غریب کا مستقبل بہت سے سوالات میں گھر چکا ہے کل جن معاملات پر وہ سفر کر رہا تھا، آج اس کی نسلیں بھی وہی پرابلمز دیکھ رہی ہیں ، روز گار کا حصول کل بھی مشکل تھا، آج بھی مشکل ہے، ساری سہولتیں صرف چند شہروں کوہی مکمل طور پرمل جاتی ہیں ، انڈسٹریز کا قیام بڑے شہروں میں ، بڑے تعلیمی ادارے سب بڑے شہروں کے نام تعلیمی اداروں کی بھر مار ہے، گل گلی سکول عام ، نصاب کئی طرح کے، امیر کے لیے اور غریب کے لیے اور نصاب، جس سے پیدا ہور ہے ہیں طبقات، کیا چھوٹے شہروں میں سمال انڈسٹریز کا جال حکومت نہیں بنا سکتی، صرف چند شہر مخصوص کیوں اور جب ہم دیکھتے ہیں، جنوبی پنجاب کو تو میلوں تک ذراعت ہی واحد ذریعہ ہے معاش کا ، کیا جنوبی پنجاب کے چھوٹے شہروں کی زمین میں سمال انڈسٹریل زون نہیں بنائے جاسکتے ، تا کہ ہنر مند اور تعلیمی ڈگریوں کے لوگ ،شہروں میں نہ بھٹکیں اور اپنی رہائش کے نزدیک روز گار حاصل کر سکیں ، کیا سب بڑی یونیورسٹیاں اپنی سب برانچز Acdemic sub branchies بر تحصیل لیول پر نہیں بناسکتی تا کہ بڑے شہروں میں جانے والے لوگ اپنے مقامی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکیں اور ہوٹلز کے اخراجات سے بیچ سکیں، اور اپنے ماں باپ کے سامنے رہ سکیں تا کہ ان کی تربیتی مراحل میں برے عناصر نہ آسکیں۔ گھروں سے دور ، اپنوں کی نظر سے اوجھل ہو کرسٹو ڈنٹس ہوسٹلوں میں کئی قسم کے منفی اثرات کا شکار ہورہے ہیں اور آئے روز ہمیں خبریں سنے کوملتی ہیں کہ ہوٹلز کا ماحول خراب ہے، اگرا کیڈمک سب برانچز بن جائیں تو تعلیم اپنے گھر کی دہلیز پر حاصل کی جاسکے ،حکومت کو چاہیے Inde strialist کو چھوٹے پیمانے پر ورکنگ یونٹس جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں لگانے کے لیے قائل کریں ، تا کہ روز گار کا حصول
گھر کے نزدیک ہو سکے، اور اب تو موٹرویز کی وجہ سے سفر بھی آسان ہیں، اور ٹرانسپورٹیشن بھی مشکل نہیں رہی ہغربی معاشروں میں تو قانون بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق بدل رہے جاتے ہیں ،مگر ہم سسٹم کو جدت سے اور فراغ دلا نہ سوچ سے محروم رکھنے کو دیتے ہوئے ، مقامی سطح پر چھوٹی صنعتوں کے فروغ دینے سے غریب کو کام ملے گا اور خوشحالی کی طرف کر سکے گا، پسماندہ علاقوں میں انڈسٹریل زون بنانے کے لیے حکومت کو انفر اٹیچر میں سڑکیں بجلی، پانی کی سہولت ہونا ضروری ہے، ماحولیاتی عوامل مینجمنٹ کے لیے ضروری ہیں،
ہنر مند لوگوں کی کمی نہیں،Labour بھی موجود ہے، مقامی اکافی اور انوائرمنٹ ان پسماندہ علاقوں سے جڑی ہوئی ہے۔
حکومتی اداروں نے 2025 کے اس سیلاب میں ان امیر باز کا وزٹ کیا ہے ، ان کو ایسی سرویسز مہیا کر دی جائیں تا کہ عوامی بوجھ بڑے شہروں پر کم ہو سکے ، میاں محمد نواز شریف صاحب نے جو موٹر ویز بنائی ہیں ، ان کا استعمال انڈسٹریز کی ٹرانسپورٹیشن کے کام آئے ، خاص طور پر رورل ایریاز میں قیام کی جائیں جس سے ورکرز کی رہائش کا لونیز ، سکول اور ہیلتھ سے متعلق سہولیات عوام کو میسر ہوں گی ، ان کی آمدنی گھروں کے نزدیک ترین ایریاز میں میسر ہوں گی ہگر جو کہ وقت کا ایک اہم عنصر ہے ،مظفر گڑھ علی پور اور اس کے متعلقہ علاقوں میں اس
کے قیام کی اشد ضرورت ہے، سمال انڈسٹریز کے لیے مخیر حضرات کو بھی سوچنا چاہیے تا کہ علاقے ترقی کرسکیں ،انڈسٹریل سٹرکچر میں ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے تمام عصر کو اور میکانزم کو بھی اولین ترجیح دی جائے، تا کہ صاف ستھرا پنجاب کے ساتھ صاف ستھری فضا بھی میسر رہے، ارباب اختیار اور حکومتی سطح پر ایسے اقدامات سے پسماندہ علاقوں کو بھی ترقی یافتہ شہروں کی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے، اور ار بن امیریاز کو بہترین شہروں میں بدلہ جا سکتا ہے۔
