد ایپسٹین نے اپنی ذاتی مالیاتی مشاورتی فرم قائم کی ۔ بااثر افراد خصوصا سربراہان مملکت اور بینکاروں کو قابو کرنے کے لیے اس نے ایک جزیرہ خریدا جہاں پر وہ سیکس پارٹیاں کیا کرتا تھا ۔ جزیرہ اس لیے چنا گیا کہ وہاں پر عام افراد کی کوئی آمد و رفت نہیں ہوتی ۔

امریکی سینیٹ کمیٹی اور کانگریس کمیٹی میں طلبی ہمیشہ سے طلب کیے جانے والوں کے لیے خوفناک خواب رہا ہے ۔ مگر ایپسٹین کی قوت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس کمیٹی میں طلبی کے دوران بھی سوالات کرنے والے ارکان کانگریس پر اثر انداز ہوتا رہا ۔ 14 نومبر 2025 کی سی این این ، واشنگٹن پوسٹ اور 15 نومبر 2025 کی گارجین کی رپورٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 27 فروری 2019 میں ٹرمپ کے ایک سابق اٹارنی مائیکل کوہن کی سماعت کے موقع پر ریپبلکن رکن کانگریس Stacey Elizabeth Plaskett کو اس نے نہ صرف مطلوبہ سوالات پوچھنے کی ہدایت کی بلکہ بعد میں کام ہونے پر Good work کا پیغام بھی بھیجا ۔ واضح رہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب ایپسٹین کو سزا ہوچکی تھی ۔ پاکستان میں بھی ریاض ملک کے بارے میں ٹی وی پروگرام میں ایسا ہوچکا ہے اور ریاض ملک کے وفادار اینکر پروگرام کے دوران مسلسل اس کے ساتھ رابطے میں رہے ۔

ایپسٹین کی قوت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے بھارتی سربراہ نریندر مودی کی اسرائیلی سربراہ نیتن یاہو سے ملاقات طے کی ۔ اور ملاقات کے دوران تعلقات کو مضبوط کرنے کے بہانے مودی کو اُس محفل میں ناچنے اور گانے پر بھی مجبور کیا ۔ اسی طرح اسرائیلی سیاستداں اور سابق جنرل یہود بارک کو جب وائٹ ہاؤس میں اذن باریابی میں ناکامی ہوئی تو ایپسٹین کی ایک فون کال نے اسی روز چند گھنٹے کے بعد اس ملاقات کو ممکن بنادیا ۔پھر سے وہی سوال کہ کیا ایک سیکس پارٹی میں شرکت اتنی اہم تھی کہ سارے سربراہان ایپسٹین کے اشارے پر ناچ رہے تھے ۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ کمسن بچیوں کے ساتھ سیکس کی وڈیوز کی بناء پر یہ سارے لوگ ایپسٹین کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور تھے ۔ مگر مودی کی تو ایسی کوئی نہ تو وڈیو موجود ہے اور نہ ہی ایسی کسی تقریب میں شرکت کے شواہد موجود ہیں ۔ وہ تو ایشیائی اور غیر یہودی لوگوں کو کمتر سمجھتا تھا اور انہیں ایسی محفلوں کے قابل ہی نہیں سمجھتا تھا تو پھر مودی جی کیوں اسرائیل میں جا کر اس بڑھاپے میں گائے بھی اور ناچے بھی ۔

اگر صرف یہی بات تھی کہ ایپسٹین سب کو بلیک میل کررہا تھا تو جس طرح بعد میں اسے دوران قید راستے سے ہٹا دیا گیا ، یہ کام پہلے بھی کیا جاسکتا تھا ۔ کہا گیا کہ ایپسٹین نے قید کے دوران خودکشی کرلی تھی مگر اس کی موت کے فوری بعد ہی یہ بات سامنے آگئی تھی کہ اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے ۔ جس طرح بے نظیر بھٹو پر حملے کے فوری بعد ہی جائے وقوعہ کو فوری دھو کر تمام ثبوت مٹا دیے گئے تھے ۔ بالکل اسی طرح ایپسٹین کی موت کے بعد بھی سارے ثبوت ختم کردیے گئے تھے ۔ آپ وکی پیڈیا پر ایپسٹین کو سرچ کریں تو وجہ وفات کے سامنے گلا گھونٹنا یا پھانسی لکھا ہوا آئے گا ۔آخر ایپسٹین میں ایسا کیا تھا کہ سب اس کے سامنے لرزہ بر اندام رہتے تھے ؟ چاہے وہ ولی عہد ہوں ، شہزادے ہوں ، بینکار ہوں ، سیاستداں ہوں یا کوئی اور بااثر شخصیت ۔ جزیرے پر پارٹیاں اور عیاشیاں تو ایسے ہی تھیں جیسے کسی بزنس میٹنگ کے موقع پر ڈنر کا اہتمام بھی کیا جائے ۔ ایپسٹین فائلز میں آپ کو بہت سے ایسے لوگوں کے ساتھ روابط بھی نظر آئیں گے جو کبھی ان پارٹیوں میں شریک ہی نہیں ہوئے ۔

ایپسٹین میں ایسا کیا تھا کہ ایک وقت میں وہ دنیا کی بااثر ترین شخصیت تھا ۔ آئیے اس کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ ایپسٹین کا تعلق کسی بااثر گھرانے سے نہیں تھا اور نہ ہی اس کے والدین دولت مند تھے ۔ بس اس کا ایک ہی پس منظر ہمیں نظر آتا ہے اور وہ یہودی ہونا ہے ۔ مگر بڑے ہونے کے ساتھ ہی اس میں صہیونیت کا عنصر بھی پروان چڑھتا گیا ۔ صہیونی انتہائی مذہبی ہوتے ہیں مگر ایپسٹین قطعا مذہبی نہیں تھا ۔ شروع سے ہی وہ اوباش طبعیت کا مالک تھا ۔ مذہبی نہ ہونے کے باوجود اس کے جزیرے پر ایک عبادت گاہ موجود تھی ۔ اس کے جزیرے پر آنے والے افراد بھی قطعی طور پر مذہبی نہیں تھے کہ انہیں کسی عبادت گاہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہوگی ۔ اصل میں یہ کوئی کلیسا نہیں تھا بلکہ ایک مندر تھا ۔ فائلز میں تو اس مندر کی تفصیلات موجود نہیں ہیں مگر اس جزیرے پر جانے والے افراد کے مطابق یہ شیطان کی عبادت کے لیے مخصوص مندر تھا ۔ جسے عرف عام میں Synagogue of Satan کہا جاتا ہے ۔اب پھر وہی سوال کہ اس میں اچنبھے کی کیا بات ہے ۔ امریکا اور یورپ میں جگہ جگہ یہ Synagogue of Satan موجود ہیں ۔ ہیلووین پارٹیوں میں اور ٹرانس جینڈرز کی پریڈ میں لوگ عمومی طور پر شیطان کا روپ دھارتے ہیں ۔ یہ بات صحیح ہے مگر ایپسٹین شیطان کا صرف ماننے والا ہی نہیں تھا بلکہ شیطان کی حاکمیت کے لیے ایک سرکردہ شخص تھا ۔ ایپسٹین کے شیطانی چکر اور اس کے دنیا پر اثرات کے بارے میں گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اورا پنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

سینئر سیاستدان زعیم حسین قادری کی نمازِ جنازہ ادا،سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت

اگلی پوسٹ

وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمٰن سے ٹیلیفونک رابطہ، عام انتخابات میں کامیابی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارکباد پیش کی

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمٰن سے ٹیلیفونک رابطہ، عام انتخابات میں کامیابی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارکباد پیش کی

وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمٰن سے ٹیلیفونک رابطہ، عام انتخابات میں کامیابی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارکباد پیش کی

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper