لاہور صرف ایک شہر نہیں ایک کیفیت ہے، یہ شہر موسموں کو صرف محسوس نہیں کرتا ، انہیں مناتا ہے، یہی وجہ کہ جب بہار آتی ہے تو لاہور میں صرف وہ موسم نہیں رہتی ایک تہوار بن جاتی ہے، بسنت، جلسے بھی پنجاب کی شناخت کہا جاتا تھا ،لاہور میں جشن بہار کی صورت میں زندہ رہی، چاہے سرکاری سطح پر اس پر پابندیاں لگ چکی ہوں ، مگر دلوں میں آج بھی بسنت اڑتی ہے، پہلے کپڑے، چھتوں پر نہتے فضا میں اڑتی رنگ برنگی پتنگیں، ڈھول کی تھاپ اور “ہو کا ٹا” کی آواز یہ سب لا ہور کی اجتماعی یا داشت کا حصہ ہے ، اب سوال یہ ہے کہ جب بہار پورے پاکستان میں آتی ہے تو جشن صرف لاہور کے نام پر ہی کیوں جڑا ؟ باقی صوبے ،باقی شہر اس رنگ سے محروم کیوں لاہور کی خوش نصیبی یہ ہے کہ یہاں تہذیب نے تسلسل پایا، مغلوں کے دور سے لے کر برطانوی عہد اور پھر جدید پاکستان تک، لاہور نے اپنی ثقافتی شناخت کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھا، بسنت کوئی نئی رسم نہیں یہ صدیوں پر پھیلا ہو تہذہبی تسلسل ہے، یہاں موسموں کے ساتھ رسمیں جڑی ہیں، کھانوں کے ساتھ یا دیں اور گلیوں کے ساتھ تاریخ ، اس کے برعکس دیگر صوبوں میں ثقافت کو یا تو سیاست کی نذر کر دیا گیا یا مذ ہب اور انتہا پسندی کے نام پر اسے مشکوک بنادیا گیا سندھی ثقافت ہو یا پشتون روایتیں، بلوچی میلوں کی رنگینی ہو یا سرائیکی وسیب کی لوک دانشی ان سب کو دہ ریاستی سرپرستی نہیں کی جولا ہور کی ثقافتی علامت کو ملی، یہ تلخ حقیقت ہے کہ بسنت پر پابندی ایک سانحے کے بعد لگائی گئی ، انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، انتظامی نا اہلی سامنے آئی مگر فیصلہ روایت کو بہتر بنانے کے بجائے مکمل ختم کرنے کا ہوا لیکن اس کے متبادل کوئی تہذیبی راستہ نہ دیا گیا ، لاہور نے بسنت کو یا دوں میں بسالیا، مگر باقی صوبوں میں ایسے کسی تہوار کو پنپنے ہی نہ دیا گیا ،ثقافت کو اگر خطرہ سمجھا جائے تو معاشرہ رنگ کھو دیتا ہے اور جب معاشرہ بے رنگ ہو جائے تو شدت پسندی آسان ہو جاتی ہے، پاکستان میں بدقسمتی سے ثقافت ہمیشہ ثانوی رہی، بجٹ پالیسی اور توجہ، سب کچھ یا تو طاقت کے مراکز کے گردگھومتار بایا محض سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہوا، لا ہور چونکہ طاقت کے مرکز کے قریب رہا، اس لیے اس کی ثقافت بھی نمایاں رہی سندھ میں “سندھی ٹیچر ڈے ” عوام نے خود زندہ رکھا، خیبر پختونخواہ میں روایتی میلوں کو سیکیورٹی کے نام پر محدو دکر دیا گیا، بلوچستان میں وسائل کی کمی نے ثقافت سرگرمیوں کو پنپنے نہ دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ بہار تو آئی مگر جشن نہ بن سکی ، ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا کہ ہر ثقافتی سرگرمی کو مذ ہب کے مقابل لا کھڑا کیا گیا، حالانکہ تہوار خوشی اور اجتماع انسانی فطرت کا حصہ ہیں، اسلام خوشی ، محسن اور اجتماع سے نہیں روکتا، بلکہ انتہا، اسراف اور نقصان سے منع کرتا ہے، اگر پتنگ بازی میں خطرات تھے تو ضابطہ بنایا جاتا ہے، ٹیکنالوجی لائی جاتی ، قانون نافذ کیا جاتا مگر روایت کو دفن کرنا آسان راستہ سمجھا گیا،مگراب 2026 میں چیف منسٹر پنجاب نے تمام تر بسنت یا بہار کے جشن کو واپس لوٹا دیا ہے اور اب اس کی خوشی میں پورالا ہور سج دھج کے 25 سال بعد نئیبسنت خوشیوں کے ساتھ منا رہا ہے لاہور کی بسنت کو میڈیا نے ہمیشہ رومانوی انداز میں پیش کیا، ڈرامے، گانے ، فلمیں اشتہارات سب نے اس تہوار کو امر کر دیا ہے، مگر باقی صوبوں کی ثقافت کو یا تو دکھایا نہیں گیا یا محض “لوک رنگ” کے خانوں میں بند دیا گیا، ہمیڈ یا اگر چاہے تو حیدر آباد کی بہار، پشاور کے میلوں، کوئٹہ کے ثقافتی دنوں کو بھی تو کی شناخت بنا سکتا ہے، بسنت ہو یا نہ مگر کیا ہم اجتماعی خوشی کے قائل ہیں، کیا ریاست اور معاشر مل کر ایسا ماحول بنا سکتا ہیں جہاں ہرصو بہ، ہر خطہاپنی بہارا اپنے انداز میں منا سکے؟لاہور پتنگ سے اپنی شناخت بنا تا ہے توسندھ اپنی اجرک سے خیبر پختو نخواہ اتن سےبلوچستان لوک موسیقی سے اور جنوبی پنجاب اپنی مٹی کی خوشبو سے کیوں نہیں؟نتیجہ یہ ہوگا کہ بہار سب کی ہے، یہ ہوا، پھول، رنگ اور اُمید کا نام ہے، مسئلہ موسم کا نہیں ، نبیت کا ہے جب تک ثقافت کو ریاستی بوجھ سمجھا جاتا رہے گا تب تک جشن صرف چند شہروں تک محدو در ہیں گے، لاہور آج بسنت منارہا ہے تو انھوں نے خوشی کو اپنے دلوں میں زندہ رکھا، لیکن یہی خوشی باقی شہروں کو بھی میسر ہو جائے تو بہار کے جشن کی خوشی سب مل کر محسوس کر سکیں گے،
