کراچی( نمائندہ خصوصی)کراچی میں بارش کے دوران مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 19 ہوگئی ہے، چھت اور دیواریں گرنے سے 60 افراد زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق بلدیہ مواچھ گوٹھ کے قریب دیوار گرنے سے 11 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ اسی مقام پر ریسکیو ٹیمیں مزید افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے
میں ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے کہا کہ دوسری منزل کی چھت پہلی منزل پر گری، یہ رہائشی عمارت نہیں ہے۔ایس ایس پی نے مزید کہا کہ پولیس نفری موقعے پر پہنچ گئی ہے، سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ترجمان ریسکیوکا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک افراد نشے کے عادی تھے۔ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق تمام افراد بارش کے باعث عمارت میں جمع ہوئے تھے۔علاوہ ازیں ریسکیو حکام کے مطابق لانڈھی اور مجید کالونی میں دیوار گرنے سے خاتون اور مرد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ملیر ندی یارو گوٹھ کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے 1 شخص جاں بحق ہوا جبکہ شاہ لطیف ٹاؤن مرغی خانہ کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے بھی ایک شخص جاں بحق ہوا۔حکام کے مطابق کورنگی
ساڑھے 3 میں گھر کی چھت گرنے سے خاتون اور کورنگی 5 نمبر میں درخت گرنے سے 1 شخص جاں بحق ہوئے ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق بارش کے دوران مختلف واقعات میں 7 افراد زخمی ہوئے ہیں، لاشوں اور زخمی کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔تیز ہوا اور بارش کے دوران مائی کولاچی میں بل بورڈ گرگیا جبکہ شارع فیصل پر مختلف جگہوں پر بارش کا پانی جمع ہے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔نیو ملیر کے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بارش شروع ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب مواچھ گوٹھ پہنچ گئے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ناصر حسین شاہ کے مطابق متعلقہ محکموں کے تمام عملے کی عید کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔وزیر بلدیات سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت عوام کی جان ومال کی حفاظت کے لیے سرگرم ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ کراچی کے عوام گھروں میں
رہیں، بجلی تنصیبات کو ہاتھ لگانے میں احتیاط کریں۔علاوہ ازیں کراچی میں بارش کے بعد 200 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہوگئے ہیں، شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی غائب ہوگئی۔لیاقت آباد، لائنز ایریا، ماڑی پور روڈ، مچھر کالونی، گلشن معمار، نیو کراچی، سرجانی، قائدآباد، لانڈھی، ملیر، کورنگی، گارڈن ایسٹ اندھیرے میں ڈوب گئے۔بارش کے بعد کیماڑی کے بیشتر علاقے، کلفٹن بلاک 5، اسکیم 33، ملیر کینٹ، گلستان جوہر بلاک 41 اے، ٹیپو سلطان اور کراچی ریونیو سوسائٹی میں بھی بجلی معطل ہے۔ترجمان کے-الیکٹرک کے مطابق تیز ہوا اور بارش کے دوران برقی آلات کے استعمال میں احتیاط کریں، بارش اور کھڑے پانی میں برقی آلات کا غیر محفوظ استعمال حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔کے الیکٹرک ترجمان کے مطابق شہری ٹی وی، انٹر نیٹ کیبلز اور ٹوٹے ہوئے تاروں، بجلی تنصیبات سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں، غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول اور کنڈے جان لیوا حادثات کا سبب بنتے ہیں۔علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ کراچی میں رات میں مزید بارش کا امکان نہیں ہے، کل دوپہر کے بعد بارش ہوسکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے اعلامیے کے مطابق کراچی میں بارش تھم گئی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں گرج چمک کا سلسلہ جاری ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق تیز ہوا اور گرج چمک کے ساتھ کہیں کہیں موسلا دھار بارش ہوسکتی ہے جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق عید کے پہلے دن ہلکی بارش کا امکان رہے گا جبکہ 24 تا 27 مارچ کے دوران بھی مغربی ہواؤں کا سلسلہ کراچی سمیت سندھ میں بارش کا سبب بن سکتا ہے۔
