• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ایک اچھا جملہ ، سارہ دن اچھا لفظوں کی طاقت

تحریر:عذرا ملک

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 9, 2026
in کالمز
0
ایک اچھا جملہ ، سارہ دن اچھا لفظوں کی طاقت
0
SHARES
5
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں خبریں تیز ، آوازیں بلند اور جملے اکثر شیخ ہوتے جارہے ہیں، صبح آنکھ کھلتے ہیں موبائل پر شور مچاتی سرخیاں، شکایتوں سے بھرے پیغامات اور پریشانی پیدا کرنے والی گفتگو ہمارا استقبال کرتی ہیں ، ایسے میں اگر دن کے کسی لمحے میں کوئی اچھا جملہ کانوں میں پڑ جائے تو وہ پورے دن کا رنگ بدل دیتا ہے، بظا ہر معمولی سا لگنے والا جملہ
حقیقت میں دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے، ایک اچھا جملہ ضروری نہیں کہ بہت بڑ ا فلسفہ ہو بھی یہ صرف اتنا ہوتا ہے
” آپ ٹھیک ہیں”اللہ آسانی کرے ” یا ” آپ کی بات اچھی لگی ” لیکن یہ چند الفاظ اس وقت امید بن جاتے ہیں جب انسان اندر سے تھکا ہوا ہو، ہم عام طور پر بڑے بیانیے اور بڑی تبدیلیوں کی بات چیت کرتے ہیں ، مگر معاشرے کی فضا چھوٹے رویوں سے بنتی ہے،جیسے ایک تلخ جملہ کسی کا دن خراب کر سکتا ہے، ویسے ہی ایک اچھا جملہ کسی کا دن سنوار سکتا ہے، دفتر میں باس کا مختصر سا جملہ انھی محنت ہے ملازم کا حوصلہ بڑھادیتا ہے، ماں کی دعا اولاد کے لیے ڈھال بن جاتی ہے استاد کی ایک تعریف طالب علم کو خود پر یقین دلاتی ہے، اخباری دنیا میں ہم اکثر منفی خبروں پر زور دیتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں، مگر کیا کبھی ہم نے سوچا کہ اگر خبروں کے بیچ کہیں ایک جملہ ایسا بھی ہو جو قاری کو ذرا سا سکون دے؟ جو یہ احساس دلائے کہ سب کچھ خراب نہیں ہے کہ ابھی انسانیت زندہ ہے ، نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ الفاظ کا بر او را است اثر انسانی ذہن پر پڑتا ہے، مثبت جملے ذہنی دباؤ کم کرتے ہیں، دل کی رفتار کو متوازن رکھتے ہیں اور انسان کو خود سے جڑنے میں مدددیتے ہیں ،اس کے برعکس منفی اور تحقیر آمیز جملے اندر ہی اندر انسان کو تو ڑ دیتے ہیں ، ہم روزانہ نہ جانے کتنے لوگوں سے ملتے ہیں لیکن یہ یاد نہیں رکھتے کہ ہمارے الفاظ ان پر کیا اثر چھوڑیں گے،لفظ محض آوازیں نہیں ہوتے ، یہ سوچ کے سفیر ہوتے ہیں انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں لفظوں سے بھڑ کیں اور امن لفظوں پر ہی قائم ہوا، قانون دستور سب لفظوں کی ترتیب ہیں ، مذہب کی تبلیغ ہو یا فلسفے کی توضح اب کی تخلیق ہو یا سیاست کی تقریر، لفظوں کے بغیر سب بے معنی اہم سوال یہ ہے کیا ہم لفظوں کی اس طاقت کو پہچانتے ہیں یا بے دردی سے استعمال کر کے اپنیفضا آلودہ کر رہے ہیں ، اخبارات کے صفحے اٹھا ئیں تو روزانہ سینکڑوں جملے نظر آتے ہیں کچھ اُمید جگاتے ہیں، کچھ خوف پھیلاتے ہیں، کچھ حقیقت دکھاتے ہیں، غیر ذمہ دار جملہ ہجوم کو مشتمل کر دیتا ہے اس لیے صحافت میں لفظ چنے کو بھی فن کہا جاتا ہے، سیاست میں لفظ سب سے بڑا ہتھیار ہے، ایک لیڈر کی تقریر عوام کو سڑکوں پر لاسکتی ہے، وعدے الفاظ میں باندھے جاتے ہیں، اور وعدے الفاظ میں باندھے جاتے ہیں ، اور وعدہ خلافی بھی لفظوں سے عیاں ہوتی ہے اگر سیاست دان بچے شفافیت اور اُمید کے الفاظ استعمال کریں تو فضا بدل سکتی ہے، مگر جب لفظ نفرت تفرقے اور الزام تراشی میں ڈھل جائیں تو قو میں تھک جاتی ہیں، ادب اور شاعری تو لفظوں کی روح ہیں، میر کے در وہ غالب کے سوال، فیض کی امید سب لفظوں میں سانس لیتے ہیں، ادب ہمیں سکھاتا ہے کہ لفظ صرف کہنے سننے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ سمجھنے کے لیے بھی ہوتے ہیں، ایک اچھا جملہ قاری کے اندر دیر تک گونجتا ہے اور اُسے بہتر انسان بنے پر آمادہ کرتا ہے، اکثر بسوں، دفتروں، بازاروں اور گلیوں میں لوگ ایک دوسرے سے سخت لہجے میں بات کرتے نظر آتے ہیں، جلدی غصہ اور بےصبری ہمارے جملوں میں شامل ہو چکی ہے، شاید ہمیں احساس ہی نہیں رہتا کہ سامنے والا بھی ہماری طری کیسی کشمکش سے گزررہا ہے، ایسے میں اگر کوئی شخص بھی نرم لہجے میں ایک اچھا جملہ بول دے تو ماحول بدل سکتا ہے ، ایک ریڑھی والے کا مسکرا کہنا ” بھائی دعا میں یا درکھنا ایک رکشہ ڈرائیور کا کہنا” کوئی بات نہیں، اللہ بہتر کرے گا ” یہ سب خبریں نہیں بنتی ،مگر معاشرے کی اصل تصویر ہیں، یہی وہ جملے ہیں جو ہمارے دن کو قابلِ بر داشت بلکہ خوبصورت بنادیتے ہیں، سوشل میڈیا کے اس شور میں اچھے جملے نایاب ہوتے چلے جار ہے ہیں، لوگ جیتنے کے لیے بولتے ہیں، سمجھنے کے لیے نہیں، طنر تضحیک اور تلخی کو ذہانت سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ اصل ذہانت وہ ہے جو الفاظ کے ذریعے سامنے والے کے دل تک پہنچ جائے ، ایک باوقار ہنرم اور سچا جملہ بھی ہر دلیل سے زیادہ طاقتور ہے ، یہ بھی بیچ ہے کہ ہر شخص ہر وقت اچھا بولنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا ، زندگی سب کے لیے آسان نہیں ،مگر یہی تو امتحان ہے جھکن کے با و جو دا چھا جملہ بول دینا، دکھ کے باوجود دعا دے دینا، غصے کے باوجود خاموش یا نرم رہ جانا یہی اصل اخلاق ہے، گھروں میں بھی ہم اس طاقت کو بھول چکے ہیں والدین اکثر بچوں کو نصیحتیں تو بہت دیتے ہیں، مگر تعریف کم کرتے ہیں ، حالانکہ ایک جملہ مجھے تم ہر فخر ہے بچے کی پوری شخصیت بدل سکتا ہے، میاں بیوی کے رشتے میں بھی تلخ جملے فاصلے بڑھاتے ہیں ، اور اچھے جملے قربت پیدا کرتے ہیں، اگر آج ہم بطور معاشرہ یہ طے کرلیں کہ دن میں کم از کم ایک اچھا جملہ کسی کے نام کریں گے تو شاید یہ
ہمارے بہت سے اجتماعی مسائل خود بخود ہلکے ہو جائیں، یہ جملہ کسی اجنبی کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور اپنے لیے بھی ، ہاں کبھی خود سے کہ لینا ، میں پوری کوشش کر رہا ہوں، یہ بھی ایک اچھا جملہ ہے، اخبار کا کام صرف مسائل گنوانا نہیں، بلکہ احساس جگانا بھی ہے، یہ کالم بھی کسی بڑے انکشاف کے لیے نہیں ، صرف ایک یا دو بانی ہے یا دو بانی اس بات کی کہ ہمارے پاس اب بھی ایک طاقت ہے، الفاظ کی طاقت، اگر ہم نے اپنے جملوں کو سنبھال لیا تو بہت کچھ سنبھل سکتا ہے، دن کے انتقام پر جب ہم تھے ہوئے بستر پر لیٹیں ، تو یہ سوچیں کہ آج ہم نے کسی کو کون سا جملہ دیا، اگر وہ اچھا جملہ تھا تو یقین کریں دن اچھا گزرا اور اگرنہیں تو کل کے لیے ایک موقع اب بھی موجود ہے کیونکہ حقیقت یہی ہے ایک اچھا جملہ ،واقعی پورا دن اچھا بنا دیتا ہے۔ معاشی گفتگو میں لفظ اہم کردار ادا کرتے ہیں، بازار اعتماد پر چلتا ہے اور اعتما دلفظوں سے بنتا ہے، پالیسی بیانات ، بجٹ ، تقاریر، کاروباری معاہدے،سب لفظوں کی بنیا د ہوتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی روز مرہ کی زبان کو کیسے بہتر بنانا ہوگا، پہلا قدم نیت ہے، جو کہتا ہے سوچ سمجھ کر کہیں ، دوسر اقدم احترام ہے، اختلاف ہو بھی تو لفظ شائستہ ہوں، چو فاقد م سچائی ہے، مباللہ وقتی واد ولا سکتا ہے، مگر بھرور نہیں، پانچواں قدم ہمدردی ہے سامنے والے کے احساس کو سمجھ کر بولیں ، اخباری کالم نگار کے لیے میڈمہ داری دوگنی ہے، اس کا ہر جملہ ہزاروں تک پہنچتا ہے، ایک اچھا جملہ قوم کا دن بہتر بنا سکتا ہے،اور ایک اچھا کالم قوم کی سوچ کو بلفظ اگر چراغ بن جائیں تو اندھیرے کم ہو جاتے ہیں، ایک اچھا جملہ، جو امید، سچ اور احترام سے بنا ہوں، واقعی سارا دن اچھا کر دیتا ہے، شاید ہمیں انقلاب کے لیے بڑی تقریروں کی نہیں، صرف اچھے جملوں کی ضرورت ہے، وہ جملے جو دل جوڑیں ، ذہن روشن کریں اور کل کو بہتر بنا ئیں۔

پچھلی پوسٹ

بسنت بہار،لاہور میں 3روز کے دوران 9 لاکھ گاڑیو ں کی انٹری کا ریکارڈ اورنج لائن،میٹروبس، فیڈربس، الیکٹروبس اور دیگر سرکاری بسوں پر 2روز میں تقریبا 14لاکھ مسافروں نے سفر کر کے نیا ریکارڈ بنا دیا

اگلی پوسٹ

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے بی سی بی کے صدرامین الاسلام کی ملاقات،کرکٹ کے فروغ اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے بی سی بی کے صدرامین الاسلام کی ملاقات،کرکٹ کے فروغ اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے بی سی بی کے صدرامین الاسلام کی ملاقات،کرکٹ کے فروغ اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper