راولپنڈی ( نمائندہ خصوصی):پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت اور عملی اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے ’سپیس فور کلائمیٹ‘ اقدام کا آغاز کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کےمطابق اس اقدام کا مرکزی محور ’جیو اے آئی‘سے لیس ایک ماحولیاتی رسد گاہ ہے جو ایک ایسا مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جہاں سیٹلائٹ ڈیٹا، جغرافیائی تجزیات اور ماڈلنگ کو یکجا کر کے پالیسی سازوں، محققین اور عوام کے لیے قابل عمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔یہ پلیٹ فارم فضائی آلودگی کے عوامل (ایروسولز، سلفر آکسائیڈز، نائٹروجن آکسائیڈز)، گرین ہائوس گیسوں (کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین)، جنگلات، گلیشیئرز، ساحلی تغیرات، دریائوں کے نظام اور زمین کے استعمال
کی نگرانی کرتا ہے۔ مزید برآں یہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات بشمول سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز، سطح سمندر میں اضافہ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے واقعات کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔خلائی اور زمینی حقائق کو یکجا کر کے ’سپیس فور کلائمیٹ‘ ٹھوس شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہو رہا ہے جو عالمی کوششوں کے عین مطابق پاکستان کے ماحولیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
