اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی نویسٹمنٹ کانفرنس میں شریک چینی اور مقامی کمپنیوں کے نمائندوں نے دونوں ممالک کے تعاون سے جدید طبی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ چین کی میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنی نے پیدائشی نقائص اور موروثی بیماریوں کی روک تھام کے لیے جدید طبی ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور مستقبل میں ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی ا نویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زونگ کی میڈیکل انٹیلیجنٹ ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی کمپنی کی نمائندہ ٹو یا نے کہا کہ ان کی کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی ) پر مبنی جدید طبی حل فراہم کر رہی ہے جن کا مقصد عالمی سطح پر پیدائشی نقائص اور موروثی بیماریوں کی روک تھام ہے۔انہوں نے کہا کہ
طبی شعبے میں نمایاں ترقی کے باوجود دنیا بھر میں ہر سال 3 سے 8 فیصد نومولود بچے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جبکہ آبادی میں عمر رسیدگی اور خواتین میں تاخیر سے حمل کے رجحان کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت کی مدد سے بیماریوں کی ابتدائی مرحلے پر روک تھام کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ ہر خاندان کو صحت مند بچے کی نعمت میسر آ سکے۔چینی کمپنی کی جنرل منیجر نے کہا کہ کانفرنس کے دوران پاکستان کے 20 سے زائد طبی اداروں، جامعات، ڈاکٹروں اور کاروباری شراکت داروں کے ساتھ مفصل ملاقاتیں ہوئیں، جن سے پاکستان میں کمپنی کی مصنوعات متعارف کرانے اور صحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کو تقویت ملی۔انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی مستقبل میں پاکستان میں فیکٹری قائم کرنے، مقامی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے اور پاکستان کو خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک علاقائی مرکز بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ٹو
یا نے کانفرنس کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا یہ دورہ ان کے لیے ایک خوشگوار اور یادگار تجربہ ثابت ہوا جبکہ انہوں نے پاکستانی حکام اور کاروباری نمائندوں کو چین کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔شنگھائی فارما کمپنی کے نمائندے نے پاکستان چین فارماسیوٹیکل ڈویلپمنٹ اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس 2026 کے کامیاب انعقاد پر حکومت پاکستان اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے دوران بہترین انتظامات اور پرتپاک مہمان نوازی قابلِ ستائش رہی۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر صحت، ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی قیادت اور پاکستان و چین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے ان کے عزم کو سراہا۔چینی کمپنی کے نمائندے نے کہا کہ اس کانفرنس نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کے فروغ کے لیے مؤثر مواقع فراہم کیے ہیں جو پاکستان میں صحت کے شعبے کی بہتری میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔چین کی ہینان شِن زوو کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر کی نمائندگی کرتے ہوئے انجینئر محمد مدثر الدین نے پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور ٹیکس میں رعایتیں پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ چین میں بھی متعلقہ حکومتی پالیسیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔انجینئر محمد مدثر الدین نے بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کی معاونت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ سفارتخانے نے پاکستان میں کاروباری روابط کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

