اسلام آباد(نمائندہ خصوصی ۔کرائم رپورٹر) ایف آئی اے اور پی ہوٹا ٹیم نے سیکٹر ایف 7 میں چھاپہ مار کر انسانی اعضا کی خرید و فروخت کے الزام میں غیر ملکی باشندوں سمیت 5 افراد کو گرفتار کرلیا۔ایف آئی اے کے مطابق چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں انسانی پلاسنٹا برآمد کرلیا گیا، تازہ خشک اور پراسیس شدہ پلاسنٹا کا ذخیرہ قبضے میں لے لیا گیا۔ایف آئی اے کے مطابق ملزمان اسپتالوں سے انسانی پلاسنٹا حاصل کرنے میں ملوث تھے، پلاسنٹا پشاور، راولپنڈی اور
لاہور کے اسپتالوں سے جمع کیا جاتا تھا، ملزمان پلاسنٹا کو بھیڑ کے اعضا ظاہر کرکے بیرون ملک بھجواتے تھے۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے وفاقی دارالحکومت میں انسانی اعضاء اور حیاتیاتی موا پروسیسنگ میں ملوث دو غیر قانونی تنصیبات کا پردہ فاش کرتے ہوئے سیکٹر F-7 اور E-11 میں چھاپوں کے دوران5مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے جمعہ کو اے پی پی کو بتایا کہ چھاپے مصدقہ انٹیلی جنس پر مارے گئے، جس کے نتیجے میں انسانی اعضاء اور حیاتیاتی مواد کی غیر قانونی پروسیسنگ میں مبینہ طور پر ملوث دو مراکز کو بے نقاب کیا گیا۔اہلکار نے بتایا کہ مشتبہ افراد اسے بیرون ملک خاص طور پر ویتنام کو برآمد کرنے سے پہلے پروڈکٹ کو "شیپ پلاسینٹا” کا جھوٹا لیبل لگا رہے تھے۔اہلکار کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیموں نے کارروائی کے دوران احاطے سے
پروسیسنگ مشینری، آلات اور پراسیس شدہ مواد کی ایک بڑی مقدار بھی برآمد کی ہے ۔اہلکار نے بتایا کہ گرفتار مشتبہ افراد کو جائے وقوعہ سے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ملزمان کے خلاف ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ (HOTA) 2010 کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور غیر قانونی کارروائی میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ایف آئی اے نے انسانی اعضاء اور حیاتیاتی مواد سے متعلق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
