کوئٹہ۔(نمائندہ خصوصی):وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات ایک نئے دور کا آغاز ہیں،حکومت بلوچستان کی عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے یہ بات جمعہ کو وزیرِ اعلی ہاؤس میں 11منصوبوں کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری ،گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل،،صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ،سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، صوبائی وزراء ،مشیر،پارلیمانی سیکرٹریز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی ،بیوروکریسی سمیت پیپلزپارٹی کے عہدیداران وکارکنان موجود تھے ۔وزیر
اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلاول بھٹو زرداری کو بلوچستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ امید ہے وہ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر آئندہ بھی بلوچستان آتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں صحت کے شعبے میں ایک انقلاب کا دن ہے، اور یہ بات ماضی میں شاید کسی کے تصور میں بھی نہ رہی ہو کہ عوام کو گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات میسر ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ٹراما سینٹر کا نام شہید بے نظیر بھٹو کے نام پر رکھا جائے گا۔ جب موجودہ حکومت نے ذمہ داری سنبھالی تو بلاول بھٹو زرداری نے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے 99 فیصد اسکولز کھول دئیے گئے ہیں جبکہ 13 ہزار اساتذہ کی تعیناتی بھی مکمل کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر تعمیر و ترقی کے کاموں میں تعاون جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے تمام بڑے شہروں میں آئندہ تین سالوں کے دوران پیپلز بس سروس شروع کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات باقی ملک سے مختلف ہیں، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ اپوزیشن نے زیادہ تر مواقع پر حکومت کے ساتھ تعاون کیا ہے۔
