اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ریلویز کی طویل المدت اور پائیدار ترقی کے لیے فریٹ سروس میں سرمایہ کاری اور میگا منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ترجیح دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی معیار کی فریٹ سروس سے صنعتی مصنوعات کی ترسیل میں آسانی کے ساتھ ساتھ ریلوے کی سالانہ آمدن میں قابل قدر اضافہ ممکن ہے۔ وہ بدھ کو یہاں اپنی زیر صدارت پاکستان ریلویز میں ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز نے مسافروں کی سہولت اور ریلوے سٹیشنز کی بہتری کے لیے قابل ستائش کام
کیا ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ ریلوے کی طویل المدت اور پائیدار ترقی کے لیے فریٹ سروس میں سرمایہ کاری اور میگا منصوبوں کی بروقت تکمیل ریلویز کی پالیسی ترجیحات ہونی چاہیے، عالمی معیار کی فریٹ سروس سے صنعتی مصنوعات کی ترسیل میں آسانی کے ساتھ ساتھ ریلوے کی سالانہ آمدن میں قابل قدر اضافہ ممکن ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریلوے کے جاری میگا منصوبوں میں مالی اور ادارہ جاتی انتظامات کی پیشگی منظوری کو یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تعطل اور تاخیر سے بچا جا سکے ۔ انہوں نے پاکستان ریلویز کے میگا پراجیکٹس بالخصوص ایم ایل 1، ایم ایل 3 اور تھر کول ریل منصوبہ کی جلد تکمیل کے لیےوفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باہمی تعاون سے کام کرنے کی ہدایت کی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میگا پراجیکٹس کی معیاری اور بروقت تکمیل سے تعمیری لاگت میں کمی اور قیمتی سرمایہ بچایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ریلویز کے میگا منصوبوں کے لیے بجٹ فراہمی یقینی بنائی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ تمام جاری منصوبوں میں عالمی معیار ، انتظامی شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ریلویز محمد حنیف عباسی اور سیکرٹری ریلوے کی جانب سے اقدامات اور منصوبوں کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ فریٹ سروس میں اصلاحاتی اقدامات کی بدولت رواں سال جون تک 40 ارب تک کی تاریخی آمدن متوقع ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ریلویز محمد حنیف عباسی،وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب ،وفاقی وزیر برائےپلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر اور متعلقہ اداروں کے عہدیداران نے شرکت کی۔

