کراچی( نمائندہ خصوصی)عالمگیر ویلفئر،عالمگیر سطح کا رفاہی ادارہ جس کا سالانہ بجٹ اربوں میں ہے اور غربا یتامی و مساکین کی امیدوں کا اہم مرکز ہے شہر بھر میں پھیلے اس کے دسیوں منصوبے آپ کی نظر سے روزانہ گزرتے ہوں گے جسے آپ
ایک معمول کی نظر سے دیکھتے ہوے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر کبھی سوچا ہے کہ ان بے جان بلڈنگز میں کوئی ایک بھوکا چھوٹے گوشت سے پیٹ بھر کر روٹی کھاتا ہوگا تو عرش پر اس عمل کو کسی پذیرائی ملتی ہوگی اس تنظیم کا اصل مرکز تو کراچی ہے مگر ملک بھر میں اس کے فلاحی منصوبے جاری و ساری ہیں کبھی بہادر آباد جانا ہو تو عالمگیر مسجد سے متصل اس کے خیراتی مرکز پر نظر دوڑائیں، بے ساختہ خدا یاد آجائے گا پھٹے پرانے کپڑوں اداس چہروں اجڑے بالوں والے مرد پیوند لگی چادروں کے ساتھ
پردہ کی کوشش کرتی بوڑھی جوان عورتیں بچے اور چہرے چھپاتے بیسیوں سفید پوش بھوکے بے آسرا فٹ پاتھوں پر بیٹھے ٹوکن کی کھڑکیوں کے سامنے لائنوں میں لگے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر شکر ربی بے ساختہ ادا ہوتاہے کہ آج ہم ان میں سے نہیں مگر وہ ناراض ہو جائے تو اپنی آدھی صدی کی زندگی میں بڑے بڑے کروڑ پتیوں کو اس سے بھی برے حال میں دیکھاہے، ابھی
حال ہی میں عالمگیر ویلفئر نے غربا اور لاوارثوں کے لیے ایک نیا دلکش منصوبہ متعارف کروایا ہے، مہران ٹائون کورنگی اور بہادر آباد میں دو رفاہی شاپ کھولی ہیں جس میں زکواۃ کے حقدار 500 سو کا ٹوکن خرید کر ہر 3 ماہ میں 20 ہزار کی خریداری کرسکتے ہیں ان رفاہی دوکانوں میں کپڑے اور گھریلو سامان دیا جاتا ہے اس طرح اس ادارہ نے لینے والوں کو دینے والا بنادیاہے وہ 500 دے کر جب 20 ہزار کا گھریلو سامان خریدیں گے تو ان کے احساس تفاخر میں اضافہ ہوگا جبکہ ان دوکانوں سے دیا جانے والا سامان وہ ہے جو بڑے بڑے کارخانوں سے زکواۃ یا خیرات میں دیا جاتاہے اس طرح لوگ اپنا استعمال شدہ یا غیر استعمال شدہ سامان بھی عطیہ کرتے ہیں جسے بنا سنوار کر صاف ستھری پیکنگ کے ساتھ حق داروں کے حوالے کیا جاتاہے۔اللہ اکبر



