جیسا کہ میں نے 25 مئی کو کراچی سے رحیم یار خان کے سفربذریعہ بہاوالدین ذکریہ ایکسپریس کی اپ بیتی تحریرکی تھی تو میرے محترم عباسی صاحب اج اپ کو واپسی کے سفر کا احوال بیان کرنا چاہتا ہوں ۔
ہم نے سوچا واپسی پر کسی اچھی اور راولپنڈی سے چلنے والی ٹرین کا انتخاب کیا جائے ہو سکتا ہے کہ وہ اپ کے ابائی شہر سے چلنے کی وجہ سے سفر اچھا گزر جائے تو ہمارے ذہن میں فورأ پاکستان کا نام ایا مسلم لیگی جو ٹھہرے۔ لہذا ہم نے اس کے اے سی لوئر بوگی نمبر 6 میں29 مئی کے لیے چھ سیٹ والا کیبن بک کروادیا۔29 مئی کی صبح ناشتے کے بعد ہم نے
ٹریکر کے ذریعے چیک کیا تو پتہ چلا کہ راولپنڈی سے بالکل رائٹ ٹائم ٹرین ا رہی ہے یقین کریں ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی اور سوچا کہ نہیں یار 25 مئ کو شاید کسی خاص وجہ سے ہم اٹھ گھنٹے لیٹ ہوئے اج الحمدللہ صحیح ٹائم پر کراچی پہنچیں گےسارا دن انتظار کے بعد رات تقریبا 10 بجے صرف 45 منٹ ٹرین رحیم یار خان پہنچی جس کو ہم پاکستانی رائٹ ٹائم ہی سمجھتے ہیں بڑی خوشی کے ساتھ جلدی جلدی فیملی کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوئے اوراپنے کیبن میں سامان وغیرہ رکھوایا جو کہ کافی عزیز و اکارب اور بھانجے بھتیجے ساتھ چھوڑنے ائے تھے انہوں نے کافی مدد کی کیونکہ وہاں صرف دو سے تین منٹ کا اسٹاپ ہے جب وہاں سے ٹرین روانہ ہوئی اور تسلی سے بیٹھے تو محسوس ہوا کہ
صرف فین چل رہا ہے اے سی کی کولنگ تو کہیں نظر نہیں ارہی ہم نے سوچا ابھی ہو سکتا ہے اھستہ اہستہ ٹھیک ہو جائےلیکن جب ہم نے دوسرے مسافروں سے اس کے متعلق پوچھا تو پتہ چلا کہ ایئرکنڈیشن تو بہاولپور سے ہی بند ہے ہم نے پھر متعلقہ الیکٹریشن کو ڈھونڈنا شروع کیا تو وہ صاحب دوسری اے سی بوگی میں براجمان تھے جنہوں نے بتایا کہ اس کا ایک الیکٹریکل کنڈکٹرجل گیا ہے جس کی روھڑی اسٹیش ہم نے رپورٹ کر دی ہے وہاں سے ٹھیک ہو جائے گا ۔بہاولپور سے روھڑی کا سفر تقریبا پانچ گھنٹے سے زیادہ کا ہے عباسی صاحب اپ نے کبھی یا ریلوے کے کسی بڑے حرکارے نااھل افسر نے اس کنڈیشن میں بند بوگی کے اندر بغیر اے سی کے جس میں باہر کی ہوا بھی نہ ارہی ہو ان کے انٹری گیٹوں کو رسیوں سے باندھ کے کنٹرول کیا گیا ہو۔واش روم انتہائی گندے اور پانی کھڑا ہو۔اس میں فیملی تو کجاکبھی اکیلے سفر کر کے دیکھیں تو پھر شاید ان میں کچھ غیرت اور شرم حیا ا جائے ورنہ ریلوے کے افسران بالا کو ڈوب مرنا چاہیے۔کیونکہ اس اذیت کو صرف وہ مسافر جس میں بوڑھے چھوٹے بچے اور خواتین ہوں صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپ کے نزدیک بھیڑ بکریوں سے زیادہ حیثیت کے نہیں حالانکہ انہی کی جمع پونجی سے ڈبل ٹرپل کرایہ وصول کر کے اپ اور اپ کے ریلوے کے افسروں کی عیاشیاں جاری رہتی ہیں ۔
جیسے ہی ہم روہڑی پہنچے اور اے ۔ایس۔ایم صاحب کے کمرے میں گئے تو وہ اپنے افس سے غائب تھے بڑی مشکل سے ایک دو اسٹاف کے بندے نظر ائے جن کی مہربانی سے تقریبا ایک گھنٹے کے بعد ادھی بوگی کا کمپریسر ان ہو سکا اس دوران دو دفعہ ٹرین کو ویکم لگا کر روکنا پڑا۔اپ کے عملے کی حالت یہ تھی ہماری 6 نمبر بوگی کے اندر ہی ایک چھ سیٹوں والاپورا کیبن ایک گارڈ ، ٹکٹ چیکر اور دو پولیس والوں کے قبضے میں تھا جس کو باقاعدہ اگے کپڑا باندھ کر اس میں ارام فرمایا جا رہا تھا ۔ہم تو سمجھتے ھیں کہ اپ جیسے لیڈروں نےھی نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان کے نام پر بننے والی ہر چیز کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں اور عوام کو بھی جو واقعی پاکستانی ہیں سب کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے میری درخواست ہے کہ اگر اپ لوگ اللہ سے نہیں تو کم از کم اس وقت سے ڈریں جب یہ لوگ اپنے حق کو پہچاننے لگیں تو پھر اپ جیسے وزیروں نااھل کرپٹ اور بد دیانت افسروں کا کیا حشر ہوگا اللہ پاک ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور اپ جیسے دیگر اور رشوت خور افسروں کے عذاب سے چھٹکارا نصیب فرماۓ امین

