یہ اہم سوال ہے کہ جب کوئی حکومت عوام پر ظلم کرتی ہے تو لوگ اسے ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کرلیتے ہیں ۔ ظلم کے خلاف کم از کم آواز تو اٹھائیں ۔ بلند آواز میں برا بھلا تو کہیں ۔ جب میں اپنا گزشتہ آرٹیکل ” پاکستان بنانا ریپبلک بن چکا ہے ” لکھ رہا تھا تو ذہن بہت ساری کہانیاں اور اقوال لہرانے لگے ۔ جب حکومت کا فیصلہ دیکھا کہ پٹرول کی قیمت اب روزانہ کی بنیاد پر مقرر کی جائیں گی تو ذہن میں پہلا سوال یہی اٹھا کہ کیوں بھئی ؟ کیا یہ آئل کمپنیاں روز کی بنیاد پر پٹرول خرید کر عوام کو فروخت کرتی ہیں ۔ جب یہ یہ سہ ماہی بنیادوں پر خریدتی ہیں تو پھر سہ ماہی بنیاد پر ان قیمتوں کا تعین کیوں نہیں ؟ اور ان کا منافع بھی متناسب کیوں نہیں ؟ انہیں اپنے منافع کو لامتناہی وصول کرنے کا حق کیوں دیا گیا ہے ؟ ان ہی سوالات کے جواب میں آج کچھ پرانی کہانیاں اور اقوال ۔ ان سے نتیجہ خود نکالیے ۔
سب سے پہلے ایک کہانی ۔ اس کہانی کا مصنف کون ہے ، یہ معلوم نہیں مگر اسے پڑھ کر ضرور سمجھ میں آجاتا ہے کہ عوام کو non issues میں کیوں پھنسایا جاتا ہے ۔ کبھی پنکی کا کیس ، کبھی ارمغان کا کیس ، کبھی کسی فلمی ستارے کا کوئی اسکینڈل ، کبھی کسی یوٹیوبر کی چھترول ۔ اور کچھ نہیں تو مسلکی اور مذہبی منافرت ، کبھی لسانی معاملات کو ہوا دینا مگر عوامی مسائل کی طرف کسی کی نگاہ نہیں ۔
ایک مشہور محاورہ ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ۔ مگر یہ آدھا محاورہ ہے ۔ پورا محاورہ یہ ہے کہ جب کیک کا ٹکڑا حاصل کرنا ہو تو یہ ساری انگلیاں نہ صرف برابر ہوتی ہیں بلکہ ایک دوسرے کی ممد و معاون بھی ۔ اس محاورہ کی روشنی میں اپنے آس پاس نگاہ ڈالیں تو بہت کچھ سمجھ میں آجاتا ہے کہ مفادات کے لیے کیسے سب شیر و شکر ہیں ۔ اس کہانی کو پڑھ کر subsidy ، صحت کارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے کھیل بھی سمجھ میں آتے ہیں ۔ تو پہلے کہانی پڑھتے ہیں ۔
روم میں بھوک ہمیشہ خاموش نہیں رہتی تھی۔ کبھی وہ پیٹ میں مروڑ بن کر اٹھتی، کبھی آنکھوں میں غصہ بن کر جلتی، اور کبھی سڑکوں پر شور بن کر پھیل جاتی۔لیکن ریاست نے بھوک کو خاموش کرنا سیکھ لیا تھا۔
لوسیئس ایک نانبائی کا بیٹا تھا۔ اس کے باپ کی دکان شہر کے غریب علاقے میں تھی، جہاں لوگ روٹی خریدنے نہیں، مانگنے آتے تھے۔ ہر صبح وہ دیکھتا، لوگ قطار میں کھڑے ہوتے۔ کچھ کی آنکھوں میں امید ہوتی، کچھ کی آنکھوں میں خالی پن۔
ایک دن اس نے اپنے باپ سے پوچھا،
“اگر ان کے پاس پیسے نہیں، تو یہ زندہ کیسے ہیں؟”
اس کے باپ نے آٹا گوندھتے ہوئے کہا،
“ریاست انہیں زندہ رکھتی ہے۔”
“کیوں؟”
باپ نے ہاتھ روک دیے۔ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا،
“تاکہ وہ مر نہ جائیں… اور تاکہ وہ بغاوت بھی نہ کریں۔”
لوسیئس اس وقت نہیں سمجھا۔
مگر کچھ ہی دن بعد، وہ سمجھنے لگا۔
شہر میں اعلان ہوا کہ اگلے ہفتے عظیم کھیل ہوں گے۔ ہر شہری کو مفت اناج دیا جائے گا۔ گلیوں میں سپاہی اعلان کر رہے تھے، اور لوگ خوشی سے چیخ رہے تھے۔
کل تک یہی لوگ ٹیکسوں کی شکایت کر رہے تھے۔ آج وہ ریاست کی تعریف کر رہے تھے۔
لوسیئس نے دیکھا، ایک آدمی جو کل اس کے باپ سے جھگڑ رہا تھا، آج مسکرا رہا تھا۔
“شہنشاہ ہمارا خیال رکھتا ہے،” وہ کہہ رہا تھا۔
لوسیئس کو یہ عجیب لگا۔ اس آدمی کی غربت تو ویسی ہی تھی۔ اس کا گھر اب بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ اس کی زندگی نہیں بدلی تھی۔صرف اسے مفت اناج ملا تھا۔
کھیلوں کے دن، لوسیئس بھی ہجوم کے ساتھ میدان میں گیا۔ سورج تیز تھا، مگر لوگوں کو پرواہ نہیں تھی۔ ان کے ہاتھوں میں روٹی تھی، اور ان کے دلوں میں جوش۔
جب پہلا گلیڈی ایٹر میدان میں آیا، ہجوم پاگل ہو گیا۔ لوگ کھڑے ہو کر چیخ رہے تھے، جیسے وہ خود اس لڑائی کا حصہ ہوں۔لوسیئس نے اپنے ارد گرد دیکھا۔
یہ وہی لوگ تھے جو کل تھکے ہوئے، خاموش اور غصے میں تھے۔ آج وہ زندہ لگ رہے تھے۔
اس کے پاس بیٹھا ایک آدمی زور زور سے چیخ رہا تھا،
“اسے مار دو! اسے مار دو!”
اس کی آواز میں ایسی شدت تھی، جیسے اس کی اپنی زندگی کا فیصلہ ہو رہا ہو۔
لوسیئس نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ اس آدمی کے کپڑے پرانے تھے۔ اس کے ہاتھ مزدور کے ہاتھ تھے۔ اس کی زندگی مشکل تھی۔
مگر اس لمحے، وہ اپنی مشکلات بھول چکا تھا۔
اس کی توجہ صرف میدان پر تھی۔
جب خون بہا، ہجوم خوش ہوا۔
جب ایک گلیڈی ایٹر گرا، لوگوں نے تالیاں بجائیں۔
لوسیئس کے دل میں ایک عجیب بے چینی پیدا ہوئی۔
اس نے محسوس کیا کہ یہ صرف کھیل نہیں تھا۔
یہ کچھ اور تھا۔
اس نے دیکھا، اونچی نشستوں پر امیر لوگ خاموش بیٹھے تھے۔ وہ کم چیخ رہے تھے، کم جذباتی تھے۔ وہ صرف دیکھ رہے تھے۔
اور نیچے، غریب لوگ چیخ رہے تھے، ہنس رہے تھے، روٹی کھا رہے تھے۔
ان کے پاس سب کچھ نہیں تھا۔
مگر اس لمحے، انہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کے پاس سب کچھ ہے۔
کھیل ختم ہونے کے بعد، لوگ خوشی خوشی واپس جا رہے تھے۔
کوئی ٹیکس کی بات نہیں کر رہا تھا۔
کوئی غربت کی بات نہیں کر رہا تھا۔
کوئی سوال نہیں کر رہا تھا۔
صرف کھیل کی بات ہو رہی تھی۔
صرف خون کی بات ہو رہی تھی۔
صرف تفریح کی بات ہو رہی تھی۔
اس رات، لوسیئس نے اپنے باپ سے کہا،
“وہ ہمیں روٹی دیتے ہیں… اور کھیل دیتے ہیں…”
اس کا باپ خاموش رہا۔
لوسیئس نے آہستہ سے پوچھا،
“تاکہ ہم سوال نہ کریں؟”
اس کے باپ نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں فخر بھی تھا، اور اداسی بھی۔
“ہاں،” اس نے کہا۔
“بھوکا آدمی خطرناک ہوتا ہے۔ مگر وہ آدمی جس کا پیٹ بھرا ہو اور جس کا دماغ مصروف ہو… وہ کبھی بغاوت نہیں کرتا۔”
لوسیئس اس رات دیر تک جاگتا رہا۔
اس نے سوچا، ریاست لوگوں کو مارتی نہیں۔
وہ انہیں زندہ رکھتی ہے۔
اتنا زندہ کہ وہ کام کرتے رہیں۔
اتنا مطمئن کہ وہ سوال نہ کریں۔
اتنا مصروف کہ وہ سچ نہ دیکھ سکیں۔
اگلے دن، پھر اناج تقسیم ہوا۔
لوگ پھر قطار میں کھڑے تھے۔
ان کے چہرے پھر امید سے بھرے تھے۔
اور روم… پہلے کی طرح پرسکون تھا۔
کہانی کے بعد نپولین کا ایک قول : جس ریاست میں فیصلے اور اقتدار کی باگ ڈور فوج اور مفاد پرست تاجروں کے ہاتھ میں چلی جائے، وہاں کرپشن اور ناانصافی عام ہوجاتی ہے اور اس کا زوال یقینی ہوجاتا ہے ۔
ایک اور قول : ملک اس وقت تباہ نہیں ہوتے جب حکمراں جھوٹ بولتے ہیں بلکہ ملک اس وقت تباہ ہوتے ہیں جب لوگوں کو پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ حکمراں جھوٹ بول رہے ہیں ۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب ایک قول ہے کہ جب تاجر حکمراں بنے گا تو یقینا تباہی آئے گی ۔
چی گویرا نے کہا تھا کہ سر اٹھا کر جینے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے جبکہ سر جھکانے کا معاوضہ ملتا ہے ۔
چی گویرا کا ہی ایک اور قول ہے کہ جب دشمن آپ کی تعریف کرنا شروع کردے تو سمجھ جاؤ کہ آپ کے اپنوں میں کوئی غدار ہے ۔
مندرجہ بالا کہانی اور اقوال بہت کچھ سمجھاتے ہیں ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

