کراچی ( خصوصی رپورٹ)دل دل پاکستان: ایک گیت جس نے قوم کے دلوں کی دھڑکن بن کر تاریخ رقم کی کیا آپ جانتے ہیں کہ “دل دل پاکستان، جاں جاں پاکستان” صرف ایک ملی نغمہ نہیں بلکہ ایک ایسا ثقافتی انقلاب تھا جس نے پاکستان میں پاپ موسیقی اور حب الوطنی کو ایک نئی پہچان دی؟1987ء میں جب پاکستان ٹیلی ویژن پر پہلی بار یہ نغمہ نشر ہوا تو شاید کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ چندنوجوانوں کی آواز آنے والی کئی نسلوں کی پہچان بن جائے
گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ گیت گلیوں، اسکولوں، کالجوں، کھیلوں کے میدانوں اور ہر قومی جشن کی جان بن گیا۔لیکن اس لازوال نغمے کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی چھپی ہے۔ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ جنید جمشید ہی اس نغمے کے خالق تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے خوبصورت بول معروف شاعر نثار ناسک نے تخلیق کیے تھے، جبکہ جدید
موسیقی، کمپوزیشن اور ویڈیو کے ذریعے اسے نئی زندگی دینے میں شعیب منصور کا اہم کردار تھا۔ پھر وائٹل سائنز اور جنید جمشید کی پُرجوش آواز نے اسے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ایک اور دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض محققین کے مطابق اس نغمے کے ابتدائی بول 1967ء میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے بچوں کے پروگرام میں بھی سنائے جا چکے تھے،
جنہیں بعد میں نئے انداز میں پیش کیا گیا۔ اگر یہ روایت درست ہو تو اس نغمے کی تاریخ عام تصور سے بھی زیادہ پرانی ہے۔اس گیت کی کامیابی کی وجہ صرف اس کی خوبصورت دھن نہیں تھی، بلکہ اس کا سادہ پیغام بھی تھا۔ وطن سے محبت، امید، نوجوانوں کا جذبہ اور روشن مستقبل کا خواب—یہ سب کچھ ایک ہی نغمے میں سمٹ آیا تھا۔شاید یہی
وجہ ہے کہ “دل دل پاکستان” نے سرحدوں سے باہر بھی اپنی شناخت بنائی اور بی بی سی ورلڈ سروس کے عالمی عوامی سروے میں دنیا کے مقبول ترین گیتوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ یہ اعزاز کسی بھی پاکستانی ملی نغمے کے لیے غیر معمولی کامیابی تھا۔وقت گزرتا گیا، جنید جمشید نے زندگی کا نیا راستہ اختیار کیا، نثار ناسک بھی اس دنیا سے رخصت
ہو گئے، مگر “دل دل پاکستان” آج بھی زندہ ہے۔ 14 اگست ہو، 6 ستمبر، کرکٹ کا میدان ہو یا کسی اسکول کی تقریب، یہ نغمہ سنتے ہی دل میں وطن کی محبت تازہ ہو جاتی ہے۔یہ صرف ایک گیت نہیں، بلکہ ایک احساس، ایک یاد، اور ایک ایسی آواز ہے جو ہر پاکستانی کے دل کی دھڑکن بن چکی ہے۔

