لاہور۔(اسپورٹس رپورٹر):پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان آغا نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں تین صفر سے کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے اور ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔قذافی سٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فخر زمان گزشتہ دس برسوں سے قومی ٹیم کے لیے مسلسل پرفارم کر رہے ہیں، اگر اس وقت ان کی کارکردگی سامنے نہیں آ رہی تو ٹیم مینجمنٹ انہیں مکمل سپورٹ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم اپنے کھلاڑیوں پر اعتماد رکھتی ہے اور مشکل وقت میں بیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔سلمان آغا نے واضح کیا کہ ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ ٹیم کے اختیار میں نہیں ہے، اس حوالے سے جو بھی فیصلہ پاکستان حکومت اور کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کریں گے،
قومی ٹیم اسی پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا دو مختلف ممالک ہیں اور دونوں کی کنڈیشنز الگ ہیں، اس لیے ان کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔کپتان کا کہنا تھا کہ جس انداز میں اس وقت ٹیم کرکٹ کھیل رہی ہے، ورلڈ کپ میں بھی اسی جذبے اور حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں کسی ایک کھلاڑی کا نمبر فکس کرنا موزوں نہیں ہوتا اور ٹیم کے پاس اس وقت پانچ معیاری اسپنرز موجود ہیں، جو ٹیم کے لیے ایک بڑا پلس پوائنٹ ہے۔ایک سوال کے جواب میں سلمان آغا نے کہا کہ کیمرون گرین سے متعلق معاملہ میچ ریفری کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، ٹیم مینجمنٹ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ عثمان طارق کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ دو بار ٹیسٹ کلیئر کر چکے ہیں اور ٹیم کی ضروریات پر پورا اترتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ تمام کرکٹرز کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے اور ہر کھلاڑی کو میچ
میں اپنی بہترین پرفارمنس دینا ہوگی۔ بابر اعظم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ بابر کو تھوڑی سی اسپیس دینے کی ضرورت ہے اگر انہیں اعتماد اور آزادی دی جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔سلمان آغا کا کہنا تھا کہ شائقین کرکٹ کی توقعات فطری ہوتی ہیں، اچھی پرفارمنس پر وہ خوش ہوتے ہیں اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ عثمان خان اس وقت ٹیم کی پہلی چوائس ہیں اور ٹیم مینجمنٹ ان پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔
