کراچی ( نمائندہ خصوصی)شہر بھر میں خستہ حال عمارتوں، سڑکوں، چوراہوں، فلائی اوورز اور اہم شاہراہوں پر نصب بڑے اور بھاری اشتہاری بل بورڈز شہریوں کی جان و مال کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں، تیز ہواؤں، بارشوں اور خستہ حال ڈھانچوں کے باعث یہ بل بورڈز کسی بھی وقت گر کر بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتے ہیں، مگر متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شہری شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔متعدد ہیوی بل بورڈز تکنیکی معیار، حفاظتی اصولوں اور انجینئرنگ تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نصب کیے گئے ہیں، کئی مقامات پر ان
کے لوہے کے فریم زنگ آلود ہو چکے ہیں، جبکہ بنیادیں بھی کمزور دکھائی دیتی ہیں، اس کے باوجود نہ تو ان کا باقاعدہ معائنہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی غیر محفوظ ڈھانچوں کو فوری طور پر ہٹایا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق شدید بارش، آندھی یا طوفانی ہواؤں کے دوران ایسے بل بورڈز گرنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جس سے راہگیر، موٹر سائیکل سوار، گاڑیاں اور قریبی عمارتیں متاثر ہو سکتی ہیں، ماضی میں بھی بل بورڈز گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصان کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، لیکن ان حادثات سے خاطر خواہ سبق نہیں سیکھا گیا۔بااثر اشتہاری کمپنیوں کے خلاف کارروائی سے متعلقہ ادارے گریز کرتے ہیں، جس کے باعث غیر قانونی اور غیر محفوظ بل بورڈز بدستور قائم ہیں، قانون کی عملداری صرف کمزور افراد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر شخص اور ہر ادارے کو یکساں احتساب کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔سماجی تنظیموں اور شہری نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں نصب تمام ہیوی بل بورڈز کا فوری سیفٹی آڈٹ کرایا جائے، غیر قانونی اور خطرناک ڈھانچوں کو بلا تاخیر ہٹایا جائے، ذمہ دار افسران اور کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، اور آئندہ صرف انجینئرنگ معیار اور حفاظتی ضوابط پر پورا اترنے والے اشتہاری ڈھانچوں کو ہی نصب کرنے کی اجازت دی جائے۔اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی بڑے حادثے کے بعد صرف انکوائریاں اور بیانات رہ جائیں گے، جبکہ قیمتی انسانی جانوں کا نقصان کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔

