اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی تکنیکی مذاکرات پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون میں پیشرفت کا انحصار تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی سے منسلک ہے۔بدھ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ایران کے لئے پابندیوں میں نرمی کا راستہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔انہوں نے اس عمل کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذاکرات آگے بڑھتے ہوئے تعمیری نتائج پیدا کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات میں عارضی وقفہ آیا ہے تاہم یہ بات چیت آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کا جاری رہنا بذاتِ خود ایک حوصلہ افزا علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت مثبت پیشرفت ہے کہ دونوں فریق مذاکرات میں مصروف ہیں اور بات چیت کی میز پر موجود ہیں۔آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ سفارتی کوششوں میں پیشرفت کے ساتھ کشیدگی میں کمی آنے کا امکان ہے تاہم
انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں معمول کی سرگرمیوں کی مکمل بحالی میں آپریشنل تقاضوں کے باعث کچھ وقت لگ سکتا ہے۔آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی ) کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور علاقائی مسائل کے علاقائی حل پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورہ پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ سمیت متعدد امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دوطرفہ اقتصادی منصوبوں اور تجارتی توسیع میں پیشرفت ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ اقتصادی منصوبوں کی مجموعی پیشرفت اور تجارت کے فروغ کا عمل امریکا کی جانب سے پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھے گا۔ترجمان نے کہا کہ ایرانی صدر کے دورے کا ایک اہم نتیجہ دونوں ممالک کی جانب سے امن، استحکام اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کے عزم کا اعادہ تھا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا جس پر پاکستان ان کا شکر گزار ہے۔ایران کے لئے 300 ارب ڈالر کے مجوزہ مالیاتی پیکج سے متعلق سوال کے جواب میں طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اس معاملے پر سوئٹزرلینڈ میں جاری تکنیکی سطح کے مذاکرات کے دوران غور کئے جانے کی توقع ہے۔افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دوطرفہ روابط سے متعلق اپنی بیشتر ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ذاتی طور پر اس عمل کی نگرانی کی ہےتاہم انہوں نے کہا کہ بعد میں بعض پیش رفتوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں میں مشکلات پیدا کیں۔انہوں نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر سفارتکاری کو آگے بڑھنا ہے تو اس کا نقطہ آغاز افغانستان کی جانب سے یہ واضح یقین دہانی ہونی چاہیے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہوگی۔ترجمان نے زور دیا کہ افغانستان کے عوام پاکستانی عوام کے برادر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے عوامی روابط موجود ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں طاہر حسین اندرابی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت کے فروغ میں چین کے تعمیری کردار کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے لئے چین کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گاانہوں نےکہا کہ افغانستان کے حوالے سے ہماری مصروفیات جاری ہیں اور اس مسئلے کا سادہ حل یہ ہے کہ افغان فریق بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کرے۔ایران کے مرحوم سپریم لیڈر شہید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستان کی نمائندگی سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ پاکستان کی جانب سے اس تقریب میں کون شرکت کرے گا۔

