اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی)روس نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ افغانستان اب بھی عالمی دہشت گردی اور سرحد پار منشیات اسمگلنگ کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، جو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ روسی خبررساں ادارے ٹی اے ایس ایس اور افغان میڈیا ادارے اماج نیوز کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے یہ خدشات ایس سی او سلامتی کونسلوں کے سیکریٹریز کے 21ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 18 ہزار سے 23 ہزار دہشت گرد سرگرم عمل ہیں۔ان کے بقول طالبان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے باوجود خطے کو لاحق سکیورٹی خطرات بدستور برقرار ہیں۔سرگئی شوئیگو نے کہا کہ طالبان اور داعش کے درمیان مسلح جھڑپیں جاری ہیں جبکہ داعش کے تقریباً 3 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، جو علاقائی
سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ شام سے غیر ملکی جنگجوؤں کی افغانستان آمد میں اضافہ ہو رہا ہے، جن میں ایغور، تاجک اور ازبک شدت پسند شامل ہیں۔ ان عناصر کا تعلق مبینہ طور پر ان گروہوں سے ہے جو ماضی میں حیات تحریر الشام سے وابستہ رہے ہیں۔ روسی حکام نے افغانستان میں مصنوعی منشیات خصوصاً میتھامفیٹامین کی بڑھتی ہوئی پیداوار پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خراب معاشی صورتحال کے باعث منشیات کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور تقریباً 40 لاکھ افراد اس کاروبار سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف 2025 کے دوران افغانستان کی سرحدوں سے ملحقہ علاقوں میں 30 ٹن سے زائد میتھامفیٹامین ضبط کی گئی۔ روسی بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ افغانستان سے وسطی ایشیائی ریاستوں اور وسیع تر ایس سی او خطے میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔سرگئی شوئیگو نے خطے کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایران کے گرد مسلح کشیدگی دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے یوکرین تنازع کے حوالے سے بھی کہا کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب تنازع کی بنیادی وجوہات کو مکمل طور پر حل کیا جائے۔
