اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی (فوسپاہ) فوزیہ وقار نے وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس امین الدین خان سے ملاقات کی فوسپاہ کے مینڈیٹ، مجموعی کارکردگی اور حالیہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات کے بعد جاری کر دہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی محتسب نے چیف جسٹس کو فوسپاہ کے مینڈیٹ، مجموعی کارکردگی اور
حالیہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر فوزیہ وقار کا کہنا تھا کہ ہراسگی اور صنفی امتیاز کو محض انتظامی تنازعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں جن کے تدارک کے لیے موثر قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے عدلیہ میں انسانی حقوق اور صنفی برابری کے حوالے سے مزید حساسیت اور آگاہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک محفوظ اور باوقار ماحول کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ فوسپاہ کی جانب سے کام کی جگہوں پر محفوظ ماحول کے قیام، صنفی امتیاز کے خاتمے اور اسلام آباد میں خواتین کے جائیداد
کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔وفاقی محتسب نے خواتین کی آئینی شہریت کے فروغ اور ان کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ کو مکمل تعاون کی پیشکش کی۔چیف جسٹس امین الدین خان نے خواتین کے وقار، مساوی مواقع اور قانونی حقوق کے تحفظ کے مشن کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت فراہم کردہ بنیادی حقوق کے تحفظ کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔
