اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی )پاکستان میں واٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس ہیکنگ کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے سائبر فراڈ کے خلاف جامع ایکشن پلان تیار کر لیا ہے۔
ڈی جی این سی سی آئی اے سید خرم علی نے کہا ہے کہ ہیک شدہ واٹس ایپ اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے آن لائن ہیلپ لائن قائم کی جا رہی ہے، جہاں متاثرہ شہریوں کو رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ میٹا کے تعاون سے مقامی زبانوں میں عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ شہری سائبر جرائم سے محفوظ رہ سکیں۔
ڈی جی این سی سی آئی اے کے مطابق انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال میں اضافے کے ساتھ سائبر فراڈ اور واٹس
ایپ ہیکنگ کے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں، جن کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون سے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرگرم متعدد سائبر کرائم گینگز کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ موبائل فون پر موصول ہونے والا او ٹی پی (OTP) یا خفیہ تصدیقی کوڈ کسی بھی صورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں، کیونکہ ہیکرز اسی کوڈ کے ذریعے واٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ او ٹی پی کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بعض ذرائع کے مطابق غیر فعال یا مرحوم افراد کے موبائل نمبروں کے مبینہ غلط استعمال سمیت دیگر مشکوک سرگرمیوں کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ اسی طرح بعض واٹس ایپ گروپس میں جعلی یا غیر قانونی طور پر استعمال ہونے والی سموں کے حوالے سے بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ واٹس ایپ پر ٹو اسٹیپ ویریفکیشن فعال کریں، مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں، نامعلوم لنکس پر کلک نہ کریں، اور اپنی ذاتی معلومات یا او ٹی پی کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں تاکہ واٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس کو ہیکنگ سے محفوظ رکھا جا سکے۔دوسری جانب یہ بھی بتایا گیا ہے ہمسایہ ملک افغانستان اور کہیں غیر ممالک کہ نمبرات واٹس ایپ گروپ میں ایڈ ہے ان کے خلاف بھی بہت جلد کاروائی شروع ہونے والی ہے

